نئے صوبے بنیں یا نہیں؟ سوشل میڈیا پر صارفین کی آرا منقسم

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی بحث ایک بار پھر زور پکڑنے لگی ہے جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس معاملے پر آرا سامنے آ رہی ہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی تجویز پیش کی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے بھی نئے صوبوں کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نئے صوبے صرف آئین اور قانون کے مطابق ہی بنائے جانے چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے محسن نقوی کی قابلیت پر کوئی شک نہیں، اگر وہ چاہیں تو نئے صوبے بن جائیں گے، مفتاح اسماعیل

سوشل میڈیا صارف صدیق ساجد نے بھی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے جاری بحث کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ایک صحت مند بحث کا آغاز ہو چکا ہے جو اب رکنے والی نہیں۔ ان کے مطابق اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے تاہم اتفاقِ رائے سے نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تو اس کے فوائد پورے ملک کو حاصل ہوں گے۔

سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ آئین کے اندر رہ کر نئے صوبے ضرور بنائیں لیکن نئے صوبوں کے نام پر پاکستان کے موجودہ صوبوں کی شناخت مت چھینیں، دو صوبوں میں پہلے سے بد امنی پھیلی ہوئی ہے ایک اور صوبے میں نفرتوں کی آگ بھڑکنے کا فائدہ بھارت اٹھائے گا جس کے قومی ترانے میں آج بھی سندھ شامل ہے۔

بشارت راجہ لکھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے صوبے بنانے کے حوالے سے پاکستانی عوام متفق ہے۔

مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا کہ نئے صوبے یا یونٹس بنانا مسائل کا واحد حل نہیں۔ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی ادارے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کر سکتے ہیں۔ پنجاب نے اسی سمت عملی قدم اٹھاتے ہوئے تقریباً 12.5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اصل ضرورت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر عوامی خدمت ہے۔

عارف حمید بھٹی نے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بناننے کی باتیں عام ہیں پر تعجب ہے دو جماعتیں جنکی بظاہر حکومت ہے وہ اندر خانے نئے صوبوں کی مخالفت کررہی ہیں ،حکومتی اتحادی جاعتوں کےاسمبلیوں کی منظوری کے بغیر صوبے کیسے بنے گے۔

واضح رہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق موجودہ سیاسی بحث کا آغاز گزشتہ ماہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کے بعد ہوا جب انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ ملک کو درپیش اہم قومی مسائل کے حل کے لیے سیاسی قوتیں مل بیٹھیں اور مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھائیں۔

یہ بھی پڑھیں: آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم

وفاقی وزیر داخلہ نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے کو بھی ان اہم قومی امور میں شامل کیا اور موجودہ نظامِ حکمرانی کو ’ناکارہ‘ قرار دیتے ہوئے سیاسی مذاکرات کو مسائل کے حل کا مؤثر راستہ قرار دیا۔

محسن نقوی کے بیان کے بعد پاک فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے بھی حکمرانی کے نظام میں انتظامی تبدیلیوں پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp