وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر پمز آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری شاہد خان کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اُترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔
نوٹیفکیشن میں انکوائری کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرینس بھی جاری کردیے گئے ہیں۔ کمیٹی آتشزدگی کے فوری سبب اور واقعے کی ٹائم لائن کا تعین کرے گی۔
کمیٹی اسپتال کے عملے اور فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 سمیت متعلقہ اداروں کی ہنگامی ردعمل اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لے گی۔
نومولود بچوں کی منتقلی، بالخصوص ہائی رسک نوزائیدہ بچوں کے انخلا کے حوالے سے ہنگامی ایس او پیز پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی پمز میں فائر سیفٹی انفراسٹرکچر اور حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
انکوائری کمیٹی واقعے میں ملوث کسی بھی فرد کی ذمہ داری اور غفلت کا تعین کرے گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
کمیٹی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پمز کے انتظامی نظام میں ضروری اصلاحات کی سفارشات پیش کرے گی۔
انکوائری کمیٹی 48 گھنٹوں کے اندر فوری نوعیت کی سفارشات پر مشتمل عبوری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
انکوائری کمیٹی واقعے کی مکمل تحقیقات اور قابلِ عمل سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹ 5 روز کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
وزارتِ قومی صحت کو فوری طور پر انکوائری کمیٹی کو نوٹیفائی کرنے اور معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔














