جنگ کے دوران الیکشن ملک کو دو لخت کر سکتے ہیں، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی وارننگ

اتوار 23 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے سے قبل انتخابات کرانے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ووٹنگ ملک کو شدید سیاسی انتشار اور تقسیم  کی جانب دھکیل سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران انتخابات کرانا یوکرین کے لیے ‘بہت بڑا خطرہ’ ہوگا اور اس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

صدر زیلنسکی نے یہ بیان ہفتہ کے روز صحافیوں سے ہونے والی بریفنگ کے دوران دیا، جس کی تفصیلات اتوار کو سامنے آئیں۔ کئی ماہ بعد صحافیوں کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں یوکرین کی داخلی سیاست اور جنگ سے متعلق اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

انتخابات یوکرین کو تقسیم کرنے والا سونامی ہوسکتے ہیں

ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ موجودہ جنگی حالات میں انتخابات کا انعقاد ملک کے لیے ایک بڑے خطرے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول اگر یوکرین کو تباہ کرنا مقصود ہو تو جنگ کے دوران انتخابات کی سمت میں پیش رفت کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیٹو سربراہی اجلاس، صرف 48 گھنٹوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سفارت کاری کا رخ بدل دیا

یوکرینی صدر نے واضح کیا کہ وہ انتخابات کے جمہوری حق کے خلاف نہیں، تاہم ان کے خیال میں موجودہ حالات میں انتخابی عمل ملک کے اندر اختلافات کو مزید گہرا کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی معاشرے اور فوج کے درمیان کسی بھی قسم کی تقسیم انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور ملک کو اس خطرے کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔

سابق وزیر دفاع کی انتخابی تجویز پر اختلاف

زیلنسکی کا یہ ردعمل سابق وزیر دفاع میخائیلو فیدوروف کی جانب سے جنگ کے دوران انتخابات کرانے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنے کی اچانک تجویز کے بعد سامنے آیا۔

فیدوروف، جنہیں حال ہی میں زیلنسکی نے عہدے سے ہٹایا تھا، نے انتخابات کے انعقاد کے لیے کوئی واضح طریقہ کار پیش نہیں کیا۔ ان کی تجویز کو سیاسی حلقوں میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے بعض حامیوں نے بھی اس موقف سے فاصلہ اختیار کیا۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 3 روزہ روس یوکرین جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے کا اعلان

زیلنسکی نے بریفنگ کے دوران فیدوروف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں وہ خود یا کسی کے دباؤ میں آکر ‘غلط سمت’ میں جا رہے ہیں۔

جنگی حالات میں انتخابات کے راستے میں کئی رکاوٹیں

واضح رہے کہ یوکرین میں جنگ کے دوران انتخابات کرانے کے لیے کئی بنیادی مسائل حل کرنا ہوں گے۔ ان میں محاذ پر موجود فوجیوں کے ووٹ ڈالنے کا طریقہ، بیرون ملک موجود لاکھوں یوکرینی پناہ گزینوں کی شرکت اور روس کے زیر قبضہ علاقوں کے رہائشیوں کے ووٹ کا مسئلہ شامل ہے۔

اس کے علاوہ روس کی جانب سے ممکنہ غلط معلومات اور انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوششیں بھی ایک بڑا خطرہ قرار دی جاتی ہیں۔

کیف انسٹی ٹیوٹ آف سوشیالوجی کے ایک سروے کے مطابق صرف 15 فیصد یوکرینی شہری جنگ ختم ہونے سے پہلے انتخابات کرانے کے حق میں ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابی عمل کے لیے عوامی حمایت محدود ہے۔

مارشل لا کے باعث انتخابات معطل

روس نے 2022 میں یوکرین پر مکمل حملہ شروع کیا تھا، جس کے بعد ملک میں مارشل لا نافذ ہے۔ مارشل لا کے تحت قومی انتخابات معطل ہیں اور یہ پالیسی اب بھی یوکرینی عوام کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل کیے ہوئے ہے۔

جنگ کے باعث ملک کے وسیع علاقوں کو براہ راست فوجی خطرات کا سامنا ہے، جبکہ لاکھوں شہری بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں اور کچھ علاقے روسی قبضے میں ہیں۔ ایسے حالات میں ملک گیر اور قابل اعتماد انتخابی عمل کا انعقاد ایک پیچیدہ انتظامی اور سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔

فوج اور معاشرے کو تقسیم نہ ہونے دینے پر زور

زیلنسکی نے کہا کہ یوکرینی شہریوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم فوجی اہلکاروں کے بارے میں توہین آمیز رویہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب سے ‘مارکیٹنگ’ ان لوگوں سے زیادہ اہم ہوگئی جو ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:زیلنسکی کیساتھ تلخ کلامی جیسے واقعے کا امکان، شاہ چارلس اور ٹرمپ کی ملاقات میڈیا سے دور ہوگی

یوکرینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے اور فوج کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوئی بھی کوشش ملک کے لیے خطرناک ہوگی۔ ان کے مطابق یوکرین کو ایسے تمام عوامل سے بچنا ہوگا جو جنگ کے دوران قومی اتحاد کو کمزور کرسکتے ہیں۔

فیدوروف اور یوکرینی فوج کے درمیان اختلافات

میخائیلو فیدوروف یوکرین کی ڈرون جنگی حکمت عملی کے نمایاں حامی رہے ہیں اور انہوں نے فوج میں اصلاحات کی حمایت کی۔ تاہم فوجی کمان اور روایتی جنگی حکمت عملی کے حامی حلقوں کے ساتھ ان کے اختلافات بھی سامنے آتے رہے۔

ایک مرحلے پر فیدوروف کے لیے عوامی حمایت میں اضافہ ہوا اور بعض حلقوں نے یوکرین کے کمانڈر ان چیف اولیکسینڈر سیرسکی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

یوم آزادی سے قبل اہم سیاسی بحث

زیلنسکی کے تازہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یوکرین 24 اگست کو اپنا یوم آزادی منا رہا ہے۔ اس موقع پر متعدد بین الاقوامی رہنماؤں کی یوکرین آمد متوقع ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے اتحادی ملک کی فضائی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت کریں گے۔ روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے مسلسل جاری ہیں، جس کے باعث جنگی حالات میں کسی بھی بڑے سیاسی یا انتخابی عمل کی سلامتی اور انتظام کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔

زیلنسکی کا تازہ موقف واضح کرتا ہے کہ ان کی حکومت کی ترجیح اس وقت انتخابات کے انعقاد کے بجائے جنگ کے دوران قومی اتحاد برقرار رکھنا اور روسی حملوں کے مقابلے میں ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عاطف اسلم کا 18 سال بعد نیا البم ’صبح آئے نہ‘ ریلیز، کراچی میں اسپاٹیفائی کے زیراہتمام جشن

جماعت اسلامی گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی، حافظ نعیم الرحمان کا صاف انکار

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

میر رضا قتل کیس: اہل خانہ نے سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مسترد کردیا

آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ کل ہوگی، 7 نشستوں پر 9 امیدوار مدمقابل

ویڈیو

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟