مقتول کاروباری شخصیت میر رضا کے والدین میر حسین اور مریم حسین نے اپنے وکیل جبران ناصر کے ذریعے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کو خط لکھ کر میر رضا کے قتل کی تحقیقات کی براہِ راست نگرانی کا مطالبہ کردیا۔
22 صفحات پر مشتمل خط میں سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سے سابق تحقیقاتی ٹیم کے خلاف تحقیقات اور محکمانہ انکوائری کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ اس ٹیم میں شامل افسران کو فوری طور پر معطل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی، فیملی کو ہر مرحلے سے آگاہ رکھیں گے، مراد علی شاہ
خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ کے وزیر داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اور موجودہ تحقیقاتی ٹیم سابق تحقیقاتی ٹیم کے خلاف ضروری کارروائی شروع کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث تحقیقات متاثر ہورہی ہیں۔
مقتول کے والدین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ تحقیقاتی ٹیم بظاہر میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینے کے بیانیے کو برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ متعدد دیگر شواہد کی جانچ اور تحفظ پر توجہ نہیں دی جارہی۔
خط میں الزام عائد کیا گیا کہ مقتول کے مبینہ قاتل اور قتل کی سازش میں ملوث افراد عوامی توجہ کے باوجود سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرکے حقیقت کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔
میر رضا کے والدین نے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سے کہا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے وہ سیاسی وابستگی اور تنازع سے بالاتر ہوکر تحقیقات میں شفافیت، غیر جانب داری اور مؤثر کارروائی یقینی بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا کیس کے حقائق جلد عوام کے سامنے لائیں گے، آئی جی سندھ
خط میں سندھ پولیس میں مبینہ بدعنوانی، نااہلی اور سیاسی اثر و رسوخ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
مقتول کے خاندان نے سابق تحقیقاتی ٹیم میں شامل پولیس افسران کو فوری معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان افسران کی موجودہ عہدوں پر موجودگی گواہوں اور شواہد کو متاثر کرنے اور شفاف تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کا سنگین خطرہ ہے۔
خط میں تحقیقات کے حوالے سے 24 ایسے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں جن کے جوابات تاحال سامنے نہیں آئے۔ ان میں میر رضا کی موت سے قبل ان کی گفتگو اور رابطوں، موت کے حالات، مبینہ طور پر غائب ہونے والے ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد سمیت دیگر معاملات شامل ہیں۔
مقتول کے کاروباری شراکت دار کے قتل سے پہلے اور بعد کے مبینہ اقدامات سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
خط میں الزام عائد کیا گیا کہ پولیس کے اعلیٰ حکام نے مبینہ طور پر جائے وقوعہ کے شواہد کو محفوظ رکھنے کے بجائے انہیں متاثر اور ضائع ہونے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: 19 روز بعد سندھ پولیس نے خاموشی توڑ دی، طبی اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ جاری
سابق تحقیقاتی ٹیم کے مبینہ طرز عمل کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 201 اور 218 کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دفعہ 201 جرم کے شواہد غائب کرنے یا ملزم کو بچانے کے لیے غلط معلومات فراہم کرنے سے متعلق ہے، جبکہ دفعہ 218 سرکاری ملازم کی جانب سے کسی شخص کو سزا سے بچانے کے لیے غلط ریکارڈ مرتب کرنے سے متعلق ہے۔
خط میں پولیس افسران کے خلاف 10 مبینہ الزامات بھی تجویز کیے گئے ہیں، جن میں اہم شواہد کو دانستہ طور پر غلط طریقے سے سنبھالنا، گواہوں کے بیانات قلمبند نہ کرنا، تحقیقاتی ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل، مقتول کے آلات کو غیر قانونی طور پر تحویل میں لینا اور سرکاری عہدے کا مبینہ غلط استعمال شامل ہے۔
محکمانہ انکوائری کے لیے 13 نکات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں یہ جانچ بھی شامل ہے کہ سابق تحقیقاتی ٹیم نے خودکشی کے مفروضے کو اتنی جلدی کیوں اختیار کیا اور کراچی کے پولیس سرجن کی جانب سے لکھے گئے خط پر مناسب توجہ کیوں نہیں دی گئی۔
خط میں خصوصی طبی بورڈ کی تشکیل میں مبینہ رکاوٹوں کی وجوہات جاننے اور مقتول کی اسمارٹ واچ کی تحویل، استعمال اور فرانزک معائنے کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک موت، قرض اور ایک ناقابلِ شناخت لاش: کیا میر رضا علی خان کیس کی گھتیاں سلجھنے والی ہیں؟
مقتول کے خاندان نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ آیا کسی اعلیٰ پولیس افسر، سرکاری عہدیدار یا کسی اور شخص نے سابق تحقیقاتی ٹیم پر خودکشی کے بیانیے کو اختیار کرنے، برقرار رکھنے یا آگے بڑھانے کے لیے کوئی نامناسب دباؤ ڈالا یا تحقیقات میں مداخلت کی۔
خط کی ایک نقل وزیراعظم پاکستان اور سندھ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کرائم اینڈ انویسٹی گیشن کو بھی ارسال کی گئی ہے۔
میر رضا، جو کھانے پینے کے کاروبار سے وابستہ تھے اور وافلکس کے مالک تھے، 28 جولائی کو لاپتا ہوگئے تھے۔ 25 سالہ میر رضا کی لاش اگلے روز گلستانِ جوہر میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔ ان کے جسم پر گولی لگنے کا زخم تھا۔
میر رضا کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ انہیں اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا، تاہم ابتدائی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم نے ایسے شواہد ملنے کا دعویٰ کیا تھا جن سے خودکشی کا امکان ظاہر ہوتا تھا۔
غلط پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد میر رضا کے اہل خانہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے لاش نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کی درخواست دائر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی کیس: خودکشی کے مؤقف سے قتل کی تحقیقات تک، 11 اگست تک کیا کچھ بدل گیا؟
8 اگست کو پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کی سربراہی میں 8 رکنی طبی بورڈ نے مجسٹریٹ، مقتول کے اہل خانہ، وکیل اور تفتیشی افسر کی موجودگی میں لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا۔
پوسٹ مارٹم کا عمل 1 گھنٹہ 15 منٹ جاری رہا، جس کے بعد لاش کو تقریباً 1 بج کر 33 منٹ پر دوبارہ دفن کردیا گیا۔
ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق طبی بورڈ نے مثبت شناخت، کیمیائی تجزیے اور گولی کے ذرات کی جانچ کے لیے نمونے حاصل کیے جبکہ موت کی حتمی وجہ لیبارٹری رپورٹس آنے تک محفوظ رکھی گئی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ لاش کے سر اور چہرے پر متعدد زخم موجود تھے۔ ان کے مطابق پشت پر پسلی میں فریکچر بھی پایا گیا جو گولی کے داخل ہونے کا مقام تھا، جبکہ گولی سامنے کی جانب سے باہر نکلی تھی۔
ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق لاش کے دائیں پہلو اور پاؤں پر بھی زخم موجود تھے جبکہ منہ اور حلق میں جما ہوا سیاہ مادہ بھی پایا گیا تھا۔














