اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی بار بار پیشکش پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ اپوزیشن کو بار بار دعوت دے کر تھک چکے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سے سوال کیا گیا کہ کیا اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت کی پیشکش برقرار ہے اور کیا ان کا آفس سہولت فراہم کرنے کو تیار ہے؟
اس کے جواب میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم، میں خود، وزیر قانون اور رانا ثناء اللہ متعدد بار اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کو بار بار دعوت دے کر اب میں تھک چکا ہوں، آخر ایک انسان کتنی دفعہ پیشکش کرے؟
انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن والے خود آنا چاہیں گے تو آ جائیں گے، جس پر حکومت سے بھی درخواست کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم کی اپوزیشن کو پھر مذاکرات کی پیشکش، کیا حکومت اور پی ٹی آئی میں بات چیت ممکن ہے؟
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن (خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف) کے درمیان سیاسی تناؤ کے خاتمے اور پارلیمانی امور کو چلانے کے لیے مذاکرات کی کوششیں پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہیں۔
اسپیکر ایاز صادق کی کاوشوں اور وزرائے اعظم کی ہدایت پر اپوزیشن اور حکومت کے مابین باضابطہ کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں ۔ دونوں جانب سے کئی نشستیں ہوئیں، جن میں پی ٹی آئی نے اپنے تحریری مطالبات (چارٹر آف ڈیمانڈز) پیش کیے تھے ۔
پی ٹی آئی نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام اور اپنے اسیر رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کی شرط رکھی تھی۔
جنوری 2025 کے اختتام پر پی ٹی آئی نے حکومت پر تاخیری حربوں کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کا یکطرفہ بائیکاٹ کر دیا اور بات چیت کے عمل سے الگ ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے حکومت اپوزیشن سے بامقصد مذاکرات کے لیے تیار، جواب دینا اپوزیشن پر منحصر ہے، وزیراعظم
پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی عملی طور پر غیر فعال ہو گئی، تاہم اسپیکر قومی اسمبلی مسلسل یہ مؤقف اپنائے ہوئے ہیں کہ پارلیمنٹ کے دروازے اور مذاکرات کا راستہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔
اسپیکر ایاز صادق کو عوام اور جمہوریت کی خاطر مذاکرات کی دعوت دینے میں کوئی تھکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ہم نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کیا مگر حکومت نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے کبھی کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔بیرسٹر گوہر کا اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کے… pic.twitter.com/qEXQFUltcj
— WE News (@WENewsPk) August 25, 2026
حکومت نے کبھی سنجیدگی سے مذاکرات نہیں کیے، بیرسٹر گوہر کا ردعمل
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے مذاکرات کی پیشکش کرتے کرتے تھک جانے سے متعلق بیان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت اور ملک کی خاطر گفتگو میں تھکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
وی نیوز کی جانب سے اسپیکر کے بیان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا ’ قوم، ملک، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی خاطر مذاکرات کے عمل میں تھکاوٹ محسوس نہیں ہونی چاہیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے تاہم حکومت کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔‘
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ مذاکرات کی تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن حکومت کی جانب سے آج تک کوئی عملی، مخلصانہ اور سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حکومت نے کبھی ایسا ماحول بنانے کی کوشش نہیں کی جس سے معاملات آگے بڑھ سکیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آئین کی بالادستی اور ملک کی بہتری کے لیے تمام فریقین کو مسلسل جدوجہد اور پیشرفت کی ضرورت ہے۔












