پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی شمائلہ رانا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بہتر ہے، ان کی بینائی میں بھی بہتری آرہی ہے جس کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں دم توڑ چکی ہیں۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان کی صحت، علاج اور سیکیورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس میں کسی غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے دعوؤں پر بھی شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف اپنی اسٹریٹ پاور کھو چکی ہے، کیونکہ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ جس مقصد کے لیے انہوں نے عمران خان کا ساتھ دیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔
’عمران خان کی صحت بہتر، بینائی میں بھی بہتری آرہی ہے‘
مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہاکہ عمران خان کی بہن نے متعدد مرتبہ ’ماشااللہ‘ کہہ کر بتایا کہ ان کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے، بلڈ پریشر درست ہے اور آنکھ کا علاج بھی ہورہا ہے جس سے بینائی میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے بعض یوٹیوبرز کی جانب سے عمران خان کی بینائی ختم ہونے، شدید نقاہت اور چلنے سے قاصر ہونے جیسے دعوؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
’شفا انٹرنیشنل میں علاج کا فیصلہ ڈاکٹر کرے گا‘
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جانے سے متعلق عدالتی معاملے پر مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ انہیں من و عن قبول ہے اور ان کی جماعت نے ہمیشہ آئین، قانون اور عدالتوں کی بالادستی کے لیے کام کیا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ معاملے میں یہ ابہام موجود تھا کہ شفا انٹرنیشنل جانے کی سہولت صرف ایک فرد کے لیے ہے یا تمام قیدیوں کے لیے۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کو پمز لایا جاسکتا ہے تو شفا انٹرنیشنل بھی لے جایا جاسکتا تھا، لیکن وہاں ان کے حامی پھول اور کیمرے لے کر جمع ہوگئے تھے جس سے سیکیورٹی رسک پیدا ہوا۔
ان کے مطابق اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز کو پمز بلا لیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی مریض کو اسپتال میں داخل کرنا، کتنے دن رکھنا، ادویات دینا یا سرجری کرانا ڈاکٹر کا فیصلہ ہوتا ہے، سیاستدان یا کوئی سیاسی جماعت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان سابق وزیراعظم ہیں، اس لیے ان کی صحت، زندگی اور سیکیورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت نے اس حوالے سے غفلت نہیں برتی۔
’پی ٹی آئی اپنی اسٹریٹ پاور کھو چکی ہے‘
27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہاکہ 20 لاکھ افراد بہت بڑی تعداد ہے، یہ اگر 20 ہزار لوگوں کو بھی نکال لیں تو بڑی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف اپنی اسٹریٹ پاور کھو چکی ہے، کیونکہ لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ جس مقصد کے لیے انہوں نے عمران خان کا ساتھ دیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے بلند و بانگ دعوے کیے اور نوجوانوں کے نام پر اقتدار میں آئی، لیکن نوجوانوں کو بری طرح نظر انداز کیا۔
’مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کا اتحاد غیر فطری ہے‘
اپوزیشن کے ممکنہ اتحاد کے بارے میں انہوں نے کہاکہ آئین اپوزیشن جماعتوں کو جلسے، احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کا حق دیتا ہے اور احتجاج جمہوریت کا حسن ہے۔
تاہم احتجاج کی آڑ میں ذاتی عناد اور مقاصد حاصل کرنا، حکومت کے اعصاب توڑنے کی کوشش کرنا یا یہ سمجھنا کہ لوگوں کو اکٹھا کرکے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، مناسب نہیں۔
ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان ایک زیرک، معاملہ شناس اور سیاسی طور پر بالغ رہنما ہیں اور ان کے پاس اسٹریٹ پاور بھی ہے، تاہم انہیں نہیں لگتا کہ مولانا ’دہکتے شعلوں‘ میں خود کو داخل کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں بہت سی ایسی باتیں کی ہیں جن کے باعث انہیں نہیں لگتا کہ مولانا اس جماعت کے ساتھ اس طرح اتحاد کریں گے۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کا ممکنہ اتحاد ایک ’غیر فطری اتحاد‘ ہے اور اس کے اغراض و مقاصد اور آئندہ بندر بانٹ بھی واضح نہیں۔
’حکومت نہیں جارہی، اپنی مدت اور ذمہ داری پر کام کررہی ہے‘
حکومت کے خاتمے سے متعلق خبروں پر مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہا کہ حکومت کابینہ کے اجلاس کرتی ہے، اسمبلی میں آتی ہے، معیشت کے لیے کام کرتی ہے اور سفارتی محاذ پر سرگرم ہے، اس لیے انہیں سمجھ نہیں آتی کہ حکومت کہاں جارہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کو احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے، لیکن احتجاج کو حکومت گرانے اور ذاتی مقدمات ختم کرانے کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔
’خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید‘
خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہاکہ صوبے میں نہ اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال ہیں، نہ تعلیم کا مؤثر نظام اور نہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہے، جبکہ انفراسٹرکچر بھی قریباً صفر پر کھڑا ہے۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کے پاس ایسا کوئی بڑا منصوبہ نہیں جسے وہ عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کے طور پر پیش کرسکے۔
انہوں نے بلین ٹری سونامی اور بی آر ٹی سمیت مختلف منصوبوں پر بھی سوالات اٹھائے اور الزام عائد کیاکہ منصوبوں میں کام کم اور کرپشن زیادہ ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے متاثرین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور مقامی حکومتیں یہ کہتی رہیں کہ انہیں کچھ معلوم نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیاکہ خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیح صوبے کے عوام نہیں بلکہ اپنے مقدمات ختم کرانا، 9 مئی کے واقعات کا بوجھ اتارنا اور عمران خان کو باہر لانا ہے۔
’قیدیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا جذبہ والدہ کی گرفتاری سے پیدا ہوا‘
مسلم لیگ ن کی رہنما نے قیدیوں کے حقوق کے لیے اپنے کام کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہاکہ مشرف دور میں جب وہ اسکول میں پڑھتی تھیں تو ان کی والدہ کو ان کی آنکھوں کے سامنے گرفتار کیا گیا۔
ان کے مطابق والدہ کو اس لیے گرفتار کیا گیا کہ وہ نواز شریف کا ساتھ کیوں دیتی ہیں اور ان کے حق میں نعرے کیوں لگاتی ہیں۔ والدہ کو کوٹ لکھپت جیل لے جایا گیا تو وہ ملاقات کے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں لے کر جاتی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ جیل میں بغیر پیسے ملاقات نہیں ہونے دی جاتی تھی اور دھکم پیل کا ماحول تھا۔ ایک بچی کے لیے یہ انتہائی تکلیف دہ تھا کہ وہ اپنی ماں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھے۔
ان کے مطابق بعد میں پولیس نے تینوں بہنوں کو بلا کر کہاکہ وہ اپنی والدہ سے لکھوا کر لائیں کہ وہ نواز شریف کا ساتھ نہیں دیں گی۔ جب انہوں نے والدہ سے یہ بات کی تو والدہ نے انہیں کہاکہ ’شیر کی بچی بنو، ڈرنا نہیں، رونا نہیں، پریشان نہیں ہونا، اللہ تعالیٰ کے آگے جھکو، دنیا تمہارے آگے جھکے گی۔‘
ان کے مطابق والدہ نے کہاکہ نہ نواز شریف کو چھوڑنا ہے اور نہ جمہوریت کا ساتھ، مسلم لیگ ن کی رہنما کے مطابق اسی واقعے نے ان کے ذہن میں یہ عزم پیدا کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو وہ قیدیوں کے لیے کام کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی عید بھی قیدیوں کے ساتھ گزرتی ہے۔
’نظریاتی سیاست، ذاتی مفاد سے بالاتر ہونی چاہیے‘
مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہاکہ وہ میاں محمد نواز شریف کے نظریات کے ساتھ ہیں اور ان کی والدہ کا شمار مسلم لیگ ن کے بانی کارکنان میں ہوتا ہے، جنہیں جماعت کی قیادت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جماعت اور کارکنوں نے عروج و زوال کے کئی ادوار دیکھے لیکن انہوں نے کبھی ذاتی مفاد، کسی کرسی یا ٹکٹ کے لیے جماعت کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
ان کے مطابق کسی بھی کارکن کا جماعت کے ساتھ تعلق نظریات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی مفاد یا نشست کے لیے۔ جماعت نے جب انہیں ٹکٹ نہیں دیا تب بھی انہوں نے کارکردگی دکھائی اور جماعت کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
’شہباز شریف کی انتظامی صلاحیت غیر معمولی ہے‘
شہباز شریف کے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم دونوں ادوار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہوں نے بطور وزیراعلیٰ ان سے بہت کچھ سیکھا۔ ان کے مطابق شہباز شریف صبح سویرے اٹھتے، میٹنگز کرتے اور ڈینگی کے خلاف بھرپور کام کرتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ 2005 کے زلزلے کے بعد متاثرین اور آئی ڈی پیز کے لیے بھی شہباز شریف نے بہت کام کیا۔ ان کے مطابق ان کی محنت، میرٹ اور شفافیت پر مبنی طرز حکمرانی نے پنجاب میں ’شہباز اسپیڈ‘ کی بنیاد رکھی، جو بطور وزیراعظم بھی برقرار ہے۔
انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی انتظامی صلاحیت دی ہے اور انہیں لوگوں کے نام، ان کی ضروریات، ملاقاتوں اور منصوبوں کی تفصیلات تک یاد رہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی صلاحیتیں انہوں نے مریم نواز اور نواز شریف میں بھی دیکھی ہیں، تاہم نواز شریف میں عاجزی، شائستگی، شگفتگی اور ادب و لحاظ نمایاں ہے۔
’پاکستان کی سلامتی کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے‘
مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہاکہ پاکستان کا دشمن بہت چالاک ہے اور اپنی شکست نہیں بھولا۔ ان کے مطابق بھارت، افغانستان، کشمیر اور بیرونی فنڈنگ کے مختلف ذرائع سے پاکستان کے امن و سلامتی کو متاثر کرنے کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان کے پاس مضبوط فوج اور مضبوط قیادت ہے۔ ان کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، وزیراعظم، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر متعلقہ لوگ پاکستان کی سلامتی، امن اور سفارتی محاذ پر ایک پیج پر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے ہر ملک میں قومی سلامتی کے معاملے پر سیاسی قیادت اور سیکیورٹی اداروں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔
’معاشی مشکلات تسلیم، مگر پاکستان بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے‘
حکومتی کارکردگی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے سفارتی اور عسکری سطح پر کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم معاشی محاذ پر ابھی مشکلات موجود ہیں۔
ان کے مطابق مسلسل جمہوری عمل کے متاثر ہونے اور جمہوریت کو لاحق خطرات کے اثرات براہ راست معیشت پر پڑے اور پاکستان اس معاشی مقام تک نہیں پہنچ سکا جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم معیشت کی بہتری کے لیے دن رات کام کررہی ہے، تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے باعث حکومت کو متعدد شرائط اور اصلاحات پر عمل کرنا پڑتا ہے۔
’پیٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی کی امید‘
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ عوام نے مشکل وقت ضرور دیکھا، لیکن عالمی حالات اور پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو رکوانے میں پاکستان اور اس کی عسکری قیادت و حکومت نے اہم کردار ادا کیا اور پاکستان دنیا میں امن کے سفیر کے طور پر سامنے آیا۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں مارکیٹ، صارفین اور ڈیلرز سے مذاکرات کے بعد پیٹرول کی قیمت میں ایک موقع پر 30 روپے کمی ہوئی، بعد میں مزید معمولی تبدیلیاں بھی آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے، اگرچہ مکمل معاشی بحالی میں وقت لگے گا، تاہم حکومت کی جانب سے کسی سطح پر غفلت نہیں برتی جارہی۔
’نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی طریقہ موجود ہے‘
چھوٹے صوبوں اور 28ویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ماضی میں صوبہ بہاولپور اور صوبہ ہزارہ کی تحریکوں کی مسلم لیگ ن نے حمایت کی تھی۔
ان کے مطابق جہاں انتظامی یونٹس کی ضرورت ہو وہاں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے چاہییں، لیکن اس کے لیے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے۔
انہوں نے کہاکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کو دو تہائی اکثریت سے منظوری دینا ہوگی، جس کے بعد معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جائے گا اور وہاں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
ان کے مطابق عوام کی رائے منتخب نمائندوں کے ذریعے شامل ہوگی اور ریفرنڈم بھی کرایا جاسکتا ہے۔ تاہم جمہوری نظام میں بہتر طریقہ یہی ہے کہ عوامی نمائندے عوام کی آواز اسمبلی کے فورم پر لے کر آئیں۔












