وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ ییلو لائن ماس ٹرانزٹ کی تکمیل کے لیے مارچ 2027 کی ڈیڈ لائن مقرر کردی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ترقیاتی منصوبوں میں درختوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ گوجرانوالہ اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ سسٹم میں قریباً 5 ہزار درختوں کی ری پلانٹیشن کا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا میرپور آزاد کشمیر کے لیے ایئرپورٹ، الیکٹرک بسوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فیصل آباد اور گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم پراجیکٹس کی بروقت تکمیل کی ہدایت کی اور ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کی ڈیڈ لائن ہر صورت پوری کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے 3 شفٹوں میں کام کروانے کے لیے اقدامات کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماس ٹرانزٹ پراجیکٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں دونوں ماس ٹرانزٹ پراجیکٹس کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر گوجرانوالہ ییلو لائن اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ پر پیشرفت کا ڈرون فوٹیج سے معائنہ بھی کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 31.5 کلو میٹر طویل گوجرانوالہ ییلو لائن میں 25 اسٹیشن ہوں گے، جن میں 2 انڈر گراؤنڈ اسٹیشن شامل ہیں۔
گوجرانوالہ ییلو لائن کے لیے 12 انڈر پاس، 35 کلو میٹر سروس لائن اور سگنل فری یوٹرن بنیں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گوجرانوالہ ییلو لائن پر تقریباً ایک تہائی کام تکمیل کے قریب ہے، جبکہ 1233 پول اور 552 ٹرانسفارمر منتقل کیے جا چکے ہیں۔
گوجرانوالہ ییلو لائن کے لیے 15 ہزار فٹ سیوریج، 12 ہزار فٹ واٹر سپلائی اور 11 ہزار فٹ گیس پائپ لائن بچھائی جائے گی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کے لیے 62 کلو میٹر طویل ڈرین کی تعمیر کا 40 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔
اسی طرح 20.3 کلو میٹر طویل فیصل آباد ماس ٹرانزٹ سسٹم میں 11.1 کلو میٹر اوور ہیڈ برج بنیں گے۔
فیصل آباد ماس ٹرانزٹ سسٹم کے لیے 1835 درخت ری پلانٹ کیے گئے ہیں، جبکہ 15 کلومیٹر سوئی گیس لائن اور 12 بس اسٹاپ بنائے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: پنجاب کابینہ کے بڑے فیصلے: کچے سے چولستان تک ترقیاتی منصوبوں، کسان پیکیج اور عوامی ریلیف کی منظوری
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہے، ماس ٹرانزٹ پراجیکٹس کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹس کی ٹائم لائن کو کسی صورت آگے نہیں جانا چاہیے، جلد از جلد کام مکمل کیا جائے اور شہریوں کو مزید تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔













