ایران جنگ کی کوریج پر تنازع، پینٹاگون نے ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے سربراہان کو نکال دیا

اتوار 23 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے فوجی اخبار ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے ایڈیٹر ان چیف ایرک سلاون، پبلشر میکس لیڈرر اور مشرق وسطیٰ کی رپورٹر لارا کورٹے کو برطرف کردیا ہے۔

برطرفیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اخبار کے اعلیٰ عملے نے ادارتی پالیسی میں حکومتی مداخلت اور ممکنہ سنسرشپ کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی تھی۔ تینوں کو جمعے کے روز بھیجے گئے برطرفی کے نوٹس میں ’نافرمانی‘ کو وجہ قرار دیا گیا۔

1861 میں امریکی خانہ جنگی کے دوران قائم ہونے والا ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ امریکی فوجیوں کے لیے اہم خبر رساں ادارہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی آن لائن اور بیرون ملک مطبوعہ اشاعتیں روزانہ تقریباً 14 لاکھ قارئین تک پہنچتی ہیں۔ اگرچہ اخبار کو جزوی طور پر پینٹاگون سے مالی معاونت ملتی ہے، تاہم قانون کے تحت اسے ادارتی آزادی حاصل ہے۔

ایڈیٹر ایرک سلاون نے کہا کہ انہیں اس لیے برطرف کیا گیا کیونکہ انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ فوجیوں کے لیے خبروں پر فرضی سنسرشپ بھی ناقابل قبول ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کو قانون اور محکمہ دفاع کی اپنی پالیسیوں کے مطابق آزاد رہنا چاہیے۔

رپورٹر لارا کورٹے نے بھی کہا کہ وہ پینٹاگون یا کسی حکومت کی نہیں بلکہ ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کی ملازم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پینٹاگون پر شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار چھپانے کا الزام

اخبار نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوج کو درپیش مسائل، کمزور مورال اور اسلحے کی قلت سمیت مختلف معاملات پر رپورٹس شائع کی تھیں۔ اس نے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ پر طویل تعیناتی اور فوجیوں کے خراب حالات کی بھی نشاندہی کی تھی۔

پینٹاگون کے ترجمانوں کی جانب سے برطرفیوں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp