فنانس ایکٹ 2026-27 کے تحت کاروبار کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے مربوط نہ کرنے پر بھاری جرمانے اور کاروباری مراکز سیل کرنے کی کارروائی کی جاسکے گی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق فنانس ایکٹ میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت کاروباری سرگرمیوں کی الیکٹرانک نگرانی، ٹریکنگ، رپورٹنگ اور فروخت و پیداوار کا ریکارڈ رکھنے کے لیے متعلقہ کاروبار کو ایف بی آر کے نظام سے منسلک کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ مقررہ مدت میں انضمام نہ کرنے والے کاروبار پر پہلی بار 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ایک کروڑ روپے سے زائد کے لین دین پر ایف بی آر نے نیا ضابطہ نافذ کردیا
رپورٹ کے مطابق اگر پہلی سزا عائد کیے جانے کے ایک ماہ بعد بھی خلاف ورزی جاری رہی تو کاروبار پر دوسری مرتبہ 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا، جبکہ ایف بی آر نظام سے انضمام میں ناکامی پر کاروباری احاطہ سیل کرنے کی کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔
فنانس بل سے متعلق جون میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ڈیجیٹل انٹیگریشن سے متعلق جرمانوں کے ساتھ جعلی اور فرضی ٹیکس انوائسز کے خلاف بھی سخت کارروائی کی گئی ہے۔ جعلی انوائس جاری کرنے والے پر انوائس کی مکمل مالیت کے برابر جرمانہ جبکہ ان پٹ اور آؤٹ پٹ ٹیکس میں فرق ثابت ہونے پر 20 فیصد جرمانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے کاروباروں کو مربوط کرنے کا مقصد فروخت اور ٹیکس سے متعلق لین دین کی نگرانی، ریکارڈنگ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کو مؤثر بنانا ہے۔














