افغانستان کے صوبہ بدخشان کے ضلع نُسی میں طالبان فورسز اور منحرف طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کے حامی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے علاقے میں شہریوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی تصدیق کی ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کے مطابق اسے لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کے حوالے سے تاحال قابلِ تصدیق معلومات نہیں مل سکیں۔
🚨 Afghanistan United Front Strike in Faryab 🇦🇫
Last night, Afghanistan United Front forces launched a powerful attack on a Taliban outpost in Melghi, Bandar District, Faryab.
After intense clashes:
• 🔴 2 Taliban militants eliminated
• 🟠 4 Taliban militants injured… pic.twitter.com/klUa7xWqoK— Warriors Land⚔️ (@Warriors_70) August 16, 2026
یوناما نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہونے پر تازہ صورت حال سے آگاہ کرے گا۔ ضلع نُسی اور گردونواح میں جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور گھروں کی تلاشی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاجکستان نے بھی تصدیق کی ہے کہ افغان حدود سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان تاجک خاتون ہلاک ہوئی۔
دوسری جانب افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بدخشان کے ضلع زیباگ میں طالبان کے ٹھکانوں پر ’پیشگی حملہ‘ کیا۔ تنظیم کے مطابق طالبان کی جانب سے حملے کی تیاری کے بعد اس کے جنگجوؤں نے مورٹار گولوں سے اگلی صفوں میں موجود طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد طالبان جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے، تاہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ طالبان نے اس دعوے پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بدخشاں میں جمعہ خان فتح کا طالبان کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان، جھڑپوں میں کئی طالبان اہلکار ہلاک اور گرفتار
افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق طالبان نے بدخشان میں مسلح مخالف گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے ہزاروں فوجی تعینات کیے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے علاقے میں شہریوں کی ہلاکتوں یا دیگر نقصانات سے متعلق تاحال کوئی تصدیق شدہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔ لڑائی کے باعث شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔











