امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے تہران کو سفید جھنڈا لہرا کر ہتھیار ڈال دینے چاہییں جبکہ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان پیر کو فاکس نیوز سے گفتگو میں دیا جس میں انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ان کی حکمت عملی کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں اور وہ تنازع ختم کرنے کی جلدی میں نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ان کا کہنا ہے کہ امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات بھی ایران کے حوالے سے ان کی سوچ یا فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست پس پردہ رابطے کا ایک چینل موجود ہے جس میں ایران کی پاسداران انقلاب سے وابستہ حکام بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ایرانی حکام کو اچھے پوکر کھلاڑی قرار دیا تاہم ساتھ ہی کہا کہ وہ ’ختم ہو رہے ہیں‘۔

ایران کا جوہری پروگرام، ٹرمپ کی پہلی ترجیح

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت اور کسی بھی شکل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

امریکی صدر نے اسے اپنی ’اولین ترجیح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقصد پہلے بھی ان کی ترجیح تھا اور آئندہ بھی رہے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دوسری جانب کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک میں 60 دن کی کوئی ایسی لازمی مدت مقرر نہیں تھی جس کی بنیاد پر تہران کی پالیسی طے کی جائے۔

ان کے مطابق مفاہمت میں صرف پابندیاں اٹھانے اور جوہری معاملے پر مذاکرات کے لیے 60 دن کا عرصہ زیرِ بحث آیا تھا جسے ضرورت پڑنے پر باہمی رضامندی سے بڑھایا بھی جاسکتا تھا۔ بقائی نے امریکا پر مفاہمت کی کھلی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے مذاکرات کا عمل متاثر ہوا۔

آبنائے ہرمز پر عمان کے لیے بھی سخت انتباہ

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے معاملے پر جاری مذاکرات کے بارے میں بھی ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کیا۔

امریکی صدر نے عمان کو خبردار کیا کہ اگر وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنا تو امریکا اس کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستے کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے۔ تاہم تہران کے مطابق کسی مخصوص بحری راستے پر اتفاق کا مطلب یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز معمول کے مطابق مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔

اسلام آباد مفاہمت اور 60 روزہ مذاکرات

امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک کے تحت فریقین نے فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام، امریکی پابندیوں اور مستقل جنگ بندی سمیت وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم 60 روزہ مذاکراتی مدت پیر کو ختم ہوگئی اور دونوں ملک کسی حتمی امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ایران اس مدت کو اب غیر مؤثر قرار دے رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ مفاہمت اس وقت برقرار نہیں رہ سکتی جب اس کی شرائط کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔

پاکستان کا سفارتی کردار

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان اور قطر نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کی کوششیں کی ہیں جبکہ اسلام آباد میں دونوں فریقوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے بھی ہوچکے ہیں۔

اس کے بعد پاکستان اور قطر نے سوئٹزرلینڈ میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کی بات چیت میں معاونت کی تھی جس کے بعد دونوں ممالک نے سفارتی کوششوں میں پیشرفت کا عندیہ دیا تھا۔

تاہم اب آبنائے ہرمز کا معاملہ مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ ایران امریکا سے پابندیاں اٹھانے، ایرانی اثاثے بحال کرنے اور امریکی فوجی دباؤ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ تجارتی آمدورفت اور ایران پر دباؤ برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ اس اہم بحری راستے سے تیل اور گیس کی ترسیل میں نمایاں رکاوٹ نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے جبکہ پیر کو خام تیل کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بعد ازاں کہا کہ اگر ایران مفاہمتی یادداشت کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے خصوصاً آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی سے متعلق شقوں کی تو یہ مفاہمتی یادداشت اپنی موجودہ شکل میں برقرار نہیں رہ سکتی۔ تاہم روبیو نے ساتھ ہی کہا کہ واشنگٹن حقیقی اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کے لیے اب بھی تیار ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران سے محدود سطح پر مذاکرات کررہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

یوں ایک طرف ٹرمپ ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور دوسری جانب تہران 60 روزہ مدت کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اپنے مطالبات پر قائم ہے۔ اس صورتحال میں آبنائے ہرمز پر جاری سفارتی سرگرمیاں خطے میں تنازع کے اگلے مرحلے کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp