برطانیہ کے شہر اسٹاک آن ٹرنٹ میں بس کمپنی ‘فرسٹ بس’ کی جانب سے شام 6 بجے کے بعد 15 سال سے کم عمر بچوں کے تنہا بس سفر پر لگائی گئی پابندی کومقامی کونسلر نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر منصفانہ قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے
یہ پابندی ہینلی بس اسٹیشن سے آنے اور جانے والی بس سروسز میں غیر اخلاقی اور سماج دشمن رویو کی شکایتوں کے بعد عائد کی گئی تھی۔
ٹرانسپورٹ کے لیے کابینہ رکن فنلے گورڈن میک کسکر نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند شرارتی بچوں کی حرکتوں کی سزا تمام بچوں کو دینا زیادتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے اپنے 12 سالہ بھائی پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے یہ افسوسناک ہے کہ شہر کے بیشتر بچوں کو اس طرح سزا دی جا رہی ہے۔
بس ڈرائیور کا نقطہ نظر
30 سالہ تجربہ کار بس ڈرائیور ایان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے بچوں کے لیے مفت بس سفر کی سہولت کے بعد والدین نے بسوں کو ڈے کیئر یا چائلڈ کیئر سمجھنا شروع کر دیا ہے تاکہ بچے گھر سے باہر رہیں۔
مزید پڑھیے: شاہی خاندان سے دوری کے 6 سال بعد ہیری اور میگھن کا برطانیہ واپسی کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ بعض روٹس پر بچے ایمرجنسی بٹن دبانے، ڈرائیورز پر اشیا پھینکنے اور بدتمیزی کرنے جیسے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔
بس کمپنی کی وضاحت
کمپنی کے ریجنل ڈائریکٹر سائمن میتھیسن کے مطابق یہ فیصلہ بوجھل دل کے ساتھ سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔ تاہم ڈرائیورز کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر کسی بچے کی حفاظت کا تحفظ درپیش ہو تو وہ اپنی صوابدید کے مطابق انہیں سفر کی اجازت دے سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: یورپ میں ایک اور شدید گرمی کی لہر کا خدشہ، برطانیہ اور فرانس میں الرٹ جاری
کمپنی کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں بچوں کے لیے مفت سفر کی اسکیم ختم ہوتے ہی اس عارضی پابندی کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔














