امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے فوجی اخبار ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے ایڈیٹر ان چیف ایرک سلاون، پبلشر میکس لیڈرر اور مشرق وسطیٰ کی رپورٹر لارا کورٹے کو برطرف کردیا ہے۔
برطرفیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اخبار کے اعلیٰ عملے نے ادارتی پالیسی میں حکومتی مداخلت اور ممکنہ سنسرشپ کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی تھی۔ تینوں کو جمعے کے روز بھیجے گئے برطرفی کے نوٹس میں ’نافرمانی‘ کو وجہ قرار دیا گیا۔
1861 میں امریکی خانہ جنگی کے دوران قائم ہونے والا ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ امریکی فوجیوں کے لیے اہم خبر رساں ادارہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی آن لائن اور بیرون ملک مطبوعہ اشاعتیں روزانہ تقریباً 14 لاکھ قارئین تک پہنچتی ہیں۔ اگرچہ اخبار کو جزوی طور پر پینٹاگون سے مالی معاونت ملتی ہے، تاہم قانون کے تحت اسے ادارتی آزادی حاصل ہے۔
The editor-in-chief of Stars and Stripes says the Pentagon fired him, along with the military newspaper’s publisher and a reporter.
Erik Slavin told The Associated Press on Friday that he was dismissed for insubordination after saying in an interview that any form of censorship… pic.twitter.com/dsHNaWMCFx
— PBS News (@NewsHour) August 22, 2026
ایڈیٹر ایرک سلاون نے کہا کہ انہیں اس لیے برطرف کیا گیا کیونکہ انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ فوجیوں کے لیے خبروں پر فرضی سنسرشپ بھی ناقابل قبول ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کو قانون اور محکمہ دفاع کی اپنی پالیسیوں کے مطابق آزاد رہنا چاہیے۔
رپورٹر لارا کورٹے نے بھی کہا کہ وہ پینٹاگون یا کسی حکومت کی نہیں بلکہ ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کی ملازم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پینٹاگون پر شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار چھپانے کا الزام
اخبار نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوج کو درپیش مسائل، کمزور مورال اور اسلحے کی قلت سمیت مختلف معاملات پر رپورٹس شائع کی تھیں۔ اس نے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ پر طویل تعیناتی اور فوجیوں کے خراب حالات کی بھی نشاندہی کی تھی۔
پینٹاگون کے ترجمانوں کی جانب سے برطرفیوں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔














