جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

جمعرات 27 اگست 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مسلم دنیا کو مہلک جنگوں کا سامنا رہا ہے۔ ان جنگوں میں ہمیں غیر معمولی جانی و مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ مگر پھر بھی ہم نے جنگ کو اس کی پوری شعوری گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔ ہم پر جنگ کیوں تھوپی گئی؟ اس سوال کا آسان ترین جواب ہمارے پاس یہ ہوتا ہے کہ یہود و ہنود ہمارے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔ اگر کسی کا آئی کیو لیول روم ٹمپریچر سے تھوڑا اوپر ہو تو اس کا جواب ہوتا ہے، کفار ہمارے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ وسائل مقناطیس کی طرح ہوتے ہیں، یہ جنگ کو کھینچ لاتے ہیں مگر کیسے؟ اس کے پیچھے تصور کیا کار فرما ہوتا ہے؟ اس کا جواب روم ٹمریچر سے ذرا بلند سطح والے آئی کیو کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ شعور کی اس کمی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب ہم کسی تباہ کن چیز کا قومی سطح پر شعور ہی نہیں رکھتے تو اس کے تدارک کے لیے عوامی سطح پر کوئی مربوط اور منظم مؤقف بھی نہیں رکھ پاتے۔

ہم نے گزشتہ کالم میں جنگ کی نسبت سے تاریخ کو درست طور پر جانچنے کی بات کی تھی۔ سمجھانے کی مقدور بھر کوشش کی تھی کہ کیا ہوا؟ سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیوں ہوا؟ خوشی ہوئی کہ بات سمجھی گئی، امید ہی کرسکتے ہیں کہ حافظے کا مستقل حصہ بھی بنا لی گئی ہوگی۔ آج جنگ کے ہی ایک اور اہم پہلو پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا پہلو جس پر اس کی پوری حساسیت کے باوجود بات نہیں ہوتی۔

تاریخ کی بڑی سچائیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ریاستیں ہمیشہ دشمن سے نہیں ہارتیں، کبھی کبھی دشمن کے خوف سے ہارتی ہیں۔ اور یہ ہار ایسی ہوتی ہے، جس کے زخم کبھی بھی پوری طرح مندمل نہیں ہو پاتے۔ یہ زخم ٹاک شوز اور کالمز میں ہمیشہ رستے نظر آتے ہیں، یا بہ الفاظ دیگر یوں کہہ لیجیے کہ تاریخ ایسی ہار کو دفن نہیں کرتی بلکہ اسے مسلسل زندہ رکھتی ہے۔ اس اہم پہلو کو واضح کرنے کے لیے ہم ماضی قریب کی تین بڑی تاریخی مثالوں پر انحصار کریں گے۔

پہلی مثال میونخ کی ہے۔ 1938 میں یورپ کو ہٹلر کا سامنا تھا، لیکن برطانیہ اور فرانس کے فیصلہ سازوں کے سامنے صرف ہٹلر نہیں تھا بلکہ ان کے سامنے پہلی جنگ عظیم کی قبریں بھی تھیں۔ پہلی عالمی جنگ کو ختم ہوئے ابھی صرف 20 سال ہوئے تھے۔ ایک پوری نسل اس جنگ میں کٹ چکی تھی۔ یورپ نے پہلی مرتبہ صنعتی پیمانے پر ایسی جنگ دیکھی تھی جس میں توپ خانے، مشین گنیں، خندقیں اور کیمیائی ہتھیاروں نے کروڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ سو 1938 کے برطانوی یا فرانسیسی فیصلہ ساز جب ہٹلر کو دیکھتے تھے تو انہیں صرف ایک آمر نہیں دکھائی دیتا تھا بلکہ انہیں ایک اور عالمی جنگ کا دروازہ بھی صاف دکھائی دیتا تھا۔

ہٹلر چیکوسلواکیہ کے سوڈیٹن علاقے کا مطالبہ کررہا تھا، اس مطالبے پر لندن اور پیرس کے سامنے سوال یہ نہیں تھا کہ ہٹلر غلط ہے یا صحیح۔ سوال یہ تھا کہ کیا سوڈیٹن لینڈ کے لیے ابھی جنگ کی جائے؟۔ جواب میونخ معاہدے کی صورت ظاہر ہوا۔ برطانیہ اور فرانس نے جنگ سے بچنے کے لیے ہٹلر کو سوڈیٹن لینڈ دے دیا۔ اس وقت اس فیصلے پر بہت سے لوگوں نے سکون کا سانس لیا۔ امریکی سفارتی ریکارڈ بھی اس وقت کے ماحول کو بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ میونخ کے بعد پہلا عمومی ردعمل یہی تھا کہ جنگ ٹل گئی، لیکن تاریخ نے چند ماہ بعد بتا دیا کہ جنگ ٹلی نہیں تھی، صرف اس کی تاریخ آگے گئی تھی۔

میونخ معاہدے سے ہٹلر کو ایک ایسا علاقہ مل گیا جس نے جرمنی کی پوزیشن مزید مضبوط کردی، اور مارچ 1939 میں باقی چیکوسلواکیہ بھی جرمن قبضے میں چلا گیا۔ جس نے ثابت کیاکہ کبھی کبھی ریاست جنگ سے بچنے کے لیے دشمن کو وہ چیز دے دیتی ہے جس سے دشمن اگلی جنگ لڑنے کے مزید قابل ہوجاتا ہے۔ سو دشمن سے زیادہ دشمن کے خوف نے بالآخر وہ صورت پیدا کردی جس کا نتیجہ دوسری جنگ عظیم کی صورت نکلا، یورپ کے خوف نے ہٹلر کو شیر کردیا تھا۔

دوسری مثال سوویت یونین کی ہے، جہاں سٹالن کو بیرونی دشمن سے زیادہ کسی ایسے دشمن کے خوف نے آگھیرا تھا جو اندرونی تھا، مگر اس کا کوئی چہرہ نہ تھا۔ سو سٹالن آس پاس نظر آتے چہروں میں دشمن تلاش کرنے لگا۔ جس پر بھی ذرا سا شک ہوتا اس کی موت کا فیصلہ ہوجاتا۔ یہ سلسلہ شروع تو 1930 سے ہوا تھا مگر 1937 میں جاکر اس نے سب سے مہلک شکل تب اختیار کی جب سٹالن کو ریڈ آرمی کے کمانڈروں کی شکلوں میں بھی اپنا خیالی دشمن نظر آنے لگا۔

38-1937کی تطہیر میں ریڈ آرمی کی قیادت کا غیر معمولی صفایا کیا گیا۔ مارشل توخاچفسکی سمیت 8 اعلیٰ فوجی جرنیلوں کو مقدمے کے بعد گولی مار دی گئی، 7 فوجی اضلاع کے کمانڈر غائب کردیے گئے، مارشل بلیوخر بھی مارے گئے، اور ایک روایت کے مطابق مجموعی طور پر 30 ہزار سے زیادہ فوج و بحریہ کے کمانڈنگ افسران کو یا تو پھانسی دی گئی یا قید کیا گیا۔

اس عمل نے ریڈ آرمی پر اس قدر مہلک اثرات مرتب کیے کہ جب جون 1941 میں جرمنی نے سوویت یونین پر حملہ کیا تو ریڈ آرمی ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ صرف ابتدائی چند ماہ میں ہی سوویت یونین کو قریباً 30 لاکھ فوجیوں کے ہلاک، زخمی یا گرفتار ہونے کی صورت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اور جرمن فوج ماسکو کی مضافات میں آ پہنچی۔ اس موقع پر ملٹری تاریخ کا ایک حیران کن واقعہ رونما ہوا۔ فوجی تطہیر کے دوران ریڈ آرمی کے مایہ ناز کمانڈر مارشل قسطنطین روکا سوفسکی بھی ڈھائی سال سے قید میں تھے۔ ان کے سامنے بار بار ایک دستاویز دستخط کے لیے پیش کی جاتی، مگر وہ دستخط سے انکار کردیتے۔ اس دستاویز کے ذریعے ان سے غداری کا اقبال جرم سائن کروانا مقصود تھا۔ ان کا جواب ہر بار یہی ہوتا کہ جو جرم میں نے کیا ہی نہیں اس کا اعتراف کسی صورت نہ کروں گا۔ جواب میں ان پر بدترین قسم کا تشدد ہوا۔ خود سوویت آرکائیوز کے مطابق ان کے 9 دانت پلاس سے اکھاڑ دیے گئے تھے، ان کی تین پسلیاں ٹھڈے مار مار کر توڑ دی گئی تھیں، اور سب سے دلخراش یہ کہ ہتھوڑے کی مدد سے ان کے پیروں کی انگلیاں کچل دی گئی تھیں۔

مارچ 1940 میں روکوسوفسکی کو جیل سے رہا کرکے مکمل طور پر بحال کردیا گیا۔ پھر انہیں دوبارہ فوجی کمان سونپ دی گئی۔ رشین قوم کا مزاج سمجھنے کے لیے یہ واقعہ اس کی تاریخ کی چند بڑی مثالوں میں سے ہے۔ حیرت کا مقام صرف یہ نہیں کہ اس قدر بدترین تشدد کے بعد روکا سو فسکی کو بغیر کسی اندیشے کے بحال کیا گیا، بلکہ اس سے زیادہ حیرت کا مقام یہ ہے کہ روکاسوفسکی نے 16 ویں آرمی کی کمان سنبھال کر ساری توجہ جرمنوں پر مرکوز کردی اور پلٹ کر سٹالن کی جانب دیکھا بھی نہیں۔ یہ وہی روکا سوفسکی ہیں جو آگے چل کر مارشل ژوکوف کے ساتھ فاتح برلن بنے اور برٹش فیلڈ مارشل منٹگمری نے انہیں برطانیہ کے اعلی ترین قومی اعزاز سے بھی نوازا۔ گویا خوف نے جسے دشمن سمجھ کر توڑنے کی کوشش کی، جنگ نے اسے ریاست کا اثاثہ ثابت کردیا۔

دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین کو مجموعی طور پر 2 کروڑ 70 لاکھ انسانوں سے محروم ہونا پڑا تھا۔ جن میں 86 لاکھ 68 ہزار 400 صرف ملٹری پرسنیل تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سٹالن جنگ کے بہت قریبی سالوں میں کسی نامعلوم اندرونی دشمن کے خوف سے ریڈ آرمی کا بھٹہ نہ بٹھا دیتا تو جنگ میں سوویت یونین کا اتنا جانی نقصان ہوتا؟ اور اسے مجبور ہوکر ایک ایسے ملٹری جینئس کو رہا کرکے کمان حوالے کرنی پڑتی جسے جھوٹے الزام کے تحت بدترین تشدد سے گزارا تھا؟

کیا آپ جانتے ہیں سٹالن نے اس نامعلوم اندرونی دشمن سے نجات حاصل کرنے کے لیے کتنے انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا؟ سوویت آرکائیوز کے مطابق 1937 اور اس کے اگلے سال 6 لاکھ 81 ہزار 692 انسان گولیوں سے اڑا دیے گئے۔ جبکہ 1930 سے 1953 کے دوران ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کو گولاگ کی سرد جہنم میں بھی پھینکا گیا۔ جن میں سے 17 لاکھ کے لگ بھگ وہیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اگلی مثال کے لیے آئیے امریکا کی جانب۔ ویتنام کی جنگ در حقیقت امریکی فیصلہ سازوں کے ایک خوف کا نتیجہ تھی۔ اس خوف کو علمی بنانے کے لیے ڈامینو تھیوری پیش کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اگر جنوبی ویتنام کمیونزم کے ہاتھ میں چلا گیا تو اس کے بعد لاؤس، کمبوڈیا، تھائی لینڈ اور جنوب مشرقی ایشیا کے دوسرے ممالک بھی ایک ایک کرکے اسی طرف جاسکتے ہیں۔ یہ محض بعد میں تراشا گیا بہانہ نہیں تھا۔ امریکی سرکاری دستاویزات میں یہ سوچ صاف نظر آتی ہے۔ 1961 میں اس وقت کے امریکی وزیر دفاع رابرٹ میک نامارا نے صدر کینیڈی کو لکھا کہ جنوبی ویتنام کے کمیونزم میں جانے سے پورے جنوب مشرقی ایشیا میں کمیونزم کے پھیلنے کا امکان ہوگا۔

امریکی انٹیلی جنس کی بعض رپورٹس نے اس مفروضے کو مسترد کردیا تھا مگر فیصلہ ساز خود کو کمیونزم کے خوف سے آزاد نہ کرپائے۔ اس خوف نے ان کے سامنے یہ سوال کھڑا کردیا تھا کہ اگر ہم آج ویتنام سے پیچھے ہٹ گئے تو کل ہمیں کہاں لڑنا پڑے گا؟ یہ خوف امریکی پالیسی کو بتدریج زیادہ گہری مداخلت کی طرف لے گیا۔ پہلے مدد، پھر مشیر، پھر فوج، پھر ایک ایسی جنگ جس میں امریکا نے اپنی بے پناہ عسکری قوت استعمال کر ڈالی مگر پھر بھی عبرتناک شکست سے دو چار ہوا۔ لیکن شکست سے زیادہ حیرتناک چیز یہ ہے کہ جب امریکا پٹ پاٹ کر ویتنام سے باقاعدہ فرار ہوا تب بھی جنوب مشرقی ایشیا میں کوئی ڈامینو ایفیکٹ ظاہر نہ ہوا۔ ایسے میں سوال پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا خطرہ ہمیشہ اتنا بڑا ہوتا ہے جتنا خوف اسے بنا دیتا ہے؟

یہ تین مثالیں واضح کرتی ہیں کہ میونخ میں خوف نے ہٹلر کو ناجائز رعایت دلوائی، سٹالن کے خوف نے سوویت اداروں کو تباہ کیا، اور ویتنام میں امریکی خوف نے محدود خطرے کو طویل جنگ میں بدل ڈالا۔ خوف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خطرے کو صرف بڑا نہیں کرتا، بلکہ اسے خوف سے دوچار ذہن میں اس قدر بڑا کردیتا ہے کہ وہ خطرے کے بجائے اپنے خوف کے خلاف فیصلے کرنے لگتا ہے۔ یوں صورتحال یہ ہوجاتی ہے کہ جنگ تو ایک زمینی حقیقت ہوتی ہے، جبکہ خوف محض ایک نفسیاتی مسئلہ۔ لیکن جب نفسیاتی خوف زمینی فیصلے کرنے لگے تو فتح بھی ایسی قیمت مانگ سکتی ہے کہ فاتح کو اپنا پرچم لہرانے کے لیے اپنی ہی 2 کروڑ 70 لاکھ کھوپڑیوں کا مینار کھڑا کرنا پڑ جائے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کمیشن کا مودی سے منسلک آر ایس ایس ارکان پر پابندیوں اور موہن بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے کا مطالبہ

پنجاب میں اسموگ اور ماحولیاتی بہتری کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال، نوبل فیملی کا وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت کو خراجِ تحسین

بدخشاں میں جھڑپوں سے افغانستان میں مزید اندرونی نقل مکانی کا خدشہ

ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات پر کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار، معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی مؤثر قرار

پاکستان میں آتشزدگی کے بڑے سانحات کیسے رونما ہوئے؟

ویڈیو

مولانا اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کو استعمال کررہے ہیں، اپوزیشن اتحاد نہیں چل پائے گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار