وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزارت صحت کے تمام ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ لازمی قرار دے دی گئی ہے، جبکہ ٹیسٹ نہ کرانے والے ملازمین کی آئندہ ماہ سے تنخواہیں روک دی جائیں گی۔
وفاقی وزیر صحت اسلام آباد میں وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے خود بھی ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ کرایا جو منفی آیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے ہدف کے لیے فیصلہ کن اقدامات ضروری ہیں، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دیگر وزارتوں کے ملازمین کے لیے بھی ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ لازمی کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ وزارتوں کو خطوط ارسال کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا پروگرام مرحلہ وار شروع کیا جائے گا، جس کا آغاز اسلام آباد سے کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں اسکریننگ کے لیے 17 مراکز قائم کیے ہیں، جبکہ نجی اسپتالوں میں بھی ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نجی اسپتالوں کو ٹیسٹنگ کے آلات اور کٹس بھی فراہم کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی یومِ ہیپاٹائٹس: صدر اور وزیراعظم کا 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
انہوں نے کہا کہ ملک میں ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ انتہائی تشویش کا باعث ہے، تاہم مؤثر علاج اور عوام میں آگاہی کے ذریعے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام میں تمام صوبوں کو شامل کرنے کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی یہ پروگرام شروع کیا جائے گا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں تقریباً 12.9 ملین افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں، جن میں 9 ملین ہیپاٹائٹس سی جبکہ 3.8 ملین ہیپاٹائٹس بی کے مریض شامل ہیں۔ پاکستان میں ہر سال ہیپاٹائٹس کے قابل علاج اور قابل روک تھام انفیکشنز کے باعث 48 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔














