ٹیکسلا میں ٹک ٹاکر گلمینہ کے قتل کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، راولپنڈی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتولہ کے اپنے گھر والے ہی قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث نکلے، جن میں والد، بھائی اور کزن شامل ہیں۔
ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گلمینہ کو اس کے والد، بھائی اور کزن نے مبینہ طور پر مل کر قتل کروایا، جبکہ مقتولہ کا والد اپنی بیٹی کے قتل کے بعد مقدمے کا مدعی بھی بن گیا۔
ملک طارق محبوب کے مطابق گلمینہ کے قتل کے معاملے میں تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اس کے گھر والے اس کی سوشل میڈیا ویڈیوز کو پسند نہیں کرتے تھے اور اسی مخالفت کے باعث قتل کی منصوبہ بندی کی گئی۔
قتل کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی منصوبہ بندی
ایس ایس پی آپریشنز نے بتایا کہ مقتولہ کے والد، بھائی، کزن اور دیگر رشتہ داروں نے مبینہ طور پر ایسا منصوبہ بنایا کہ گلمینہ کے قتل کا الزام کسی دوسرے شخص یا افراد پر عائد کیا جا سکے۔
انہوں نے کہاکہ پولیس نے کیس میں اب تک 5 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے ایک ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے، جبکہ دونوں شوٹرز بھی پولیس کی گرفت میں ہیں۔
ملک طارق محبوب نے گرفتار ملزمان کی شناخت بتاتے ہوئے کہا کہ قتل کے الزام میں فضل، بشیر، احسان، روزی خان اور یاسین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں مقتولہ کا والد فضل، بھائی بشیر، چچازاد بھائی احسان، والد کا چچا روزی خان اور چچازاد بھائی کا بیٹا یاسین شامل ہیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیجز اور مختلف مقامات پر چھاپے
ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق سی پی او کی جانب سے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ پولیس نے مختلف مقامات سے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کیں اور شواہد کی بنیاد پر متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں مقدمے میں جن افراد کو نامزد کیا گیا تھا، دورانِ تفتیش معلوم ہوا کہ قتل کے واقعے میں مزید لوگ بھی ملوث ہیں، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا اور مزید گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔
مقتولہ خیبرپختونخوا سے اسلام آباد منتقل ہوئی تھیں
ملک طارق محبوب نے بتایا کہ مقتولہ گلمینہ خیبرپختونخوا سے ہجرت کرکے اسلام آباد آئی تھیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک شادی کی تقریب میں ٹک ٹاکر کی شرکت پر بھی اعتراض سامنے آیا تھا۔
ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق گلمینہ پر اس سے پہلے بھی حملے کی کوشش کی گئی تھی، جو ہری پور میں کی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق گلمینہ کے قتل کے حوالے سے لاکڑتی میں ایک شادی شدہ خاتون کے قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے، جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔













