برطانیہ اور آئرلینڈ میں سوشل میڈیا پر لائکس کے حصول کے لیے غلط سائیڈ پر گاڑی چلانے کے خطرناک رجحان اور اسٹنٹ کے نتیجے میں پیش آنے والے ہولناک سڑک حادثات میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے کے دوران 12 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شمال مشرقی انگلینڈ کے شہر مڈلزبرا کے قریب اہم شاہراہ اے۔66 پر ہفتے کی صبح ایک مشکوک گاڑی کے تعاقب کے دوران افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں تعاقب سے بچنے کے لیے غلط سائیڈ پر آنے والی گاڑی نے صحیح سمت میں موجود پولیس کار کو ٹکر مار دی۔
یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے پر یو اے ای میں پاکستانیوں کو عمر قید کی سزا
اس حادثے میں ڈیوٹی پر مامور 2 پولیس افسران سمیت 7 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس سے قبل گزشتہ اتوار کو آئرلینڈ میں ڈبلن کے مغرب میں واقع ایم۔9 موٹروے پر غلط سائیڈ پر تیز رفتار سے جاتی گاڑی کی دوسری گاڑی سے آمنے سامنے ٹکر ہوئی، جس کے نتیجے میں 5 نوجوان جاں بحق جبکہ دوسری گاڑی میں سوار ایک بچے سمیت 4 افراد شدید زخمی ہو گئے۔
سوشل میڈیا ٹرینڈ اور وزیراعظم کا سخت ردعمل
حکام کے مطابق سڑکوں پر غلط سمت میں ڈرائیونگ کا یہ خوفناک سلسلہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے لیے اسٹنٹ کا نتیجہ ہے۔
آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن نے ان حادثات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شاہراہوں پر اس قسم کی لاپرواہی اور خطرناک رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں:’میری بات کو غلط رنگ دیا گیا‘، خواتین سے متعلق متنازع بیان پر شہود علوی کی وضاحت
پولیس چیف جسٹن کیلی نے بھی خبردار کیا ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کی ویوز اور لائکس کی خاطر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔
ڈبلن کی ایم۔50 موٹروے پر بھی چوری شدہ گاڑی کے ذریعے غلط سائیڈ ڈرائیونگ کا ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی تھی۔














