اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ زوی سوکوٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں مادما میں فلسطینیوں کی یاد میں قائم یادگار ہتھوڑے سے توڑ کر تباہ کردی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی جماعت مذہبی صہیونیت سے تعلق رکھنے والے زوی سوکوٹ نے نابلس کے جنوب میں واقع فلسطینی گاؤں کا دورہ کیا، جہاں اسرائیلی فوجی بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت، اقوام متحدہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ
زوی سوکوٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک تصویر بھی جاری کی جس میں انہیں بڑے ہتھوڑے سے یادگار توڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ سماجی رابطوں پر گردش کرنے والی ویڈیو میں بھی وہ اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی میں یادگار کو نقصان پہنچاتے دکھائی دیتے ہیں۔
اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج سے علاقے میں موجود ان یادگاروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا جنہیں وہ ’دہشتگردی کی یادگاریں‘ قرار دیتے ہیں۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق زوی سوکوٹ نے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قبل فلسطینی دیہات کا دورہ کرنے کی اجازت طلب کی تھی، جسے چند روز قبل منظور کیا گیا۔ اخبار کے مطابق ان کا دورہ تقریباً نصف گھنٹے تک جاری رہا اور اسی دوران انہوں نے یادگار کو نقصان پہنچایا۔
Watch | Far-right Israeli Knesset member Zvi Sukkot oversees and directs the vandalism of the Martyrs’ Memorial by Israeli settlers after they raided the village of Madama, south of Nablus in the occupied West Bank, under army cover pic.twitter.com/I6evpsvUuu
— Quds News Network (@QudsNen) August 25, 2026
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اسے پہلے سے علم نہیں تھا کہ رکنِ پارلیمنٹ یادگار کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں 63 فیصد اضافہ
فلسطینی سرکاری ادارے کے مطابق رواں سال جنوری سے جولائی کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 63 فیصد اضافہ ہوا۔
دیوار اور آبادکاری کے خلاف مزاحمتی کمیشن کے مطابق 7 ماہ کے دوران 4 ہزار 113 حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 2 ہزار 524 تھی۔ یوں حملوں میں ایک ہزار 589 واقعات کا اضافہ ہوا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ حملوں میں اضافے کے ساتھ غیرقانونی اسرائیلی آبادکار چوکیوں، خصوصاً چرواہوں کی بستیوں، میں توسیع بھی جاری رہی۔ اس کے علاوہ بعض آبادکاروں کو مسلح کرنے اور انہیں سیکیورٹی کے ڈھانچے میں شامل کرنے، اسرائیلی فوج کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے اور احتساب کے کمزور نظام نے بھی صورتحال کو مزید خراب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے مغربی کنارا ضم کیا تو امریکی حمایت کھو بیٹھے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
فلسطینی ادارے کے مطابق عالمی سطح پر کمزور روک تھام اور احتساب کے باعث اسرائیلی آبادکاروں کے حملے انفرادی واقعات سے بڑھ کر منظم طریقہ کار کی شکل اختیار کرگئے ہیں، جس کا مقصد فلسطینی علاقوں میں نئی زمینی حقیقت قائم کرنا اور فلسطینی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔
کمیشن کے مطابق جولائی کے اختتام تک مقبوضہ مغربی کنارے میں، بشمول مشرقی یروشلم، تقریباً 592 غیر قانونی اسرائیلی بستیاں اور آبادکار چوکیاں موجود تھیں، جبکہ اسرائیل نے علاقے کے تقریباً 42 فیصد حصے پر کنٹرول قائم کررکھا ہے۔
فلسطینی کمیشن کے مطابق مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں رہنے والے اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد جولائی کے اختتام تک تقریباً 7 لاکھ 80 ہزار تھی، جن میں 3 لاکھ 33 ہزار 600 مشرقی یروشلم جبکہ 4 لاکھ 46 ہزار 400 مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں آباد ہیں۔














