ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں مسلسل بحالی اور متاثرین (آئی ڈی پیز) کی واپسی کا عمل قومی سلامتی اور آئینی ذمہ داریوں کے درمیان ایک بہترین توازن کا عکاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگرد وادی تیراہ میں موجود، کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جائےگی، مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ
پاک افغان سرحد پر واقع ہونے اور پیچیدہ جغرافیائی موقعیت کی وجہ سے وادیٔ تیراہ ماضی میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم محاذ رہی ہے۔ پاکستان کی ریاست اب تک 30 ہزار سے زائد متاثرہ خاندانوں کی مرحلہ وار اور باوقار واپسی کے لیے کوشاں ہے جبکہ بعض عناصر اس تمام عمل کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قومی سلامتی اور منفی بیانیے کا رد
بعض تحفظاتی تحاریک سیکورٹی کی بنیاد پر کی جانے والی عارضی نقل مکانی کو نسلی نشانہ بنانے سے تعبیر کرتی ہیں۔ حالانکہ، آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 کے تحت شہریوں کی زندگی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جس کے لیے دہشت گردوں کی آماجگاہوں کو پاک کرنا اور شہریوں کو ان کی صفوں سے الگ کرنا ناگزیر عمل ہے۔
عوام کا تحفظ اور عارضی نقل مکانی
جنگی علاقوں میں شہریوں کی موجودگی ان کی زندگیوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے سویلینز کی عارضی نقل مکانی بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ایک حفاظتی تدبیر ہے تاکہ واپسی کا عمل مکمل تحفظ کے ساتھ ہو سکے۔
ادارہ جاتی تعاون اور بحالی کے اقدامات: قومی اور صوبائی آفات سے نمٹنے کے اداروں (این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور نادرا کے باہمی اشتراک سے متاثرین کی بحالی کے لیے اربوں روپے جاری کیے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے 6 ارب روپے سے زائد کی رقم اور خصوصی فنڈز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست ان خاندانوں کی امداد میں مکمل سنجیدہ ہے۔
قبائلی جرگے سے مشاورت
اس عمل کو یکطرفہ بنانے کی بجائے ریاست نے 24 رکنی نمائندہ قبائلی جرگے کے ساتھ بات چیت کے بعد 37 مقامی مطالبات تسلیم کیے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی قیادت کو بحالی کی منصوبہ بندی میں مکمل طور پر شامل رکھا گیا ہے۔
بارڈر سیکیورٹی اور چیک پوسٹیں
پاک افغان بارڈر کی حساسیت کے پیشِ نظر چیک پوسٹوں پر تلاشی کا مقصد دہشتگردوں اور اسلحے کی نفوذ پذیری کو روکنا ہے تاکہ علاقے میں دوبارہ بدامنی نہ پھیلے۔ ریاست عوامی سہولت کے لیے ان کا وقت فوقت جائزہ بھی لے رہی ہے۔
مزید پڑھیے: تیراہ میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن مشترکہ فیصلہ، کے پی حکومت کا سیاسی مقاصد کے لیے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا
پائیدار سویلین انتظامیہ کا قیام: ریاست کی پالیسی ’کلیئر، ری ہیبلیٹیٹ اور ڈیولپ‘ کے 3 مراحل پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد ملٹری مینجمنٹ کو سویلین ایڈمنسٹریشن میں تبدیل کرنا اور اسکولوں، اسپتالوں اور عدالتی نظام کو مکمل بحال کرنا ہے۔
نقصانات کا ازالہ اور معاوضہ
مقامی کونسل کے نمائندوں کی شمولیت کے ساتھ قائم مشترکہ سروے کمیٹیوں کے ذریعے متاثرہ مکانات اور بنیادی ڈھانچے کا آزادانہ جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معاوضے اور ریلیف کی رقم شفاف انداز میں پہنچائی جا سکے۔
اکتوبر کا مرحلہ وار پروگرام
موسم سرما کی شدت اور سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے اکتوبر میں واپسی کا واضح اور مربوط شیڈول بنایا گیا ہے تاکہ بنیادی سہولیات جیسے بجلی، پانی اور صحت کا مکمل انتظام یقینی بنایا جا سکے۔














