فلسطین کے جدید بصری فن کے اہم ترین ستون، معروف مصور اور مجسمہ ساز سلیمان منصور 79 برس کی عمر میں مشرقی یروشلم میں واقع اپنی رہائشگاہ پر انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کا اعلان ان کے اہلخانہ کی جانب سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی رکنِ پارلیمنٹ نے مغربی کنارے میں فلسطینی یادگار تباہ کردی
اہلخانہ نے ایک جذباتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج زندگی کا آخری باب مکمل ہو گیا۔ بے پناہ دکھ اور غم کے ساتھ ہم اپنے پیارے والد کی رحلت کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے لیے خوبصورتی اور یادوں سے بھرا وہ عظیم ورثہ چھوڑا ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا جبکہ ہمارے لیے وہ محبت، طاقت اور پناہ کا ذریعہ تھے۔
سلیمان منصور کا فن اور خدمات
سلیمان منصور سنہ 1947 میں رام اللہ کے قریب گاؤں ‘برزیت’ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے سنہ 1970 میں یروشلم سے آرٹ اینڈ ڈیزائن کی تعلیم مکمل کی۔
فلسطینی جدوجہد کی عکاسی: ان کے شاہکار فن پاروں میں فلسطینی ثقافت، روایات اور اسرائیلی قبضے کے خلاف ان کے عوام کی تاریخی جدوجہد کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: غزہ میں اسرائیلی حملے، 4 سالہ بچے سمیت 2 فلسطینی شہید
سنہ 1973 میں بنایا گیا ان کا مشہور ترین پینٹنگ “جمل المحامل” (کٹھن سفر کا اونٹ/بارِ گراں) تھا جس میں ایک بوڑھے فلسطینی قلی کو پوری یروشلم نگری کو اپنی پیٹھ پر اٹھائے دکھایا گیا ہے۔ اس فن پارے کو فلسطینی تاریخ اور قومی شناخت کا آئیکن مانا جاتا ہے۔
عالمی اعزازات
سلیمان منصور کو ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد عالمی اعزازات سے نوازا گیا جن میں سنہ 2019 کا ’یونسکو شارپہ پرائز برائے عرب کلچر‘ بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں: مغربی کنارے میں اسرائیل کرفیو سے 40 ہزار فلسطینی گھروں تک محدود ہوگئے : اقوام متحدہ
فلسطینی وزارتِ ثقافت نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’فلسطینی بصری اور قومی حافظے کا محافظ‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کے فن پارے ہمیشہ فلسطینی تاریخ کے شاہد رہیں گے۔













