فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا کے خلاف امریکا میں تاریخی مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی نے نوجوانوں کو اپنے پلیٹ فارمز کا عادی بنانے کے لیے دانستہ طور پر ڈیزائن کیا۔
امریکی ریاستوں کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی نے میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے والے فیچرز متعارف کرائے اور ان خطرات کو عوام سے چھپایا۔ مقدمے کی سماعت منگل کو کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں ڈسٹرکٹ جج یوون گونزالیز راجرز کی سربراہی میں شروع ہوئی، جو کئی ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
کیلیفورنیا کی ڈپٹی اٹارنی جنرل میگن او نیل نے ابتدائی دلائل میں کہا کہ میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز کو اس طرح تیار کیا کہ صارفین زیادہ سے زیادہ وقت ان پر گزاریں، ان کا ڈیٹا حاصل کیا جائے اور عوام کو ممکنہ نقصانات سے آگاہ نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی خاص طور پر بچوں کے لیے مؤثر ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے برطانیہ میں نوجوانوں کے لیے مڈ نائٹ سوشل میڈیا کرفیو کی تجویز
مقدمہ دائر کرنے والی ریاستوں کا مؤقف ہے کہ میٹا نے نوجوانوں میں ذہنی صحت کے بحران میں کردار ادا کیا، کیونکہ کمپنی نے ایسے فیچرز متعارف کرائے جو بچوں کو پلیٹ فارم کا عادی بناتے ہیں۔ ریاستوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ میٹا نے 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کیا، جو وفاقی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
میٹا کے وکیل پال شمٹ نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بعض صارفین سوشل میڈیا کے استعمال سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، تاہم تحقیق سے یہ واضح طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی صحت کی خرابی کا براہِ راست سبب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ سمیت کمپنی کی قیادت صارفین کے لیے بہتر اور محفوظ خدمات فراہم کرنا چاہتی ہے۔
میٹا نے کہا ہے کہ وہ نوجوانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جن میں 2024 میں متعارف کرائے گئے انسٹاگرام ٹین اکاؤنٹس اور والدین کے لیے استعمال کی حد مقرر کرنے والے فیچرز شامل ہیں۔ تاہم اگر عدالت میٹا کو ذمہ دار قرار دیتی ہے تو کمپنی کو بھاری جرمانے اور فیس بک و انسٹاگرام کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے کیا جارج آرویل کا ناول ‘1984’ حقیقت بنتا جا رہا ہے؟ ڈیجیٹل نگرانی پر دنیا بھر میں نئی بحث
سماعت کے دوران میٹا کے سابق سیفٹی انجینئر آرٹورو بیجر نے بطور پہلے گواہ بیان دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کمپنی بچوں کے تحفظ کے نظام کی خامیوں سے واقف تھی۔ ان کے مطابق میٹا میں ’تیزی سے کام کرو اور چیزیں توڑ دو‘ کا کلچر موجود تھا، جس کے باعث بعض مصنوعات میں حفاظتی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔
مقدمے میں مارک زکربرگ اور انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری کے بھی گواہی دینے کا امکان ہے۔ یہ کیس 2021 میں فیس بک کی سابق ملازم فرانسس ہاؤگن کے امریکی سینیٹ کے سامنے دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کمپنی منافع کے حصول کے لیے نوجوان صارفین کی صحت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے آگاہ تھی۔














