امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز ختم کرنے، آئی پی پیز کے خلاف کارروائی اور عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے 10 ویں روز میں داخل ہوچکے ہیں اور چاروں صوبوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق دھرنے منظم انداز میں جاری ہیں اور عوام کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میلادالنبی ﷺ بھی دھرنوں میں منایا جائے گا، جبکہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے جماعت اسلامی گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی، حافظ نعیم الرحمان کا صاف انکار
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر عوام کو ریلیف نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی سمیت تمام غیر ضروری اور ناجائز ٹیکسز فوری ختم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی حالات میں دیگر ممالک نے پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کیا، لیکن پاکستانی حکمرانوں نے جنگ کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے عوام پر مسلسل بوجھ ڈال رہی ہے، جبکہ حکمرانوں کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے لیے درآمد کیے جانے والے کوئلے میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات اور فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معلوم ہوجائے گا کہ حکومت کے اپنے لوگ بھی اس معاملے میں ملوث ہیں یا نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں عوام کو بجلی 10 روپے فی یونٹ سستی ملی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ غیر قانونی آئی پی پیز کے خلاف کارروائی کی جائے اور عوام پر فیول سمیت نہ بننے والی بجلی کا بوجھ ختم کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بھرپور ہڑتال کے بعد اسلام آباد مارچ بھی کیا جاسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر تمام سڑکیں بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکراتی کمیٹی بناتی ہے تو اسے دھرنے میں آکر براہِ راست بات کرنی چاہیے، جماعت اسلامی کسی کمیٹی کی بریفنگ لینے اسلام آباد نہیں جائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 25 کروڑ عوام کے مسائل حل کیے جائیں، پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے، آئی پی پیز کے معاملات درست کیے جائیں اور روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کی جائے۔
یہ بھی پڑھیے پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا ملک گیر شٹر ڈاؤن کا اعلان، اسلام آباد مارچ کا عندیہ
حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک خاندان کی اجارہ داری قائم ہے اور کئی سال سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جاسکے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کرکے حکومت کی تعلیمی ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر سندھ کو تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے پیسوں سے تشہیری مہمات چلانے کے بجائے بنیادی مسائل حل کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا مالکان کو چند خاندانوں کے بجائے عوام کی نمائندگی کرنی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے سرحد یونیورسٹی کے معاملے پر بھی قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے میرٹ پر تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی اپنے مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے دھرنے دے رہی ہے۔














