امریکی عدالت میں میٹا کے خلاف بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران کمپنی کے سابق انجینیئرنگ ڈائریکٹر آرٹورو بیجار نے گواہی دی ہے کہ سی ای او مارک زکربرگ نے بچوں کی حفاظت کو ترجیح نہیں دی۔
مزید پڑھیں:فیس بک، انسٹا کی مدر کمپنی میٹا کے خلاف مقدمہ کو ’تاریخی‘ کیوں قرار دیا جارہا ہے؟
بیجار کے مطابق میٹا میں فیصلوں کا نظام انتہائی مرکزی تھا اور زکربرگ کسی معاملے کو ترجیح دیتے تو کمپنی میں چند ماہ کے اندر بڑی تبدیلیاں آجاتیں، تاہم فیس بک اور انسٹاگرام پر صارفین کا وقت اور کمپنی کا منافع بچوں کی حفاظت پر فوقیت رکھتے رہے۔
سابق انجینیئر نے الزام عائد کیا کہ میٹا کے پاس 13 سال سے کم عمر صارفین کی شناخت اور تصدیق کی ٹیکنالوجی موجود تھی، لیکن کمپنی نے مالی مفادات کے باعث اس مسئلے سے چشم پوشی کی۔ انہوں نے صارفین کو وقفہ لینے کی ترغیب دینے والے فیچر کو بھی غیر مؤثر قرار دیا۔
29 states accuse Meta of designing Facebook and Instagram to keep kids hooked. Mark Zuckerberg is expected to testify as the federal trial begins. Meta denies wrongdoing and says it has strong teen protections. pic.twitter.com/7eRPbJ8fLm
— Axel vasa (@surmmer65) August 18, 2026
کیلی فورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی سمیت متعدد امریکی ریاستوں نے میٹا پر الزام لگایا ہے کہ اس نے نوجوان صارفین کو پلیٹ فارمز کا عادی بنانے کے لیے انہیں اس انداز میں ڈیزائن کیا، جس سے ذہنی صحت کو نقصان پہنچا، جبکہ بچوں کا ڈیٹا بھی مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر جمع کیا گیا۔ میٹا نے الزامات مسترد کردیے ہیں۔
مزید پڑھیں:کیا اے آئی واقعی قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی، میٹا اور دیگر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
مقدمے کی سماعت قریباً 6 ہفتے جاری رہنے کی توقع ہے اور مارک زکربرگ کی بھی عدالت میں گواہی متوقع ہے۔ میٹا کو بچوں کو مبینہ نقصان پہنچانے کے حوالے سے ہزاروں مقدمات کا سامنا ہے، جبکہ نیو میکسیکو کے ایک مقدمے میں کمپنی پر 94 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جرمانے اور ہرجانے عائد کیے جاچکے ہیں۔














