برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں سالمونیلا کے پھیلاؤ کے باعث تقریباً 207 افراد متاثر ہوچکے ہیں، 34 افراد بیمار ہوئے جبکہ ایک شخص جان کی بازی بھی ہار چکا ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اس وبا کا تعلق بیرون ملک سے درآمد کیے گئے انڈوں سے ہے جو ریستورانوں اور کیفے میں استعمال کیے گئے۔

سالمونیلا کیا ہے؟

سالمونیلا بیکٹیریا کا ایک گروہ ہے جو نظام ہاضمہ کو متاثر کرکے سالمونیلا انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ یہ جراثیم آلودہ انڈوں، گوشت، مرغی اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کے ذریعے تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔

غذائی صفائی کے ناقص انتظامات، آلودہ سطحوں، جانوروں اور متاثرہ افراد سے براہ راست رابطے کے ذریعے بھی سالمونیلا منتقل ہوسکتا ہے۔

سالمونیلا کی علامات

سالمونیلا انفیکشن کی عام علامات میں دست، پیٹ میں مروڑ، متلی، قے اور بخار شامل ہیں۔

عام طور پر انفیکشن کے 12 سے 72 گھنٹے کے اندر علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور یہ علامات عموماً 4 سے 7 دن تک برقرار رہتی ہیں۔

کیا سالمونیلا جان لیوا ہوسکتا ہے؟

سالمونیلا انفیکشن بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ہوسکتا ہے، خاص طور پر جب خام یا اچھی طرح نہ پکا ہوا کھانا استعمال کیا جائے۔ آلودہ اشیا سے ایک غذا یا سطح کا دوسری غذا سے متاثر ہونا بھی انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔

اگرچہ زیادہ تر افراد میں انفیکشن کی شدت معمولی ہوتی ہے، تاہم بعض اوقات بیکٹیریا خون میں شامل ہوکر سنگین بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Sky News (@skynews)

چھوٹے بچے، بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

سالمونیلا کا علاج

زیادہ تر افراد کو سالمونیلا انفیکشن کے لیے اینٹی بایوٹکس کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم شدید انفیکشن یا پیچیدگیوں کے زیادہ خطرے والے افراد کے لیے ڈاکٹر اینٹی بایوٹکس تجویز کرسکتے ہیں۔

سالمونیلا ٹائیفی اور عام سالمونیلا میں فرق

سالمونیلا ٹائیفی وہ بیکٹیریا ہے جو ٹائیفائیڈ بخار کا سبب بنتا ہے، جبکہ عام طور پر خوراک سے ہونے والی بیماریوں سے وابستہ سالمونیلا کی اقسام اس سے مختلف ہوتی ہیں۔

برطانیہ میں جاری وبا سالمونیلا اینٹیریٹیڈس کے باعث پھیلی ہے، سالمونیلا ٹائیفی کے باعث نہیں۔

سالمونیلا سے کیسے بچا جائے؟

سالمونیلا سے بچاؤ کے لیے کھانے کو اچھی طرح پکانا ضروری ہے، خصوصاً انڈوں کو مکمل طور پر پکا کر استعمال کیا جائے۔ ٹوٹے یا گندے انڈوں کے استعمال سے گریز کیا جائے۔

کھانا تیار کرنے سے پہلے اور بعد میں ہاتھوں، برتنوں اور باورچی خانے میں استعمال ہونے والی اشیا کو اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔ کھانے کو مناسب درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا اور غذائی اشیا کی صفائی کے اصولوں پر عمل کرنا بھی سالمونیلا کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

امریکی یونیورسٹیوں کی غیرملکی طلبہ کو 15 ستمبر سے قبل امریکا واپس پہنچنے کی ہدایت

معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت، امریکا کا ایران کو سخت پیغام

اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کے خلاف ردعمل، تخلیق کاروں نے ’غیر معیاری کام‘ مسترد کردیا

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار