پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے کل کا دن اس حوالے سے خوشگوار تھا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے ساتھ ساتھ کئی دیگر ریلیف بھی دیے۔ جن میں ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان، ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان کو ان کے ذاتی معالجین میں شامل کرنا، جیل حکام کو عمران خان سے اہل خانہ کی ملاقاتوں کے لیے پابند کرنا شامل تھا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ عدالت نے پاکستان تحریک اںصاف سے یہ یقین دہانی بھی مانگی ہے کہ وہ میڈیکل رپورٹس کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کریں گے اور نہ اسپتال کے باہر مجمع لگائیں گے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف آج ممکنہ طور پر یہ بیانات حلفی جمع کرا دے گی۔
دوسری طرف وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کر دی ہے۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک بیان میں کہاکہ قیدیوں کا علاج جیل کے اسپتال میں ہوتا ہے۔
سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم اختیار سماعت سے تجاوز کرتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو 5 اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی، جبکہ علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ نے 12 مارچ 2026 کو مسترد کردی تھی۔
حکومت نے مؤقف اپنایا ہے کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کے تحت قیدی کو جیل سے باہر اسپتال منتقل کرنے کا واضح طریقہ کار موجود ہے، بعض صورتوں میں حکومت کی منظوری اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے ذریعے کارروائی ضروری جبکہ اسپتال منتقل کیے گئے قیدی کی پولیس نگرانی بھی لازم ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ معاملہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے سامنے مقرر ہوا اور متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ پہلے بھی باقاعدگی سے ہوتا رہا ہے اور میڈیکل بورڈ متعدد مرتبہ ان کا علاج کر چکا ہے۔
حکومتی وزرا کے بیانات اور نظرثانی اپیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید حکومت اس فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے پس و پیش کرے لیکن آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق حکومت کو اس فیصلے پر بحرحال عمل درآمد کرنا ہی ہو گا۔
خاص طور پر جب فیصلے کے اندر یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ آج یعنی 19 اگست کو اس پر عملدرآمد کر دیا جائے۔
لیکن سب سے پہلے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ عمران خان کس طرح سے اسپتال منتقل کیے جائیں گے اس کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائےگا۔
اسپتال کے کمرے کو سب جیل قرار دیا جا سکتا ہے، عمران شفیق ایڈووکیٹ
سینیئر قانون دان عمران شفیق ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مروّجہ طریقہ کار کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے پاس پہنچے گا تو وہ پہلے اسپتال میں مخصوص کمرے کا جائزہ لیں گے جس کے بعد عمران خان کو وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے اسپتال کمرے کے باہر پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور ممکن ہے کہ ہوم سیکریٹری پنجاب اِس سلسلے میں کوئی نوٹیفیکیشن جاری کریں جس کے تحت اسپتال کے کمرے کو سب جیل قرار دے دیا جائے۔ عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کو جیل مینئول کے مطابق ہی اُن سے ملنے دیا جائےگا۔
ایک سوال کے جواب کہ آیا حکومت اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد روک سکتی ہے؟ عمران شفیق نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں۔ حکومت کو اِس پر عملدرآمد کرنا ہی ہو گا سوائے اس کے کہ حکومت کو اس پر عدالت سے حکمِ امتناع مل جائے۔ حکومت کے پاس نظرِثانی کا آپشن موجود ہے لیکن اُس میں حکومت کے لیے زیادہ سکوپ اس وجہ سے نہیں ہو گا کیونکہ فیصلہ میڈیکل گراؤنڈز پر کیا گیا ہے۔
حکومت کے پاس عدالتی فیصلے عملدرآمد کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، ذوالفقار بھٹہ
سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل ذوالفقار احمد بُھٹہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کے پاس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، لیکن عملدرآمد میں دو سے تین دن کا وقت لگ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم، کیا مسلم لیگ ن اس معاملے سے بالکل لاتعلق تھی؟
انہوں نے کہاکہ جس طرح عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف سے بیاناتِ حلفی طلب کیے ہیں کہ وہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹس کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ اسپتال کے باہر مجمع نہیں لگائیں گے، تو اِن بیاناتِ حلفی کے جمع ہونے کے بعد فیصلے کی آفیشل نقول جاری کی جائیں گی جنہیں اسپتال بھجوایا جائےگا جس کے بعد عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائےگا۔














