پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں 103 رنز سے شکست کے دوران کئی ان چاہے و ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کر لیے۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کی بدترین شکست
ہیڈنگلے میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں انگلینڈ کے فاسٹ بولرز اولی رابنسن اور جوش ٹنگ کی تباہ کن بولنگ کے سامنے صرف 171 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ دونوں بولرز نے 5،5 وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں انگلینڈ نے علی عثمان کی تاریخی 5 وکٹوں کے باوجود 409 رنز بنائے۔ انگلینڈ کی جانب سے جارڈن کاکس، جو روٹ، ہیری بروک اور ڈین لارنس نے نصف سینچریاں اسکور کیں، جس کے باعث میزبان ٹیم کو پاکستان پر 238 رنز کی بڑی برتری حاصل ہوگئی۔
پاکستان کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے دوسری اننگز میں اس خسارے کو ختم کرنا تھا تاہم پوری ٹیم صرف 135 رنز پر 37.3 اوورز میں آؤٹ ہوگئی۔
مزید پڑھیے: پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ ٹیم پر کرفیو نہیں ہوگا، جو روٹ نے کھلاڑیوں پر اعتماد کا اظہار کردیا
اس طرح پاکستان نے سنہ 2000 کے بعد انگلینڈ میں اپنا چھٹا کم ترین ٹیسٹ اسکور بنایا۔ اس عرصے میں انگلینڈ میں پاکستان کا سب سے کم مجموعہ سنہ 2010 میں ایجبسٹن کے مقام پر 72 رنز رہا ہے۔
🚨 Pakistan’s 2nd innings 😭
Not even 5 overs into the innings and Jofra Archer has already picked up 2 wickets. 💀
Babar Azam would’ve been packing his bags for the pavilion by now… but well, he’s not even playing this match. 😭😂
Pakistan really chose the perfect time to…
— Cricket News (@CricketNews_63) August 21, 2026
انگلینڈ میں 2000 کے بعد پاکستان کے کم ترین مجموعے
2010، ایجبسٹن — 72 رنز
2010، لارڈز — 74 رنز
2010، ٹرینٹ برج — 80 رنز
2006، اولڈ ٹریفورڈ — 119 رنز
2018، ہیڈنگلے — 134 رنز
2026، ہیڈنگلے — 135 رنز
پاکستان کی بیٹنگ کی یہ تاریخی ناکامی انگلینڈ کے خلاف اننگز کے اعتبار سے اس کی چھٹی سب سے بڑی شکست کا سبب بھی بنی۔
یہ سنہ 2010 کے بعد انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی اننگز کے اعتبار سے سب سے بڑی شکست ہے۔ سنہ 2010 میں پاکستان کو لارڈز کے مقام پر اننگز اور 225 رنز سے شکست ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: پاک انگلینڈ ٹیسٹ: جو روٹ نے سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ برابر کردیا
پاکستان کے خلاف انگلینڈ کی اننگز کے اعتبار سے بڑی فتوحات
2010، لارڈز — اننگز اور 225 رنز
1954، ٹرینٹ برج — اننگز اور 129 رنز
2006، اولڈ ٹریفورڈ — اننگز اور 120 رنز
1978، لارڈز — اننگز اور 120 رنز
1962، ہیڈنگلے — اننگز اور 117 رنز
2026، ہیڈنگلے — اننگز اور 103 رنز
پاکستان اس سیریز سے قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف اس کی سرزمین پر 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کرنے کے بعد انگلینڈ پہنچا تھا تاہم پہلے ہی ٹیسٹ میں بیٹنگ کی ناکامی نے شاہینوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔














