پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی بحث ایک بار پھر زور پکڑنے لگی ہے جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس معاملے پر آرا سامنے آ رہی ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی تجویز پیش کی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے بھی نئے صوبوں کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نئے صوبے صرف آئین اور قانون کے مطابق ہی بنائے جانے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے محسن نقوی کی قابلیت پر کوئی شک نہیں، اگر وہ چاہیں تو نئے صوبے بن جائیں گے، مفتاح اسماعیل
سوشل میڈیا صارف صدیق ساجد نے بھی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے جاری بحث کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ایک صحت مند بحث کا آغاز ہو چکا ہے جو اب رکنے والی نہیں۔ ان کے مطابق اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے تاہم اتفاقِ رائے سے نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تو اس کے فوائد پورے ملک کو حاصل ہوں گے۔
نئے انتظامی یونٹس کہہ لیں یا نئے صوبے اس طرح کے مباحثوں کے ذریعے ایک صحت مندانہ بحث کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جو کہ رکنے والا نہیں ہے گوکہ اس میں وقت لگے گا لیکن اتفاق رائے سے اگر یہ یونٹس بنتے ہیں تو پورے پاکستان کو اس کا فائدہ ہوگا اور جو علاقے ترقی سے محروم ہیں وہ بھی قومی دھارے… https://t.co/abrKCiiXql
— Siddeeq Sajid (@S_SajidOfficial) August 16, 2026
سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ آئین کے اندر رہ کر نئے صوبے ضرور بنائیں لیکن نئے صوبوں کے نام پر پاکستان کے موجودہ صوبوں کی شناخت مت چھینیں، دو صوبوں میں پہلے سے بد امنی پھیلی ہوئی ہے ایک اور صوبے میں نفرتوں کی آگ بھڑکنے کا فائدہ بھارت اٹھائے گا جس کے قومی ترانے میں آج بھی سندھ شامل ہے۔
آئین کے اندر رہ کر نئے صوبے ضرور بنائیں لیکن نئے صوبوں کے نام پر پاکستان کے موجودہ صوبوں کی شناخت مت چھینیں، دو صوبوں میں پہلے سے بد امنی پھیلی ہوئی ہے ایک اور صوبے میں نفرتوں کی آگ بھڑکنے کا فائدہ بھارت اٹھائے گاجس کے قومی ترانے میں آج بھی سندھ شامل ہے https://t.co/YTPP8sfJXI
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 17, 2026
بشارت راجہ لکھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے صوبے بنانے کے حوالے سے پاکستانی عوام متفق ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے صوبے بنانے کے حوالے سے پاکستانی عوام متفق ہے۔ https://t.co/h1Aj1OpkaZ
— Basharat Raja (@BasharatRaja786) August 16, 2026
مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا کہ نئے صوبے یا یونٹس بنانا مسائل کا واحد حل نہیں۔ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی ادارے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کر سکتے ہیں۔ پنجاب نے اسی سمت عملی قدم اٹھاتے ہوئے تقریباً 12.5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اصل ضرورت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر عوامی خدمت ہے۔
نئے صوبے یا یونٹس بنانا مسائل کا واحد حل نہیں۔ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی ادارے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کر سکتے ہیں۔ پنجاب نے اسی سمت عملی قدم اٹھاتے ہوئے تقریباً 12.5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اصل ضرورت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر عوامی خدمت ہے
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) August 16, 2026
عارف حمید بھٹی نے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بناننے کی باتیں عام ہیں پر تعجب ہے دو جماعتیں جنکی بظاہر حکومت ہے وہ اندر خانے نئے صوبوں کی مخالفت کررہی ہیں ،حکومتی اتحادی جاعتوں کےاسمبلیوں کی منظوری کے بغیر صوبے کیسے بنے گے۔
نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بناننے کی باتیں عام ہیں ، پر تعجب ہے دو جماعتیں جنکی بظاہر حکومت ہے وہ اندر خانے نئے صوبوں کی مخالفت کررہی ہیں ،حکومتی اتحادی جاعتوں کےاسمبلیوں کی منظوری کے بغیر صوبے کیسے بنے گے۔
— Arif Hameed Bhatti (@arifhameed15) August 16, 2026
واضح رہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق موجودہ سیاسی بحث کا آغاز گزشتہ ماہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کے بعد ہوا جب انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ ملک کو درپیش اہم قومی مسائل کے حل کے لیے سیاسی قوتیں مل بیٹھیں اور مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھائیں۔
یہ بھی پڑھیں: آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم
وفاقی وزیر داخلہ نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے کو بھی ان اہم قومی امور میں شامل کیا اور موجودہ نظامِ حکمرانی کو ’ناکارہ‘ قرار دیتے ہوئے سیاسی مذاکرات کو مسائل کے حل کا مؤثر راستہ قرار دیا۔
محسن نقوی کے بیان کے بعد پاک فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے بھی حکمرانی کے نظام میں انتظامی تبدیلیوں پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔














