افغانستان میں طالبان حکومت کے اعلیٰ رہنماؤں نے یومِ آزادی کے موقع پر اپنی تقریروں میں اپوزیشن اور مسلح مخالف گروہوں کو نمایاں طور پر مخاطب کرتے ہوئے انہیں طالبان کے خلاف کارروائیاں ختم کرنے اور ملک واپس آنے کی دعوت دی ہے۔
طالبان کے نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے مخالفین کو ’تباہ کن اور بدنیت عناصر‘ قرار دیتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ طالبان کا ساتھ دیں، افغان عوام کو مزید مشکلات سے دوچار نہ کریں اور ملک میں ’خانہ جنگی‘ کو ہوا دینے سے گریز کریں۔
نائب وزیراعظم برائے انتظامی امور عبدالسلام حنفی نے افغانستان میں نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقسیم مسلمانوں اور مجاہدین کے اتحاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دنیا کی خفیہ ایجنسیاں ثقافتی اور معاشی سرگرمیوں کے ذریعے افغانستان میں نسلی اور لسانی اختلافات کو ہوا دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان کے خلاف دنیا کے 28 شہروں میں مظاہرے، حکومت تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ
طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے افغانستان کو سب کا مشترکہ گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو طالبان کے نظام کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم طالبان مخالفین پر زور دیا کہ وہ لڑائی ختم کردیں، کیونکہ ان کی سرگرمیاں خود ان کے ساتھ افغان عوام کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
طالبان کے آرمی چیف فصیح الدین فطرت نے مخالفین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ طالبان کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور انہیں سازشیں کرنے کے بجائے افغانستان واپس آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان مخالفین کے لیے ’بازو کھلے‘ ہیں اور وہ واپس آکر تحفظ کے ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف ’فیصلہ کن، سخت اور کچل دینے والا‘ ردعمل دیا جائے گا۔
طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی مخالفین سے ایسی کارروائیوں سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا جو ملک میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 سال کی تیاری کے باوجود طالبان مخالفین افغانستان کے کسی حصے پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ متقی نے علاقائی ممالک کو بھی خبردار کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو افغانستان میں جنگ کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
یہ بھی پڑھیں:کابل اسکول دھماکا: داعش کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد
طالبان رہنماؤں کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی کارروائیوں میں حالیہ مہینوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، سپاہیانِ میہن فرنٹ، یونائیٹڈ فرنٹ آف افغانستان اور ریپبلکن فرنٹ طالبان فورسز کے خلاف مختلف صوبوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔
سپاہیانِ میہن فرنٹ نے حال ہی میں بدخشان کے یفتل ضلع پر طالبان سے قبضہ حاصل کرکے وہاں موجود طالبان جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ نے بھی بدخشان کے ضلع زیبک میں طالبان فورسز کے ساتھ شدید جھڑپوں میں حصہ لیا ہے۔ یونائیٹڈ فرنٹ آف افغانستان بھی کئی صوبوں میں طالبان کے خلاف حملے کرچکا ہے۔
طالبان کی جانب سے ماضی میں اپوزیشن گروہوں کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی شمولیت کو مسترد کیا جاتا رہا ہے، تاہم اعلیٰ قیادت کی حالیہ تقریروں میں مخالفین پر مسلسل توجہ اس امر کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ طالبان کو ملک میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت پر تشویش ہے۔














