اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما سیمابیہ طاہر کی پیکا مقدمے میں عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے فریقین سے آئندہ سماعت پر تفصیلی دلائل طلب کرلیے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے سیمابیہ طاہر کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ درخواست گزار اپنے وکلا ملک فیصل اور شمسہ کیانی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ شکایت کنندہ انیس الرحمن کو نوٹس نہیں ہوئے؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نوٹس نہیں ہوا، شکایت کنندہ کو آئندہ سماعت پر بلا لیتے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے ایف آئی آر کا متن پڑھتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ٹویٹ کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا، تاہم ایف آئی آر میں ٹویٹ کی تاریخ اور وقت درج نہیں۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ مقدمے میں سزا کتنی ہے؟ وکیل نے بتایا کہ 2 دفعات قابل ضمانت ہیں جبکہ پیکا کی دفعہ 10 ناقابل ضمانت ہے، جس میں 14 سال تک قید کی سزا ہے۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ مکمل طور پر بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہے، سیمابیہ طاہر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی نجی شکایت کنندہ نہیں بلکہ ایف آئی اے کا ٹیکنیکل اسسٹنٹ شکایت کنندہ ہے۔
وکیل نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سیمابیہ طاہر کی ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام دفعات قابل ضمانت ہیں۔
مزید پڑھیں:جوڈیشل کمیشن نے سندھ، اسلام آباد ہائیکورٹس کے لیے 6 ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کردی
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے عدم پیشی پر سیمابیہ طاہر کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی، پہلی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد دوبارہ دائر کی گئی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا، دوسری مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے اور عدالت کی رہنمائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔













