انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس نائٹ کلب کے باہر ہتھکڑیوں میں پکڑے گئے

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس ڈربی کے ایک نائٹ کلب کے باہر پولیس کی جانب سے ہتھکڑیوں میں پکڑے گئے، جس کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

مزید پڑھیں:ہیڈنگلے ٹیسٹ پر بارش کا خطرہ، پاکستان اور انگلینڈ کل پہلے میچ میں آمنے سامنے

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں کارس کو پولیس اہلکاروں کے گھیرے میں ہاتھ پیچھے کرکے ہتھکڑیوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور ساتھی کھلاڑی میتھیو پوٹس بھی موقع پر موجود تھے۔

رپورٹس کے مطابق کارس کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا اور بعدازاں بغیر کسی الزام کے رہا کردیا گیا۔ پولیس کی مداخلت کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔

مزید پڑھیں:پاکستان سیریز کے لیے انگلینڈ کے ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان، اسٹوکس کے بعد نئے دور کا آغاز

کارس کو پاکستان کے خلاف لارڈز میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کا حصہ تھے تاہم میچ نہیں کھیلے اور بعد میں ڈرہم کی نمائندگی کے لیے انہیں اسکواڈ سے ریلیز کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا نجی اسپتال سے علاج کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع

علی ظفر نے شمالی امریکا میں دھوم مچا دی، ’روشنی ٹور‘ میں 75 ہزار سے زائد مداح اُمڈ آئے

بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی، ایمنسٹی انٹرنیشنل

صدر آصف علی زرداری کا کیٹی بندر پورٹ کی مربوط ترقی پر زور

شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کا مقدمہ: آمنہ سعید کی ضمانت منظور، اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

ویڈیو

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟