ایک نئی تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ قارئین نے مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی لکھی ہوئی کہانیوں کو انسانوں کی تحریروں سے زیادہ پسند کیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ کہانیاں کسی انسان نے لکھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف
عالمی میڈیا کے مطابق یہ تحقیق کیمبرج یونیورسٹی پریس میں شائع ہوئی جس میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ آیا 18 سے 81 سال کی عمر کے افراد مختصر افسانوں میں انسان اور اے آئی کی تحریر میں فرق کر سکتے ہیں یا نہیں۔
امریکا کی ویلانووا یونیورسٹی کے محققین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق کے مطابق شرکا زیادہ تر مواقع پر یہ پہچاننے میں ناکام رہے کہ کون سی کہانی انسان نے لکھی ہے اور کون سی چیٹ جی پی ٹی نے تخلیق کی ہے۔
تحقیق کی سینیئر مصنفہ ڈاکٹر دینا وائسبرگ نے کہا کہ عوام میں اے آئی کی صلاحیتوں کے بارے میں موجود بہت سے تصورات اب پرانے ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تخلیقی تحریر کے لیے جذباتی شعور، ذاتی تجربات اور انسانی احساسات ضروری ہوتے ہیں اس لیے لوگ اے آئی کی تخلیقی صلاحیتوں کو کم سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا
تحقیق کے دوران شائع شدہ مصنفین کی لکھی ہوئی 3 مختصر کہانیوں کے ساتھ چیٹ جی پی ٹی سے تیار کرائی گئی تین کہانیاں بھی شامل کی گئیں۔
پہلے مرحلے میں 1,682 شرکا کو ایک کہانی پڑھنے کے لیے دی گئی۔ بعض افراد کو درست اور بعض کو غلط بتایا گیا کہ یہ کہانی انسان یا اے آئی نے لکھی ہے جس کے بعد ان سے کہانی کی دلچسپی اور معیار کے بارے میں رائے لی گئی۔
دوسرے اور تیسرے مرحلے میں بالترتیب 424 اور 481 شرکا کو ایک انسانی اور ایک اے آئی کی لکھی ہوئی کہانی دی گئی مگر انہیں مصنف کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد ازاں ان سے پوچھا گیا کہ کون سی کہانی اے آئی کی تخلیق ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن کہانیوں کے بارے میں شرکا کو بتایا گیا کہ وہ انسان نے لکھی ہیں انہیں سب سے زیادہ پسند کیا گیا حالانکہ ان میں سے کئی دراصل اے آئی کی تیار کردہ تھیں۔
ڈاکٹر دینا وائسبرگ کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں میں اب بھی انسانی مصنفین کے حق میں ایک ذہنی رجحان موجود ہے حالانکہ وہ عملی طور پر دونوں میں فرق نہیں کر پاتے۔
مزید پڑھیں: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو افراد مصنوعی ذہانت کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتے تھے وہ اے آئی کی لکھی ہوئی تحریروں کی شناخت نسبتاً بہتر انداز میں کر سکے جبکہ ادب کے ماہر ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد کو اس حوالے سے کوئی خاص برتری حاصل نہ تھی۔
شرکا سے ان کے ادبی مطالعے اور اے آئی پلیٹ فارمز کے استعمال کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے جن کے بعد اے آئی سے تیار کردہ کہانیوں کو مجموعی طور پر معیار کے لحاظ سے زیادہ نمبر دیے گئے۔
محققین کے مطابق اے آئی کی تحریریں عموماً زیادہ واضح، براہ راست اور آسان زبان میں ہوتی ہیں جبکہ انسانی تحریروں میں زیادہ باریکیاں، پیچیدگی اور معنوی گہرائی پائی جاتی ہے جنہیں سمجھنے کے لیے زیادہ ذہنی توجہ درکار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تخلیق کا سفر ذہن سے شروع ہوتا ہے مصنوعی ذہانت سے نہیں، 9 برس کی عمر میں ناول نگار بننے والی ایمن رحمان
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے عام قارئین نسبتاً سادہ اور آسانی سے سمجھ آنے والی تحریروں کو زیادہ پسند کرتے ہوں اسی لیے اے آئی کی کہانیوں کو بہتر درجہ بندی ملی۔














