وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ

جمعہ 21 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے اور آئینی راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتی ہے اس لیے جہاں نئے صوبوں کی ضرورت ہو اور عوام کی جانب سے اس کا مطالبہ موجود ہو وہاں آئینی طریقہ کار کے تحت نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہییں یہ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ اس کی مخالف جماعت جیے سندھ اور دیگر سندھ قوم پرست جماعتوں کا بھی مؤقف ہے جبکہ صدر آصف علی زرداری کا مؤقف بھی پیپلز پارٹی کے اس اصولی مؤقف سے مختلف نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہییں، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو

وی ایکسکلوزیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ریفرنڈم کے ذریعے صوبے نہیں بنائے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو یہ مطالبہ کرنے اور اسے عوام کے سامنے رکھنے کا حق حاصل ہے تاہم اگر عوام نے اس مؤقف کو قبول کرلیا تو ایم کیو ایم آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھتے ہوئے صوبے کے قیام کی کوشش کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عمران خان کی حکومت کے دور میں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں تھی اور عمران خان کے جیل جانے کے بعد بھی مذاکرات کی خواہش برقرار رکھی تاہم پی ٹی آئی ہمارے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

قمر زمان کائرہ نے عمران خان کی جیل سے منتقلی کے حوالے سے کہا کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر متفکر تھی اور عدالت سے رجوع بھی کرچکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ عمران خان کو پہلے ہی یہ موقع دے دیا جاتا کہ وہ جہاں سے چاہتے اپنا علاج کرا لیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب عدالت نے انہیں یہ موقع دیا ہے جو ان کے علاج کے حوالے سے ایک ریلیف ہے تاہم وہ اس وقت بھی ایک سزایافتہ قیدی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا مؤقف عمران خان کے حکومت میں آنے کے وقت بھی یہی تھا کہ سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے اور خان صاحب اپوزیشن میں گئے تب بھی ہم یہی کہتے رہے اور جب عمران خان جیل گئے تو اس وقت بھی ہمارا یہی مؤقف تھا۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں کون سے نئے صوبے بننے چاہییں؟ اراکین پارلیمنٹ کی رائے

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی یا اس وقت کی اپوزیشن ہمارے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھی اور نہ ہی وہ دیگر جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار تھی تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے ہمیشہ مذاکرات اور سیاسی رابطوں کی کوشش کی گئی ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اپوزیشن، حکومت، اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کا مل بیٹھ کر ملک کو درپیش مسائل، فکری امور اور بحرانوں پر غور کرنا، باہمی تبادلہ خیال کرنا اور ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم کرنا ایک مستحسن عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سے روز سوال کیا جاتا ہے کہ آپ حکومت سے الگ کیوں نہیں ہوتے، ایسا کیوں نہیں کرتے اور حکومت کے ساتھ کیوں بیٹھتے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ ہم حکومت کی پالیسیوں پر تنقید اس لیے کرتے ہیں کہ اگر ہمیں کسی پالیسی میں غلطی نظر آتی ہے یا وہ ہمارے منشور کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو ہم اس کی نشاندہی کرتے ہیں اور اسے درست کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ اس لیے دیتی رہی ہے کہ ملک کو اس وقت ایک نازک صورتحال کا سامنا ہے اور ہماری قیادت اندرونی و بیرونی محاذ پر ملک کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: 6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ خارجہ محاذ پر بھی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور داخلی محاذ پر بھی بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول یہ ایک نازک نظام ہے اور اسے کسی نئے چیلنج کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری قائد حزب اختلاف سے مل رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نفرتیں ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ ہماری پہلے سے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت کیا تھا جبکہ آج اپوزیشن جماعتوں سے ملاقاتوں کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ چھوڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے ساتھ پیپلز پارٹی کے بہت سے گلے شکوے ہیں اور ان میں سے کئی معاملات نے طول بھی پکڑا ہے جس کا اظہار حالیہ کشمیر کے انتخابات کے دوران بھی ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: نئے صوبے بنیں یا نہیں؟ سوشل میڈیا پر صارفین کی آرا منقسم

تاہم قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ اس کے باوجود اپوزیشن جماعتوں سے ہونے والی ملاقاتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ پیپلز پارٹی حکومت چھوڑنے جا رہی ہے یا حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاہی خاندان سے دوری کے 6 سال بعد ہیری اور میگھن کا برطانیہ واپسی کا فیصلہ

ہیڈن پنیٹیئر کی موت کا معمہ، آخری لمحات کی تفصیلات سامنے آگئیں، بوائے فرینڈ نے بھی خاموشی توڑ دی

شام کے وزیر خارجہ کی آرمی چیف سے ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی سیکیورٹی واپس لے لی

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

ویڈیو

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

الیکٹرک بائیک یا اسکوٹر خریدیں، ایک لاکھ روپے حاصل کریں

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

کالم / تجزیہ

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک