اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر اور بیٹیوں پر تشدد کے مقدمے میں نامزد خاتون آمنہ سعید کی ضمانت منظور کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے آمنہ سعید کی ضمانت سے متعلق 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمہ آمنہ سعید کی ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ فریقین کے درمیان تنازع گھریلو اور خاندانی نوعیت کا ہے۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق پراسیکیوشن نے وقوعے کے بعد ملزمہ کی جانب سے اپنے شوہر کو خود اسپتال منتقل کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ میڈیکل ریکارڈ کے مطابق کوئی ایسی چوٹ سامنے نہیں آئی جو جان لیوا ثابت ہوئی ہو۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر جانبدارانہ جائزے اور مزید انکوائری کے تناظر میں ملزمہ ضمانت کی حقدار ہے۔
عدالت کے مطابق ملزمہ فلسفے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہے اور اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے تحت خواتین اور مخصوص طبقات کو ضمانت کی رعایت میں ترجیح دی جاتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اگر ملزمہ مقدمے کی کارروائی پر اثر انداز ہونے یا شواہد سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرے تو اس کی ضمانت منسوخی کے لیے درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔
آمنہ سعید کے خلاف تھانہ ویمن، اسلام آباد میں ان کے شوہر سعید احمد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔














