سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاکستان کے پہلے کورٹ اینکسڈ میڈی ایشن سینٹر کا افتتاح کردیا گیا جس کا مقصد موزوں مقدمات میں فریقین کو عدالت کی معاونت سے ثالثی کے ذریعے تنازعات کا بروقت، کم خرچ اور باہمی رضامندی سے حل فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کے تعین کا معاملہ، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
کورٹ اینکسڈ میڈی ایشن سینٹر یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔ یہ مرکز ایسے مقدمات میں سائلین کو تنازعات کے حل کے لیے ایک منظم فورم فراہم کرے گا جہاں ثالثی کے ذریعے معاملہ طے کیا جاسکتا ہو۔
میڈی ایشن روایتی مقدمہ بازی کے بجائے تنازعات کے حل کا ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے جس میں فریقین کو اپنے تنازع کے قابلِ قبول نتیجے پر اختیار برقرار رہتا ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ فریقین کے باہمی تعلقات کو بھی محفوظ رکھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
میڈی ایشن سینٹر کی افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے معزز ججز نے شرکت کی۔ تقریب میں سپریم کورٹ کی متبادل حلِ تنازعات (اے ڈی آر) کمیٹی، اے ڈی آر ٹاسک فورس، بار کے نمائندگان، ایکریڈیٹڈ میڈی ایٹرز اور سپریم کورٹ کے افسران بھی شریک ہوئے۔
یورپی یونین کے سفیر، یو این ڈی پی کے نمائندگان، سیکریٹری وزارت قانون و انصاف اور چیئرمین ایف بی آر بھی تقریب میں موجود تھے۔ سپریم کورٹ اے ڈی آر کمیٹی اور یورپی یونین و یو این ڈی پی کے نمائندگان نے چیف جسٹس آف پاکستان کی موجودگی میں میڈی ایشن سینٹر کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی۔
اے ڈی آر کمیٹی اور نظامِ انصاف میں اصلاحات
سپریم کورٹ کی اے ڈی آر کمیٹی کی سربراہی جسٹس شاہد وحید کر رہے ہیں جبکہ جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اس کے ارکان ہیں۔
مزید پڑھیے: سپریم کورٹ کے 2 اہم فیصلے: خلع کا حق آئینی قرار، جعلی نکاح نامے سے جائیداد ہتھیانے کی کوشش ناکام
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پاکستان کے نظامِ انصاف میں جامع متبادل حلِ تنازعات کے نظام کے قیام کے سفر پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ میڈی ایشن کو ادارہ جاتی شکل دینا سائلین کے لیے تنازعات کے حل کے مواقع وسیع کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متبادل حلِ تنازعات کے مؤثر نظام سے ایسے معاملات کو عدالتوں میں طویل مقدمہ بازی کے بجائے باہمی رضامندی سے حل کرنے کے امکانات پیدا ہوں گے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ میڈی ایشن سائلین کو بروقت، کم خرچ اور مؤثر داد رسی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈی ایشن غیر ضروری مقدمہ بازی میں کمی اور تنازعات کے جلد حل میں معاون ثابت ہوگی جبکہ اس سے عدالتی وسائل کو ایسے مقدمات پر مرکوز رکھنے میں بھی مدد ملے گی جن میں باقاعدہ عدالتی فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کورٹ اینکسڈ میڈی ایشن سینٹر عدالتی بوجھ کم کرنے اور تنازعات کے جلد حل میں معاون ہوگا۔
یورپی یونین اور یو این ڈی پی کا تعاون جاری رکھنے کا عزم
یورپی یونین اور یو این ڈی پی کے نمائندگان نے پاکستان میں انصاف کے شعبے کی اصلاحات کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
نمائندگان کے مطابق میڈی ایشن اور متبادل حلِ تنازعات کے طریقہ کار سے انصاف تک رسائی بہتر بنانے اور عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈی ایشن تنازعات کے بروقت اور فریقین کے لیے باہمی طور پر قابلِ قبول حل تک پہنچنے میں معاون ہے اور اس کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔
سپریم کورٹ اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت
کورٹ اینکسڈ میڈی ایشن سینٹر کے پائیدار آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت مرکز کو تکنیکی معاونت، استعدادِ کار میں اضافے اور آپریشنل تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ میڈی ایشن کے نظام کو مؤثر اور پائیدار بنیادوں پر چلایا جاسکے۔
سپریم کورٹ کے مطابق کورٹ اینکسڈ میڈی ایشن سینٹر عدالت عظمیٰ کے وسیع تر عوام مرکز اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا ٹیکس دہندگان کے حق میں اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انصاف کی فراہمی کو زیادہ بروقت، کم خرچ، قابلِ رسائی اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔














