27 فیصد نوجوان مصنوعی ذہانت کو دوست سمجھ کر ذاتی مسائل پر بات کرتے ہیں، تحقیق

منگل 18 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جنریشن زی کے ایک چوتھائی سے زائد افراد مصنوعی ذہانت (AI) سے ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے کسی دوست سے بات کر رہے ہوں۔ نوجوان AI کو معلومات اور تعلیم کے ساتھ ساتھ جذباتی سہارا اور ذاتی معاملات پر مشورے کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔

کاسپرسکی کی جانب سے 7 ہزار 200 افراد پر کیے گئے عالمی سروے کے مطابق جنریشن زی دیگر نسلوں کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت کا زیادہ فعال استعمال کرتی ہے۔ سروے میں 27 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ AI کو دوست کی طرح استعمال کرتے ہیں، جو اس رجحان کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت محض کام انجام دینے والے ٹول کے بجائے جذباتی مدد اور رفاقت کے ایک ذریعے کے طور پر بھی سامنے آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت کے مشورے پر عمل، چینی کسان کی 25 ایکڑ فصل تباہ

تحقیق کے مطابق جنریشن زی کے 28 فیصد افراد ایسے ذاتی مسائل پر بھی AI سے مشورہ کرتے ہیں جنہیں وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ تقریباً نصف، یعنی 47 فیصد شرکا نے بتایا کہ وہ روزانہ یا باقاعدگی سے AI استعمال کرتے ہیں، جو تمام عمر اور سماجی گروپس میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ نوجوانوں میں 56 فیصد نے AI سے معلومات حاصل کرنے، 49 فیصد نے تعلیم، 47 فیصد نے نئے خیالات پیدا کرنے اور 39 فیصد نے کام کے لیے اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا۔

تاہم مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود نوجوانوں کی بڑی تعداد اس سے وابستہ سیکیورٹی خطرات کو کم سمجھتی ہے۔ صرف 42 فیصد جین زی صارفین باقاعدگی سے حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہیں، جن میں قابل اعتماد ذرائع سے معلومات کی تصدیق اور حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز شامل ہے۔ مزید 52 فیصد افراد یہ احتیاطیں صرف کبھی کبھار کرتے ہیں، جبکہ 6 فیصد کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت کی کہانیاں انسانی تحریروں پر بازی لے گئیں، نئی تحقیق کے حیران کن نتائج

کاسپرسکی کے اے آئی ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے گروپ مینیجر ولادیسلاو تشکانوف نے کہا کہ جنریشن زی مصنوعی ذہانت میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کو دیگر نسلوں کے مقابلے میں بہتر طور پر سمجھتی ہے اور اسے روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ AI سے ذاتی نوعیت کی گفتگو کو نجی یا مکمل طور پر قابل اعتماد گفتگو نہیں سمجھنا چاہیے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ AI سے حاصل ہونے والی معلومات کی تصدیق کریں اور اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp