سفید جادو، مثبت اور مددگار

ہفتہ 22 اگست 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج تک ہم کالا جادو ہی سنتے اور پڑھتے آئے ہیں اور اس سے ڈرتے بھی آئے ہیں۔ مگر اب پتا چلا کہ ایک’سفید جادو‘ بھی ہوتا ہے، جو نقصان دہ یا مہلک نہیں سمجھا جاتا۔

اس جادو کی مشق بھی قدیم زمانے ہی سے جادوگر اور جادوگرنیاں کرتی آ رہی ہیں، لیکن اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا، اس لیے یہ زیادہ مشہور نہیں ہوا اور نہ ہی اس پر زیادہ توجہ دی گئی تھی۔ جب اس جادو کی بات کی جاتی ہے تو اس کی رسومات اور منتروں کے ذریعے لوگوں کی مدد کرنے کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

سفید جادوگروں کو ان کے کام کے لحاظ سے روایتی جادوگر اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جادو، نقصان دینے والے روایتی جادو یا کالے جادو کے توڑ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اگر کسی شخص پر کسی نے جادو کیا ہو یا کسی اور سے کرایا ہو تو اس کی کاٹ کے لیے سفید جادو کرنے والے ’عامل‘ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی سفید جادو کے کئی قسم کے اچھے استعمالات ہیں۔

سفید جادو کے لیے کبھی ایسی اشیا استعمال نہیں کی جاتیں جو عام یا کالا جادو کرنے والے کرتے ہیں، جن سے خوف، کراہت اور ایک طرح سے سماج دشمنی اور لاقانونیت وابستہ سمجھی جاتی ہے، بلکہ اس میں روزمرہ زندگی میں کام آنے والی بے ضرر چیزیں ہی استعمال ہوتی ہیں۔

ان میں موم بتیاں بے حد اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ خاص قسم کے سکے، توجہ مبذول کرانے والی کچھ علامتی اشیا، جیسے کرسٹل گلوب، معمول کے چہرے کو ڈھکنے کے لیے اس کے گھر کی کسی خاتون کے استعمال شدہ جالی دار کپڑے کا ٹکڑا، جس پر جادو کروانے کا شک یا الزام ہو، اس کے پاؤں چلتے یا گزرتے ہوئے جہاں پڑے ہوں، وہاں کی مٹی، جو کہ اس کے گھر کے سامنے سے رات کے وقت اٹھائی جائے، استعمال کی جاتی ہے۔

اگر سفید جادو فریقین کے مابین تعلق بہتر کرنے، پیار محبت بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے تو جادوگر سرخ رنگ کی موم بتیاں روشن کر کے، ان کے سامنے بیٹھ کر ’عمل‘ کرتا ہے۔

اگر کاروبار اور دکانداری وغیرہ میں برکت کی تمنا کے ساتھ سفید جادو کرنے والے کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں تو وہ اس مقصد کے لیے سائل کے گھر سے تھوڑے سے چاول اور آٹا منگوا کر اپنے سامنے رکھتا ہے اور ان پر منتر وغیرہ پڑھ کر یہی چیزیں واپس سائل کے حوالے کرتے ہوئے اسے ہدایت کرتا ہے کہ اپنے گھر میں پڑے ہوئے چاولوں اور آٹے کے ذخیرے میں یہ پڑھے ہوئے ’سیمپل‘ ملا دے اور استعمال کرتا رہے۔

اگر اناج کا ذخیرہ کم ہو جائے تو نیا خرید کر اس میں بچے ہوئے چاول اور آٹا ملاتا رہے، تاکہ خوشحالی اور خیر و برکت جاری رہے!

سفید جادو کو مختلف امراض سے نجات کے علاوہ شخصی اور ذاتی صلاحیتوں کے نکھار اور کامیاب انسان بننے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

کالا جادو بجا طور پر دنیا بھر میں شیطانی عمل سمجھا جاتا ہے، جس کی مشقوں میں شیطانی اشیا، بھوتوں سے مشابہت رکھنے والے پُتلے (گڈّے)، سوئیاں اور دوسرا گند بلا شامل ہوتا ہے۔

اس کے برعکس سفید جادو کرنے والے مثبت سمجھی جانے والی اشیا سے کام لیتے ہیں۔ وہ بھی کپڑے اور روئی سے پتلے بناتے ہیں، مگر ان کی شباہت میں ملکوتی حسن اور نرمی جھلکتی ہے۔

اس لیے یہ چیزیں بنانے کے لیے جادوگر کا فن کار مزاج یا آرٹسٹ ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے سفید جادو کی مشقوں سے پہلے انہیں مصوری، مجسمہ سازی اور دیگر فنون کی بنیادی تربیت اور اسباق لینا پڑتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان خاص جادوگروں کو اپنی صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی اس جگہ کا بھی جہاں وہ سفید جادو کی مشقیں کرتے ہیں۔

وہاں جو چیزیں جمع کر کے رکھتے ہیں، ان میں مختلف رنگوں کی موم بتیاں، اگربتیاں، لوبان، خوشبوئیں، سمندری نمک، کھوپرے کا تیل، دودھ، چھوٹا چاقو، سفید دھاگے وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

سفید جادو کی مشقوں اور عمل کے لیے ہر دن کی اپنی الگ اہمیت اور خصوصیت ہوتی ہے۔ جیسے اتوار کو سورج کا دن سمجھا جاتا ہے اور اس کا برج اسد (لیو) ہوتا ہے۔

اس دن تنازعات کا خاتمہ کرانے، تصفیہ طلب معاملات نمٹانے کے کام کیے جاتے ہیں۔ اس لیے اتوار کو امن، خوشی، صحت مندی اور یکجہتی کا دن بھی قرار دیا جاتا ہے۔

اسی دن سائلین کے لیے ملازمت کے حصول، دفتر میں ترقی، کاروبار میں اضافے، خوشحالی اور نئے منصوبوں کی کامیابی سے متعلق ’جادوئی‘ کام کیے جاتے ہیں۔

پیر کا دن چندا ماموں سے منسوب کیا گیا ہے اور اس کا برج سرطان ہے۔ یہ گھر پر چھائے بداثرات دور کرنے، نجی معاملات بہتر کرنے اور سفر پر روانہ ہونے کے لیے بہترین دن سمجھا جاتا ہے۔اس لیے سفید جادو کرنے والے پیر کو فقط انہی معاملات سے متعلق جادوئی مشقیں کرتے ہیں۔

منگل کے دن کو مریخ سے جوڑا جاتا ہے اور اس کے بروج حمل اور عقرب بتائے گئے ہیں۔ اس دن کو ان سرگرمیوں، کھیلوں کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے، جن میں طاقت کا استعمال ہوتا ہے، یعنی مردانہ قسم کے کھیل وغیرہ کے لیے یہ اچھا دن ہے۔

بدھ کو عطارد سیارے سے جوڑا جاتا ہے اور سفید جادوگروں کے بقول اس کے بروج جوزا اور سنبلہ ہیں۔ اس دن رابطہ کاری مضبوط کرنے کی جادوئی مشقیں کی جاتی ہیں۔ بدھ کا دن ذہنی صحت، نئی نئی چیزیں سیکھنے اور تخلیقی قابلیت بڑھانے کے لیے اچھا سمجھا جاتا ہے۔

جمعرات سیارے مشتری سے منسوب کرکے، اس کے بروج قوس و حوت بتائے گئے ہیں۔ اس دن دولت سے متعلق معاملات کو سفید جادو کے ذریعے نمٹانے کے کام کیے جاتے ہیں۔

اس دن تنخواہ میں اضافے، نئی ملازمت کی تلاش، سرمایہ کاری وغیرہ کی مشاورت دی جاتی ہے اور اس سے متعلق نقش اور تعویذ مہیا کیے جاتے ہیں۔

جمعے کا سعد دن زہرہ سیارے کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اس کے بروج ثور اور میزان بتائے گئے ہیں۔ سفید جادو کرنے والے افراد اس دن کو سائلین کے دل کے معاملات بہتر کرانے، شادی اور خاندانی تعلقات بحال کروانے کے لیے ترجیحی مشقیں کرتے ہیں۔

ہفتے کا دن سیارہ زحل کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے، جس کے بروج جدی اور دلو ہیں۔ ہفتے کے دن حکمت و دانائی، تسخیر اور اسرار سے متعلق امور پر کام کیا جاتا ہے۔کسی سائل پر بداثرات کی کاٹ کرنے کے لیے بھی یہ دن بہترین سمجھا جاتا ہے۔

سفید جادوگر کوئی بھی جادوئی رسم شروع کرنے سے پہلے طویل مراقبہ کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسی مراقبے کے دوران انہیں متعلقہ مسئلے کے حل کی راہ سجھائی دیتی ہے۔

اس کے بعد وہ پوری توجہ مرکوز کر کے اپنے اندر سے منفی سوچیں ختم کرتے ہیں اور جادوئی رسومات ادا کرکے سائل کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان کے پاس اگر آپس میں ناراض کوئی جوڑا، میاں بیوی آتا ہے، جن کا تعلق بس ٹوٹنے پر ہوتا ہے تو یہ جادوگر اپنی کمائی کے لیے کبھی بھی ان کے الگ ہو جانے یا تعلق توڑنے کی حمایت نہیں کرتے۔

وہ پوری پوری کوشش کرتے ہیں کہ ان کا گھر بسا رہے۔ اس کے لیے اس جوڑے کو جمعے کے دن بلاتے ہیں اور ان کے آنے پر ضروری منتر وغیرہ پڑھ کر، رسومات ادا کر کے ان کے مابین پیار محبت کا تعلق بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنا مناسب معاوضہ وصول کرتے ہیں۔

کیلی فورنیا میں سفید جادو کا مرکز چلانے والی اینا، جنھیں علاقے کے لوگ ’وائٹ وِچ اینا‘ کے نام سے جانتے اور پکارتے ہیں، وہ کہتی ہیں۔

’سفید جادو خالصتاً توانائی ہے۔ یہ توانائی مثبت قوتوں سے بھرپور ہوتی ہے اور اس کے منفی اثرات قطعی نہیں ہوتے۔ اگر کوئی 2 فرد آپس میں ناراض ہوں تو ان کے درمیان صلح کرانا ہم جیسے ’عاملوں‘ کے لیے سب سے پسندیدہ عمل ہوتا ہے۔‘

ہم کبھی بھی کسی کا بریک اپ نہیں کراتے اور نہ ہی ایسا چاہتے ہیں۔ ہم چونکہ خود کو اچھائی کے علم بردار سمجھتے ہیں، اس لیے کبھی کسی کے ساتھ برا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

چاہے ہمارا کوئی کلائنٹ اس کے لیے ہمیں کتنا ہی بھاری معاوضہ دینے کی پیش کش کیوں نہ کرے، ہم اس کے کہنے پر اس کے کسی مخالف یا دشمن کے خلاف کوئی جادو ٹونا نہیں کرتے۔آپ بس یہ سمجھ لیں کہ ہم جو وائٹ میجیشن کہلاتے ہیں، ہمارے اندر کسی کے ساتھ کچھ بھی برا کرنے کی جبلت ہے ہی نہیں۔

اس قسم کی جادوئی رسومات میں کبھی کسی جاندار کو نقصان نہیں پہنچایا جاتا، جیسا کہ کالے یا عام جادو کرنے والے جادوگر کسی جانور، پرندے کی قربانی دیتے ہیں، اپنے مالی مفاد کے لیے کسی بھی انسان کو نقصان پہنچانے سے بھی انہیں عار نہیں ہوتی۔۔۔ مگر سفید جادو میں خیر ہی خیر ہوتا ہے۔ اس میں شر کا پہلو نہیں ہوتا۔

اسی لیے جو لوگ مختلف معاشرتی، نجی اور معاشی مسائل میں گھرے ہوتے ہیں، وہ بے فکر ہو کر ہمارے ہاں آتے ہیں اور ہم سے اپنے راز شیئر کرتے ہیں، جو کہ ہم اپنے سینے کی گہرائیوں میں دفن کر دیتے ہیں۔‘

ان جادوگروں کے کہنے کے مطابق ہماری اس کائنات میں ہر جگہ، ہر جانب سفید یعنی مثبت توانائی کی موجیں لہراتی پھرتی ہیں۔ مثبت سوچ اور خیالات رکھنے والا کوئی بھی انسان کچھ تربیت حاصل کر کے، مشقیں، مراقبہ اور پڑھائی کر کے سفید جادو کا ماہر بن سکتا ہے۔

اس کے لیے اسپین کے علاقے کیٹالونیا کی ایک سابقہ استانی ایمیلی روز کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے۔ اسے جب شوہر نے بغیر قصور کے طلاق دے کر چھوڑ دیا تو ایمیلی روز نے فیصلہ کیا کہ اب وہ تدریس چھوڑ کر ان شادی شدہ جوڑوں کی مدد کریں گی جو بریک اپ کرنے پر تیار ہیں یا ایک دوسرے کو چھوڑ رہے ہیں۔

اس کے لیے انہوں نے سفید جادو سیکھنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے اپنی جمع پونجی لے کر امریکا، برطانیہ اور جنوبی افریقا کے سفر کیے۔

وہاں ایمیلی سفید جادو کرنے والے معروف جادوگروں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں اپنا مقصد بتا کر مدد دینے کی درخواستیں کیں۔ سبھی جادوگروں نے ان کے مقصد کو سراہتے ہوئے کھلے دل سے انہیں یہ ’فن‘ سکھایا۔

اس طرح ایمیلی روز ’وائٹ وِچ‘ بن کر اپنے ملک واپس آئیں اور اب وہ ایسے میاں بیوی کی سفید جادو اور کونسلنگ کے ذریعے مدد کرتی ہیں جو ایک دوسرے سے الگ ہونے پر تلے ہوتے ہیں۔ایمیلی کو اس کا اتنا اچھا معاوضہ ملتا ہے کہ ان کا گزر بسر آسانی سے ہو رہا ہے۔ اپنی کایا پلٹ سے متعلق وہ کہتی ہیں:۔

’میں اس وقت بالکل ٹوٹ چکی تھی، جب میرے شوہر نے مجھے بلاوجہ چھوڑ دیا اور کسی دوسری خاتون کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لیے چلا گیا۔ مجھے دن رات ایسے خیالات آتے تھے کہ میں ان دونوں سے کیسے اس زیادتی کا بدلہ لوں؟‘

ایک رات انہی سوچوں میں غلطاں میں لیٹی ہوئی تھی کہ اچانک ہی میرے ذہن میں جیسے روشنی سی بھر گئی اور مجھے خیال آیا کہ میں صرف بدلہ لینے کے لیے ہی کیوں سوچتی رہتی ہوں؟ اس سے بہتر کوئی سوچ میرے ذہن میں کیوں نہیں آتی؟۔۔۔!

تب مجھے جیسے قدرت نے ایک اچھی راہ سجھائی کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے، میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کوشش کیوں نہ کروں، تاکہ بہت سارے گھر اجڑنے سے بچ جائیں؟

تبھی میں نے نیٹ پر تلاش کر کے سفید جادو سے متعلق معلومات حاصل کیں اور فیصلہ کیا کہ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتی ہوں۔

اس کے بعد کی میری حقیقی کہانی سب کو پتا ہے۔ اب میں ایک بڑے گھر میں منتقل ہو چکی ہوں، جہاں مراقبہ کرنے، سفید جادو کی مثبت مشقیں کرنے اور مسائل میں مبتلا سائلین سے ملاقاتیں کرنے کے لیے علیحدہ علیحدہ کمرے ہیں۔

بیرونِ شہر سے بھی کچھ جوڑے ایسے آتے ہیں، جن کے پاس یہاں رہنے کا بندوبست نہیں ہوتا۔۔۔ تو میں انہیں مناسب کرائے پر اپنے گھر میں کمرہ مہیا کر دیتی ہوں۔ اس سے انہیں بھی فائدہ ہوتا ہے کہ سفید جادو کی رسومات کے لیے انہیں بار بار آنے جانے کی زحمت نہیں کرنا پڑتی۔

بہرحال میں سمجھتی ہوں کہ سفید جادو اس دنیا کے لیے ایک بلیسنگ ہے۔ اسے جادو کہنے سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی عام جادو یا کالے جادو کی طرح لوگوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی غیر انسانی طریقہ ہے، مگر ایسا نہیں ہے۔‘

ایک اور جادوگر ریمنڈ لازرس بتاتا ہے کہ’سفید جادو کے لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں ہر انسان کے بھلے کے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہے۔ ہماری کائنات ہر وقت ہمیں ایسے اشارے (سگنلز) بھیجتی رہتی ہے، جن کو اگر سمجھ لیا جائے تو ہمارے ذہن کھل جائیں گے اور ہم قدرت کے کئی سربستہ راز اور اسرار بھی سمجھنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔‘

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر موجود خفتہ توانائیوں کو بیدار کریں، انہیں سمجھنے اور ان سے کام لینے کی اہلیت پیدا کریں۔ مگر اس سے پہلے ہمیں تمام منفی سوچیں اور غصہ ختم کرنا ہوتا ہے، کیوں کہ یہ کائنات، قدرت اور ہمارا تخلیق کار ہم سے بہت پیار کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی پیار ہی سے تسخیر کرنا چاہیے۔‘

سفید جادو کی بنیادی شرطوں میں سے ایک بے غرض ہونا ہے۔ اس کے لیے خود غرضی، لالچ اور ذاتی مفاد کے حصول کے عنصر کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔’مسائل میں پھنسے لوگوں کی بے غرض مدد کرنا ہی سفید جادو کہلاتا ہے۔‘

مارگریتا ہیکل، سفید جادو کی سویڈش ماہر، کہتی ہیں کہ’اس میں روحانی قوت کو انسان ذات کی فلاح کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے ’عامل‘ عموماً مظاہر پرست لوگ ہوتے ہیں، مگر اس فرق کے ساتھ کہ یہ اس کائنات کو ایک عظیم مالک کی تخلیق سمجھتے ہیں۔‘

ماہرین اس سفید جادو کی بنیادیں قدیم مصر کی اصنام پرستی کی روایت میں تلاش کرتے ہیں، جہاں سے یہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتا چلا گیا اور پھر مغرب تک پہنچا۔ مگر یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ اسلام کے آنے کے بعد اس میں خیر کا پہلو حاوی ہوتا گیا ہے اور بت پرستی کی رسومات کم ہوتے ہوتے ختم ہی ہو گئی ہیں۔

اوّلین ادوار میں سفید جادو کی رسومات خفیہ طور پر غاروں میں اور آبادیوں سے دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ادا کی جاتی تھیں، کیوں کہ کالے جادوگر اور اس قبیل کے دیگر منفی اور سفلی کے ماہرین انہیں برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔

15ویں صدی عیسوی میں رومن ایمپائر کی حدود میں چرچ نے اس کے خلاف مہم شروع کی اور اس کی پریکٹس کرنے والوں پر کافی سختیاں کی گئیں۔

مگر بعد میں عوامی حلقوں نے جب اس کی حمایت کرنا شروع کی تو چرچ کو پیچھے ہٹنا پڑا اور سفید جادوگروں کی زندگی آسان ہوئی۔نہ صرف اتنا بلکہ آگے چل کر عیسائیت میں سفید جادو کرنے والوں کو برگزیدہ ہستی (سینٹ) کا رتبہ بھی دیا جانے لگا۔

16ویں صدی کے اطالوی فلسفی، ڈراما رائٹر گیامباتستا ڈیلا پورٹا نے اپنی پوری عمر غیر رسمی تعلیم یا علم حاصل کرنے میں گزاری۔ اس نے سفید جادو سمیت کئی عمرانی علوم پر تحقیق کی اور مقالے لکھے تھے۔

اس کا سب سے مشہور تحقیقی کام ’ماغیائے نیچورالِس‘ (نیچرل میجک) کے عنوان سے 1558 میں شائع ہوا، جو سفید جادو سے متعلق تھا۔ اس کتاب میں اس نے جادو کی کئی اقسام پر تحقیقی مضامین شامل کیے، مگر موضوع کا غالب حصہ سفید جادو اور اس کے فوائد پر مشتمل تھا۔

گیامباتستا ڈیلا پورٹا نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ سفید جادو کی رسومات اور علامات کے علاوہ اس کے مقاصد میں بھی اسلام کی آمد کے بعد کافی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔

پہلے عبرانی زبان میں تنتر منتر ہوتے تھے اور 8 گوشیہ ستارۂ داؤدی اس جادو کی اہم علامت تھا، مگر بعد میں، کچھ عرصے کے لیے، پنج گوشیہ ستارہ علامت ٹھہرا، جو کہ مسلم دنیا کی علامت ہے۔

نیکی، خیر اور فلاح کے بیشتر پہلو بھی اس علم میں اسلامی روایات کی دین سمجھے جاتے ہیں۔ اسلام کو دینِ فطرت قرار دیا جاتا ہے، جس کی پیروی میں سفید جادو کو بھی جادوئے فطرت (نیچرل میجک) کہا جانے لگا۔

سفید جادو سے متعلق تحقیق آج بھی جاری ہے۔ 2009  میں رابرٹ ایم پلیس نے اپنی کتاب ’میجک اینڈ الکیمی‘ میں کالے اور سفید جادو سے متعلق سیرحاصل بحث کی ہے۔وہ سفید جادو کو ’اعلیٰ اوصاف کا عمل‘ قرار دیتا ہے اور اس کے برعکس کالے جادو کو ’گھٹیا مقاصد کے لیے کی جانے والی منفی مشق‘ کہتا ہے۔

وہ مزید کہتا ہے کہ سفید جادو کا بنیادی مقصد اچھائی کا فروغ ہے۔ اس کے ’عامل‘ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔ اس لیے اگر بدلے میں لوگ ان کی گزارے لائق مالی امداد کرتے ہیں تو یہ بھی نیکی ہے۔ ان کے مطابق سفید جادو کے ذریعے زمانۂ قدیم سے نیکی اور بھلائی کا پرچار ہوتا آیا ہے۔

اس میدان کے پرانے جادوگر لوگوں کے امراض کا علاج کرنے، ان کے خوابوں کی تعبیر بتانے، انہیں زندگی کے نیک مقاصد کی جانب راغب کرنے، ان کی کھوئی ہوئی قیمتی چیزیں تلاش کرنے میں مدد کرنے اور ان کی فصلوں کی اچھی پیداوار کے لیے جادوئی مشقیں کیا کرتے تھے۔

رابرٹ پلیس کے مطابق آج کل سفید جادو زیادہ تر خواتین کے کام آتا ہے۔ ان کے ازدواجی مسائل، ملازمت، شوہر اور سسرال کی محبت، اولاد اور ایسے ہی دیگر نسائی مسائل کے لیے عورتیں سفید جادوگروں کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔

افریقہ میں کام کرنے والے سفید جادوگر ان کاموں کے علاوہ قحط وغیرہ کے خاتمے کے لیے بھی خصوصی عبادات، جادوئی عمل اور منتر سے کام لیتے ہیں۔

سفید جادو کی پریکٹس کرنے والے چاہے افریقہ میں ہوں یا امریکا میں، ماضی میں ان کی زندگی بہت مشکل رہی ہے۔ آج بھی ان کے فلاحی کردار سے متعلق عام لوگ کچھ زیادہ نہیں جانتے اور انہیں بھی عام جادوگر ہی سمجھا جاتا رہا ہے، جو ایک فریق سے پیسے لے کر دوسرے فریق کو شیطانی رسومات کے ذریعے نقصان پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔

ان کے کام سے متعلق درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ماضی میں کئی ملکوں میں انہیں بھی کالے جادوگروں اور جادوگرنیوں کے ساتھ زندہ جلایا جاتا رہا ہے اور دوسری سزائیں دی جاتی رہی ہیں۔

سفید جادو پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں اسے لوگوں کی ’روحانی امداد‘ کا نام دیا گیا ہے اور مسلمانوں کے صوفیوں، ہندوؤں کے یوگیوں، بدھ مت کے بھکشوؤں اور عیسائیت کے سینٹس کو بھی سفید جادو کرنے والوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

اس تحقیق میں سفید جادوگروں کی چند خامیاں بھی بیان کی گئی ہیں، جن میں سرفہرست یہ ہے کہ ان لوگوں میں غرور آ جاتا ہے کہ وہ آسمان سے اتری ہوئی کوئی مخلوق ہیں، جو نیکی کے لیے دنیا میں لائے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ چونکہ وہ خود کو نیک، پارسا اور عوامی مددگار قسم کی شخصیت سمجھنے لگتے ہیں، اس لیے اکثریت کو برا سمجھ کر خواہ مخواہ ان کو سدھارنے کی ذمہ داری اپنے شانوں پر اٹھا لیتے ہیں۔

اس لیے عام لوگ پھر ان سے کترانے اور دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سفید جادو کا سلسلہ آج بھی افریقہ کے تاریک براعظم سے امریکا کے ماڈرن معاشرے تک پھیلا ہوا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی