اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق حکام نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں شروع کیے گئے اسرائیلی فوجی آپریشن اور کرفیو کے باعث تقریباً 40 ہزار فلسطینی شہری اپنے گھروں تک محدود ہو گئے ہیں، جبکہ انہیں روزمرہ کی بنیادی ضروریات اور خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبادکاروں کے حملے اور فوجی آپریشن، مغربی کنارے میں کشیدگی کی نئی لہر
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے اپنی روزانہ کی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیلی کرفیو کے فوری انسانی اثرات سامنے آرہے ہیں، کیونکہ شہری ضروری سامان حاصل کرنے، بنیادی خدمات تک رسائی اور اپنے کام کی جگہوں پر جانے سے قاصر ہیں۔
او سی ایچ اے کے مطابق یہ کارروائی مقبوضہ بیت المقدس سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب میں واقع الخلیل گورنریٹ کے الظاہریہ علاقے میں شروع کی گئی، جہاں عمارتوں کی چھتوں پر اسرائیلی فوج کے نشانہ باز تعینات کیے گئے اور سڑکوں کو مٹی کے ڈھیروں سے بند کردیا گیا۔
امدادی شراکت داروں کے اندازے کے مطابق تقریباً 40 ہزار افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے، 2 مساجد نذر آتش
رپورٹ میں بتایا گیا کہ او سی ایچ اے کے شراکت داروں کے مطابق تقریباً 7 فلسطینی گھروں کو پوچھ گچھ کے مراکز کے طور پر بھی استعمال کیا گیا، جبکہ اسرائیلی فورسز نے بعض خاندانوں کو گھروں کے ایک ہی کمرے تک محدود کردیا۔ کئی گرفتاریوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
او سی ایچ اے نے کہا کہ گھروں اور خاندانوں کا تحفظ ضروری ہے اور ہر سکیورٹی آپریشن بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کے تحفظ اور ان کے وقار کا احترام کرتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
ادارے نے کہا کہ وہ اور اس کے شراکت دار مغربی کنارے کے شہریوں کو ضروری امداد فراہم کرتے رہیں گے۔














