چھیڑا جو تو نے ذکرِ کراچی کا ہم نشیں
ایک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے
’لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان‘۔ میری عمر 10 سال تھی جب میں یہ نعرے سنتا تھا۔ پاکستان کی ایک مبہم تصویر میرے ذہن میں تھی۔ میں اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ پاکستان میں میرے پاس ایک نئی سائیکل ہوگی اور میں روز نئے کپڑے پہن کر اسکول جایا کروں گا۔
خیر، میں بچہ ہی تو تھا۔ 1947 میں ہمارے سب بزرگوں نے مل بیٹھ کر یہ طے کر لیا کہ ہم سب ہندوستان سے ہجرت کر کے ایک نئے ملک پاکستان میں آباد ہوں گے جہاں اسلام کا بول بالا ہوگا اور ہم ایک آزاد ملک میں خوش و خرم رہیں گے۔
چونکہ پھر یہ طے پایا کہ اس علاقے میں بہت قتل و غارت ہو رہی ہے اور ریل گاڑی کا سفر بہت خطرناک ہے، لہٰذا ممبئی جا کر وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے پاکستان جائیں گے۔
غرض، اگست 1947 (صحیح دن اور تاریخ مجھے یاد نہیں)، میں، میرا خاندان، کمال چچا اور ان کا خاندان، پھوپھی جان اور ان کا خاندان، ہم سب ممبئی جا پہنچے۔ ممبئی میں خوجہ جماعت نے ہم سب مسافروں کا استقبال کیا اور ہم سب کو لے جا کر اپنے جماعت خانے کے بڑے سے ہال میں ٹھہرا دیا گیا۔ ہال کی چھت بڑی تھی اور اس کے بہت سے ستون تھے، مگر دیواریں نہیں تھیں۔
’دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر‘ علامہ اقبال کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے ہمارے بزرگوں نے ایک احاطہ سا بنا لیا جس میں ہم نے 20 دن گزارے۔ ہمارے بزرگ روزانہ صبح کچھ کھا پی کر تیار ہو کر جہاز کے ٹکٹ خریدنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوتے تھے اور ممبئی کی سیر کر کے شام کو مسکراتے ہوئے واپس آتے تھے اور بتاتے تھے کہ بہت دیر تک لائن میں انتظار کرنے کے بعد بھی ٹکٹ نہیں مل سکے۔
آخرکار ہمیں 10، 20 دن بعد جہاز کے ٹکٹ مل گئے اور ہم ممبئی سے کراچی کے لیے روانہ ہوئے۔ اس پرانے وقتوں کے چھوٹے سے گندے جہاز کا نام ’شرالا‘ تھا۔
اللہ اللہ کر کے تیسرے پہر کے قریب جہاز کراچی کی بندرگاہ کیماڑی پہنچ کر کنارے جا لگا۔ جہاز سے اتر کر ہم نے سب سے پہلے کچھ مقامی لوگوں کو دیکھا جو موٹے تگڑے اور سیاہ فام تھے۔
ان کے بال گھنگریالے اور چھوٹے تھے، معلوم ہوا کہ یہ مکرانی ہیں۔ بعد میں ہم اس صوبہ سندھ میں 10 سال رہے اور ہم سندھی زبان بہت اچھی طرح بول اور لکھ سکتے تھے۔
پھر ہم نے دیکھا کہ ٹین کے ایک شیڈ کے نیچے کچھ لوگ لائن لگا کر کھڑے ہیں اور دال روٹی تقسیم کی جا رہی ہے۔ ہم بھی جا کر اس لائن میں لگ گئے۔ ہم بھوکے تو تھے ہی، وہیں کسی کونے میں بیٹھ کر وہ دال روٹی ہم نے کھائی۔
اس لذیذ دال روٹی کا مزا مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کھانے کا انتظام یا حکومتِ پاکستان نے یا پھر کچھ مخیر حضرات نے کیا ہوگا۔
رات ہو چکی تھی۔ ہم سب کھڑے سوچ رہے تھے کہ اب کیا کریں اور کہاں جائیں؟۔ ہمارے پاس الیاس ماموں جان کے گھر کا پتہ موجود تھا۔ والد صاحب! نے ذرا فاصلے پر کھڑے ایک بگھی والے سے بات چیت کر کے مبلغ 6 روپے میں یہ طے کر لیا کہ وہ ہم سب کو ہمارے سامان سمیت ایبی سینیا لائنز پہنچا دے گا۔
ہم سیدھے بندر روڈ سے ہوتے ہوئے صدر کے علاقے تک جا پہنچے۔ بگھی والا بگھی سے اتر کر وہ پرچہ دکھا کر لوگوں سے ایبی سینیا لائنز کا پتہ پوچھتا تھا اور پھر آگے چلتا تھا۔
اب کافی رات ہو چکی تھی اور ہم شہر سے باہر کی طرف نکل آئے تھے۔ گھر کی خواتین سہمی ہوئی تھیں کہ اس اجنبی شہر میں رات کے وقت نہ معلوم ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
اللہ اللہ کر کے آخرکار ہم ایبی سینیا لائنز جا پہنچے۔ اب رات کا سناٹا تھا، نہ کوئی بندہ نظر آئے کہ اس سے کچھ پوچھیں۔ ذرا اور آگے چلے تو ایک کوارٹر میں کچھ روشنی نظر آئی۔ میرے والد نے مجھے کہا کہ ظہیر تم ذرا آگے جا کر ان لوگوں سے کچھ معلوم کرو۔
میں بگھی سے اتر کر آگے گیا تو برآمدے میں کوئی شخص بیٹھا نظر آیا۔ آگے جا کر میں نے کہا، ’السلام علیکم‘!۔ ذرا وقفے کے بعد ادھر سے آواز آئی، ’ارے، ظہیر تم اس وقت یہاں کیسے‘؟۔ حیرت کے ساتھ خوشی ہوئی کہ یہی الیاس ماموں کا مکان تھا۔ سب بگھی سے اترے اور سامان بھی اتارا گیا۔ الیاس ماموں چونکہ ایک سرکاری ملازم تھے، ان کو یہ مکان مل گیا تھا جو اس وقت ایک مسافر خانہ معلوم ہوتا تھا۔
علی الصبح ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد ہم سب وہاں سے روانہ ہوئے۔ کراچی سٹی اسٹیشن پہنچ کر پہلی گاڑی سے کوٹری کے لیے روانہ ہوئے جہاں والد صاحب !کو بحیثیت ریلوے گارڈ متعین کیا گیا تھا۔
چھوٹا شہر کوٹری جنکشن، حیدرآباد سے بہت نزدیک ہے جو ایک بہت بڑا شہر ہے۔ بعد میں کالج کے لیے میں روزانہ کوٹری سے حیدرآباد جاتا تھا اور اکثر خریداری کے لیے بھی حیدرآباد ہی جاتے تھے۔
کوٹری پہنچ کر ہم سیدھے اسٹیشن ماسٹر کے دفتر پہنچے جو وہیں اسٹیشن پر تھا، وہاں افضل بابو سے ملاقات ہوئی جن کے ذمہ بہت سے دوسرے کاموں کے علاوہ مکان الاٹ کرنا بھی ہوتا تھا۔ افضل بابو نے بتایا کہ اس وقت تو کوئی کوارٹر خالی نہیں ہے جو آپ کو دیا جا سکے۔ فی الحال آپ خود کچھ بندوبست کر لیں۔
یہ سن کر والد صاحب! پریشان ہوئے اور بولے کہ اس اجنبی شہر میں، جس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اپنی بیوی بچوں کو لے کر میں کہاں بھٹکتا پھروں گا۔
افضل بابو ایک شریف اور ہمدرد انسان تھے۔ وہ بھی سوچ میں پڑ گئے۔ پھر کچھ وقفے کے بعد وہ بولے، ’میں ایک کوارٹر میں اکیلا رہتا ہوں جس میں 2 کمرے ہیں، وقتی طور پر میں یہ کر سکتا ہوں کہ اگلے ایک کمرے میں میں خود رہ لوں گا باقی گھر آپ استعمال کر لیں۔ بس آپ کو اتنی مہربانی کرنی ہوگی کہ مجھے دونوں وقت کا کھانا اور ناشتہ دے دیا کریں‘۔
غرض وہیں چند منٹوں میں سارے معاملات طے پا گئے اور افضل بابو کی مدد سے ہم ان کے کوارٹر میں جا بسے جو اسٹیشن سے بہت نزدیک تھا۔ آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آتی گئی۔
’کراچی‘
کراچی ہمارا دوسرا گھر تھا۔ ہم اکثر کراچی کے چکر لگاتے رہتے تھے۔ اوّل اس لیے کہ ہمارے تمام عزیز و اقارب کراچی میں ہی رہتے تھے؛ دوم ہمارے والد نے ایک عدد رہائشی پلاٹ پی ای سی ایچ سوسائٹی میں خرید لیا تھا جو اب طارق روڈ کے نام سے مشہور ہے۔
ہم پہلی مرتبہ بڑے چاؤ سے اپنا پلاٹ دیکھنے کراچی پہنچے۔ ہمیں یہ معلوم ہو چکا تھا کہ ہمارا پلاٹ اور یہ ہاؤسنگ سوسائٹی قائد اعظم کے مزار سے بہت نزدیک ہے۔
اس زمانے میں کراچی میں صرف چند بسیں چلتی تھیں، وہ بھی صرف آبادی والے علاقے میں۔ گرومندر پر بس سے اتر کر ہم لوگ والد صاحب! کے ہمراہ پیدل چلتے ہوئے مزارِ قائد تک جا پہنچے۔ مزار پر ایک شامیانہ لگا ہوا تھا۔ پانی کے چھڑکاؤ سے بھیگی ہوئی قبر پر پھولوں کی چادر تھی اور بہت سے پھول بھی تھے۔
قبر کے اطراف قالین بچھے ہوئے تھے۔ قریب ہی میزوں پر بہت سے قرآن پاک رکھے ہوئے تھے۔ کئی لوگ قالینوں پر بیٹھے قرآن کی تلاوت میں مصروف تھے۔ اس کے علاوہ بے شمار مرد اور عورتیں بھی زیارت کے لیے آئے ہوئے تھے جن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
سنا ہے کہ اپنے مزار کے لیے یہ جگہ خود قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ منتخب کر چکے تھے۔ یہ جگہ ذرا سی اونچائی پر شہر سے باہر مگر آبادی سے بہت نزدیک تھی۔
مزار کے اطراف کا علاقہ غیر آباد اور خالی پڑا تھا۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے ہوئے ہزاروں لوگوں نے قرب و جوار میں اپنی جھگیاں ڈال لی تھیں جن میں کچھ ہمارے قریبی عزیز و اقارب بھی شامل تھے۔
یہ وہ پڑھے لکھے لوگ تھے جو اپنے پکے مکانات ہندوستان میں چھوڑ آئے تھے۔ ہمارا 300 گز کا پلاٹ بھی یہیں پر تھا۔ مزار پر فاتحہ پڑھنے کے بعد ہم اپنے پلاٹ کی تلاش میں آگے چلے۔ اس ویرانے میں ذرا اور آگے تک جانے کے بعد ایک قبرستان نظر آیا۔ قریب ہی کچھ لوگ ایک جنازہ دفن کرنے میں مصروف تھے۔ مجھے خوف نے آ گھیرا کہ ہم یہ کس جگہ آ گئے ہیں۔ قبرستان کے اطراف کوئی حد بندی کی دیوار بھی نہیں تھی۔ ذرا سے فاصلے پر چاندماری کی کچھ علامتیں نظر آئیں جن پر یقیناً کبھی گورے فوجی نشانہ بازی کی مشق کرتے ہوں گے۔
میں نے ڈرتے ڈرتے اپنے والد سے کہا، آپ نے کہاں اس ویرانے میں پلاٹ خرید لیا ہے، ہم یہاں کیسے رہیں گے؟۔ والد صاحب! سمجھتے تھے، بولے، بیٹا تم دیکھتے رہو، چند ہی دنوں میں یہ جگہ ایسی آباد ہو جائے گی کہ تم پہچان بھی نہ سکو گے۔
غرض اس علاقے میں کچھ لکیریں وغیرہ ڈال کر پلاٹوں کی نشاندہی کر دی گئی تھی۔ اپنا پلاٹ دریافت کرنے کے بعد ہم واپس آ گئے۔
’مزارِ قائد‘
قائد اعظم کے انتقال کے کچھ عرصے بعد محترمہ فاطمہ جناح کی کوششوں سے اور چند دوسرے مخلص افراد کے تعاون سے ’قائد اعظم ریلیف فنڈ‘ قائم کیا گیا۔
کراچی کے لوگوں نے خاص طور پر اس فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ چند ہی دنوں میں لاکھوں کی رقم جمع ہو گئی جو حبیب بینک میں جمع کرا دی گئی۔
حبیب بینک پاکستان کا پہلا بینک تھا جو قائد اعظم مرحوم کی ہدایت پر ہندوستان سے پاکستان لایا گیا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس بینک نے بہت ترقی کی اور اس کی سینکڑوں شاخیں پورے پاکستان میں پھیل گئیں۔
جب بہت دن گزرنے کے بعد بھی مقبرے کی تعمیر کا کوئی ذکر نہ ہوا تو کچھ لوگوں نے احتجاج شروع کیا۔ جس کے نتیجے میں 1952 میں قبر پر ایک معمولی سا گنبد کھڑا کر دیا گیا۔
اس کے بعد محترمہ فاطمہ جناح اور چند دوسرے مخلص افراد نے اس معاملے کو اٹھایا۔ 1955 میں ترکیہ سے ایک ماہرِ تعمیرات کو بلوایا گیا۔ اس نے بڑی کاؤش سے مقبرے کا ایک ڈیزائن پیش کیا جو کافی بحث مباحثے کے بعد مسترد کر دیا گیا۔
اس کے بعد 1957 میں ایک بین الاقوامی مقابلہ ہوا جس میں ایک آرکیٹیکٹ ولیم وہٹ فیلڈ کا پیش کردہ ڈیزائن منظور کر لیا گیا۔
بعد ازاں یحییٰ مرچنٹ نامی ایک انجینیئر کی زیرِ نگرانی مقبرے کی تعمیر کا کام شروع ہوا اور 25 دسمبر 2000 میں تعمیر مکمل ہوئی۔
میں بچپن سے یہ سنتا آ رہا تھا کہ مقبرے کی تعمیر کے بعد اطراف کے علاقے میں ایک شاندار مسجد بنائی جائے گی جس کے ساتھ ایک بہت بڑی لائبریری بھی ہوگی جو میں نے تو آج تک نہیں دیکھی، شاید آپ نے دیکھی ہو۔
1948 میں قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کی خبر مہاجرین پر بجلی بن کر گری تھی۔ یہ لوگ حضرت قائد اعظم کو ہی اپنا رہنما، اپنا قائد اور ماں باپ سمجھتے تھے۔ انہیں لگا کہ اب ہم یتیم ہو گئے ہیں۔ قائد کی وفات پر ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے نوحے کے چند اشعار مجھے آج تک یاد ہیں، میں آپ کو سناتا ہوں!
’نوحہ‘
آج کیوں غم کی گھٹا چاروں طرف چھائی ہے
آج کیوں لرزہ بہ لب دلِ شکیبائی ہے
آج کیوں گم ہوئے جاتے ہیں زمانے کے حواس
آج کیوں چہرۂ فطرت نظر آتا ہے اداس
ہائے کس منہ سے کہیں قائد اعظم نہ رہا
زخم باقی ہے مگر زخم کا مرہم نہ رہا
شروع کے زمانے میں کراچی ایک بہت پرسکون، پرامن اور خوبصورت شہر تھا۔ کراچی کی آبادی میں بہت سے پارسی لوگ تھے۔ یہ لوگ امن پسند اور زیادہ تر تجارت پیشہ تھے۔ تجارتی جہاز رانی بھی پارسی قوم کے ہاتھوں میں تھی جسے یہ لوگ بڑی خوش اسلوبی سے چلاتے تھے۔
اپنے جہازوں کے عملے کی بڑی عزت کرتے تھے۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد جہاز رانی کی تجارت چنیوٹ کے چند امیر لوگوں کے ہاتھ چڑھ گئی۔ رفتہ رفتہ جہاز رانی زوال کو پہنچی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ پاکستان نیوی کے جو کپتان ریٹائر کر دیے جاتے تھے وہ حکومت کے حکم پر قومی جہاز رانی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے گئے۔ نیشنل شپنگ کارپوریشن میں 65 جہاز ہوا کرتے تھے، ان کی تعداد گھٹ کر آدھی رہ گئی۔ یہی کچھ حال پاکستان قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کا ہوا۔
کراچی کے تفریحی مقامات میں کلفٹن کا ساحل یا پھر ہاکس بے اور سینڈز پٹ کے سنہری ریتیلے ساحل موجود تھے۔ ہر علاقے اور ہر محلے میں سنیما گھر کھل چلے تھے۔ بچوں اور بڑوں کا مقبول باغِ جناح یا چڑیا گھر گاندھی گارڈن کے نام سے موجود تھا جہاں بہت سے چرند پرند اور درندے موجود تھے۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ موجود تھا۔
اسلام کے نام پر اور قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی پکار پر ہجرت کرنے والے لاکھوں مسلمان اپنا گھر بار اور اپنے بزرگوں کی قبریں ہندوستان میں چھوڑ کر غول در غول جس طرح بھی ممکن ہوا پاکستان پہنچ گئے۔
کراچی کا دل بہت بڑا تھا اور یہاں جگہ بھی بہت خالی پڑی تھی۔ جس کے جہاں سینگ سمائے اس نے وہاں چند بانسوں اور کھجور کی چٹائی سے ایک جھگی بنا کر اسی میں رہنا شروع کر دیا۔
کراچی شہر کے مضافات میں ایک بڑی زمین کے مالک پیر الٰہی بخش تھے۔ انہوں نے اپنی غیر آباد زمینوں پر مہاجروں کو آباد کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ حکومت نے جیسے تیسے ہزاروں چھوٹے چھوٹے کوارٹر بنا کر سرکاری ملازمین کے حوالے کر دیے (انہی میں سے ایک کوارٹر میں مشہور بینکر اور مزاح نگار محترم مشتاق احمد یوسفی نے بہت سے دن گزارے تھے)۔
پیر الٰہی بخش ایک بہت ہمدرد اور غریب پرور انسان تھے۔ وہ پیر الٰہی بخش کالونی کے لوگوں کو اپنی رعایا تصور کرتے تھے اور ہر وقت ہر کسی کی مدد کو تیار رہتے تھے۔
ان کی بیٹھک ہمیشہ کھلی رہتی تھی جہاں لوگ آ کر اپنے مسائل بتاتے تھے اور وہ ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے علاوہ کراچی کے دوسرے غیر آباد علاقوں میں بھی حکومت نے سرکاری ملازمین کو پلاٹ الاٹ کر دیے تھے، جس کی تفصیل یہاں بہت طویل ہو جائے گی۔
کراچی کے ایک سرے پر ایک ندی یا بڑا نالہ ہے جو پہلے تو ہمیشہ سوکھا پڑا رہتا تھا مگر اب بارشوں کے زمانے میں لبالب پانی سے بھر جاتا ہے۔ اسی جگہ کسی ’لالو‘ نامی شخص کے کھیت ہوا کرتے تھے۔
یہاں مہاجروں نے ہزاروں جھگیاں ڈال کر اس جگہ کو آباد کر دیا۔ بہت عرصے تک یہ محلہ لالو کھیت ہی کہلاتا تھا مگر بعد میں کچھ باشعور لوگوں نے اس کا نیا نام قائد آباد تجویز کیا اور اب یہ بہت بڑا محلہ اسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔
مشہور مزاحیہ اداکار عمر شریف کا تعلق بھی اسی محلے سے تھا۔ جاسوسی ناولوں کے مشہور مصنف ابنِ صفی بھی یہی رہتے تھے۔
عظیم سارنگی نواز احمد خان (جن کے بارے میں مشہور ہے کہ پنڈت نہرو نے بذاتِ خود ان سے درخواست کی تھی کہ آپ پاکستان نہ جائیں) کی جھگی بھی یہی پر تھی۔ زندگی آہستہ آہستہ اپنے راستے بناتی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے خود بخود اسباب بھی پیدا ہوتے جاتے ہیں۔
کراچی کی قیادت نے پہلا کام یہ کیا کہ قطار بندی کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے 60 گز کے پلاٹ بنا کر ان جھگی والوں کو الاٹ کر دیے۔ پھر درمیان کا کچھ علاقہ سڑک قرار دے دیا گیا۔ اسی سڑک پر قطار سے 6×6 فٹ کے پاخانے بنا دیے گئے۔
علی الصبح لوگ اپنے اپنے گھر سے لوٹے میں پانی لے کر نکلتے تھے اور قطار بنا کر اپنی باری کا انتظار کرتے تھے۔ یہ سب لوگ پڑھے لکھے، نوکری پیشہ یا تجارت پیشہ افراد تھے۔
بعد میں اسی طرح درمیان میں وقفے وقفے سے سیمنٹ کے پکے چبوترے بنا کر اس پر پانی کے نل بھی لگا دیے گئے۔ اب زندگی کا ایک معمول بن گیا۔ لوگ ہر حال میں خوش تھے کہ اب وہ ایک اسلامی ملک میں آ گئے ہیں۔ انہیں یقین تھا کہ ان شاء اللہ بتدریج حالات بہت بہتر ہوتے چلے جائیں گے، انصاف کا بول بالا ہوگا اور سب کو ان کا حق ملے گا۔
آہستہ آہستہ لوگوں نے اپنی الاٹ کی ہوئی زمینوں پر تعمیرات کی طرف توجہ دینی شروع کی۔ تعمیراتی سامان کی فراوانی تھی۔ سیمنٹ، لوہا اور بجری مناسب داموں پر دستیاب تھے، مثلاً سیمنٹ کی بوری کی قیمت 2 روپے 75 پیسے، ملیر کی بجری کا ٹرک 8 روپے، لوہا 10 یا 20 روپے، مکان تعمیر کرنے کے لیے تجربہ کار مستری کی دیہاڑی یومیہ 5 روپے اور مزدور کی دیہاڑی یومیہ 2 روپے تھی۔
اسی طرح ایک سرکاری بابو کی تنخواہ 60 روپے سے 90 روپے ماہانہ تک ہوتی تھی۔ مزدوروں کی قلت کے پیشِ نظر شمالی علاقوں سے مضبوط جسم والے پٹھان جوق در جوق کراچی پہنچنے لگے جو بہت بڑی مدد ثابت ہوئے۔
ابتدائی زمانے کا مواصلاتی نظام ایک عدد بجلی سے چلنے والی ٹرام تھی جو بیچ سڑک پر چلتی تھی اور کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر بندر روڈ سے ہوتی ہوئی کیماڑی تک جاتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ بسوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔
پھر پورے شہر میں سائیکل رکشہ بھی نظر آنے لگا۔ ٹریفک بڑھ جانے سے کراچی کی انتظامیہ نے سمجھ لیا کہ اب یہ پرانی ٹرامیں بیکار ہیں لہٰذا ٹرامیں منسوخ کر دی گئیں۔
اس ہی زمانے میں P.E.C.H.S سوسائٹی آہستہ آہستہ آباد ہونی شروع ہو چکی تھی مگر بسیں سوسائٹی کے اندر نہیں جاتی تھیں۔ گرومندر پر بس سے اتر کر پیدل اپنے پلاٹ تک پہنچنا پڑتا تھا۔
سائیکل رکشہ نے یہ مشکل آسان کر دی، تاہم کچھ ہی عرصے میں کراچی کی انتظامیہ نے محسوس کر لیا کہ یہ بات سراسر انسانیت کے خلاف ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو جانوروں کی طرح کھینچے، لہٰذا فوراً سائیکل رکشہ غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔
شروع شروع میں رکشے والوں میں بے چینی پائی گئی مگر جلد ہی موٹر رکشے نے یہ مسئلہ حل کر دیا۔ کچھ قسطوں پر، کچھ بینک سے قرض لے کر سائیکل رکشے والے موٹر رکشے کے مالک بن گئے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے مواصلات کا پورا نظام پٹھانوں کے ہاتھ آ گیا۔ رفتہ رفتہ بے شمار بسوں، ٹیکسیوں اور رکشوں سے کراچی چل پڑا۔
’آخری بات‘
1947 میں میرے بزرگوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہمیں ہجرت کر کے پاکستان چلے جانا چاہیے۔ اس وقت میری عمر 2 سال تھی۔ بہت عرصے بعد جب حضرت قمر بدایونی کو ان کی نظم ’اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چل، اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں‘ گاتے ہوئے سنا تو مجھے بھی سنجیدگی کے ساتھ سوچنا پڑا اور کینیڈا کا ویزا حاصل کرنے کے بعد میں بھی خاندان کے ہمراہ اس آزاد ملک میں عزت کے ساتھ پچھلے 33 سال سے مقیم ہوں۔ یہاں مجھے اور میرے بچوں کو وہ سارے حقوق حاصل ہیں جو کینیڈا کے وزیرِ اعظم کو حاصل ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














