صوبوں کی بحث اشرافیہ کو مبارک، میرے پیش نظر سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کے غیر منتخب، بیووروکریٹ وزیر اعلیٰ کا اقتدار کب ختم ہو گا؟
یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اسلام آباد تو ایک صوبہ ہی نہیں، پھر اس کا وزیر اعلیٰ کہاں سے آ گیا؟ تو جناب بھلے اسلام آباد ایک صوبہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہاں ایک عدد وزیر اعلیٰ موجود ہے۔ اس کو چیف کمشنر کہا جاتا ہے۔
کہنے کو وہ ایک سرکاری ملازم ہیں لیکن اسلام آباد انتظامیہ کی آفیشل ویب سائٹ ہمیں بتاتی ہے کہ چیف کمشنر صاحب اپنے اختیارات بطور نمائندہ صوبائی حکومت استعمال کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کو تو پھر ایک عدد حزب اختلاف کا سامنا ہوتا ہے، چیف کمشنر صاحب کی تو کوئی حزب اختلاف بھی نہیں۔ وزیر اعلیٰ کو تو ایک اسمبلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چیف کشمنر صاحب کے سامنے صرف ماتحت پائے جاتے ہی۔ کوئی قائد حزب اختلاف بھی نہیں ہوتا جو رنگ میں بھنگ ڈال سکے۔ منتخب وزرائے اعلیٰ تو برائے وزن بیت ہی ہیں، اصل مزے تو اس غیر منتخب وزیر اعلیٰ کے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے
حیران کن بات یہ ہے کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر کو وزیر اعلیٰ جیسے اختیارات نہ آئین نے دیے ہیں نہ کسی پارلیمان نے۔ چیف کمشنر کی شکل میں صوبائی حاکم کا یہ بندوبست نو آبادیاتی دور میں، سنہ 1897 میں، جنرل کلاز ایکٹ کے ذریعے متعارف کرایا گیا۔ ہم نے آج تک اسے سینے سے لگا کر رکھا ہے۔
ہم نے سنہ 1980 میں ایک صدارتی انتظامی حکم نامے کے تحت اسلام آباد ایک غیر منتخب بیوروکریٹ کے حوالے کیا اور پھر بھول ہی گئے کہ جمہوریت بھی کسی چڑیا کا نام ہوتا ہے۔
کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں ۔ آئین می کئی ترامیم ہوئیں، نظام کے خدوخال کتنی ہی بار سنوارے گئے، جمہوریت کے اقوال زریں صبح شام گنگنا گنگنا کر سنائے گئے لیکن کسی نےا س سوال پر آج تک غور نہیں کیا کہ ایک سرکاری ملازم کو جو غیر منتخب ہوتا ہے، ایک وزیر اعلیٰ جیسے اختیارات کیسے دیے جا سکتے ہیں۔
اسلام آباد پاکستان کا وہ واحد، اکلوتا شہر ہے جس کے مکینوں کے پاس صوبائی اسمبلی کا ووٹ دینے کا کوئی حق ہی نہیں۔ یہاں سے سینیٹر تو بنائے جاتے ہیں لیکن انہیں ووٹ دینے کے لیے یہاں کی کوئی صوبائی اسمبلی نہیں ہے۔
مقامی حکومت یہاں ویسے ہی نہیں ہے۔ صوبائی اسمبلی یہاں ابھی بن ہی سکتی ۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سوتیلا پن شہر کی رگوں میں اتر آیا ہے۔
مزید پڑھیے: کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟
شہری اسلام آباد ( یعنی آباد کاروں کا اسلام آباد) تو پھر اشرافیہ پر مشتمل ہے ا س کی تو کچھ نہ کچھ سن ہی لی جاتی ہے لیکن دیہی اسلام آباد تو لاوارث ہو چکا ہے۔ دیہی اسلام آباد کے ریڈ انڈینز میں سے کس کی مجال ہے کہ چیف کمشنر کے دفتر جا کر ان کی صرف زیارت ہی کر لے، ملاقات تو دور کی بات ہے۔
شہری اسلام آباد کل شہر کا صرف 30 فیصد ہے لیکن 90 فیصد سے زیادہ بجٹ کھا جاتا ہے اور ریڈ انڈین کا اسلام آباد شہر اقتدار کا 70 فیصد ہے لیکن اس کے حصے میں 10 فیصد بھی نہیں آتا۔
چنانچہ آباد کاروں کے اسلام آباد سے روزانہ 9 ہزار میٹرک ٹن کوڑا اٹھایا جاتا ہے لیکن ریڈ انڈین کے اسلام آباد سے کوڑا اٹھانے کا سرے سے کوئی بندوبست ہی نہیں۔ کسی کو یقین نہ آئے تو اسلام آباد کے دیہی علاقے ترامڑی کا ایک چکر لگا آئے۔
مقامی دیہی آبادی کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ ایک انسانی المیہ ہے۔ نہ اچھے تعلیمی ادارے ہیں ، نہ پینے کا صاف پانی ہے۔ نہ ان لوگوں کی افسر شاہی تک رسائی ہے کہ جا کر بات کر سکیں اور نہ کوئی مقامی یا صوبائی حکومت ہے جو ان کے مسائل کو سمجھے۔ شہر سی ڈی اے کے حوالے ہے اور سی ڈی اے کامقامی دانش اور مقامی مسائل سے کچھ لینا دینا ہی نہیں۔ وہ صرف اشرافیہ کےچند سیکٹروں کی کنیز ہے اور ان ہی کی خدمت گزاری کرتی رہتی ہے۔
نئے انتظامی یو نٹس اور صوبوں کی بات ہو تو اہل سیاست خفا ہو جاتے ہیں لیکن ادھر یہ بے نیازی ہے کہ ملک کا دارالحکومت ایک غیر منتخب بیوروکریٹ کے حوالے کر رکھا ہے اور اسے وزیر اعلیٰ کے اختیارات دے رکھے ہیں۔
نچلی سطح پر عوام تک اختیارات کی تقسیم سے ہمارے اہل سیاست اس قدر خوف زدہ ہیں کہ اسلام آباد میں مقامی حکومت بنی تو اس کے میئر کے پاس ایک روپہے کا بجٹ نہیں تھا۔ کسی نے اس کو بجٹ دیا بھی نہیں۔ سارا بجٹ سی ڈی اے پاس تھا ۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ بجٹ سی ڈی اے سے لے کر اسلام آباد کی منتخب حکومت کے حوالے کیا جاتا۔ لیکن وفاقی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ اس نے یہ کیا کہ میئر کو چیئر مین سی ڈی اے کے اختیارات بھی دے دیے تا کہ وہ بجٹ استعمال کر سکے۔ یعنی کبھی الیکشن ہو ہی جائیں اور منتخب میئر کبھی دوسری جماعت کا آ جائے تو وفاقی حکومت اس کو چیئر میں سی ڈی اے کا اضافی چارج نہ دے تو میئر صاحب ایک روپے کا ترقیاتی کام نہیں کروا سکتے۔
مزید پڑھیں: جاوید ہاشمی جواب دیں
اندریں حالات استدعا یہ ہے کہ صوبے بنائیں یا نہ بنائیں۔ لیکن اسلام آباد کے اس غیر منتخب وزیر اعلیٰ کو واپس لے جائیں۔ ہائیکورٹ صوبوں میں ہوتی ہےا ور اسلام آباد میں ہائیکورٹ موجود ہے۔ بار کونسل بھی صوبوں کی ہوتی ہے اور اسلام آباد میں بار کونسل بھی ہے۔ آئی جی بھی صوبے کا ہتا ہےا ور اسلام آباد میں آئی جی ہے تو اسلام آباد کو ایک صوبہ کیوں نہیں بنایا جا سکتا اور وزیر اعلیٰ کے اختیارات ایک بیوروکریٹ سے لے کر ایک عوامی نمائندے کو کیوں نہیں دیے جا سکتے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













