امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کسی بھی وقت کا تعین کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران پر معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی، دونوں کو مؤثر سمجھتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے جلدی میں نہیں اور امریکا پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے ان کے پاس کوئی ٹائم شیڈول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تہران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے انتظار کر سکتے ہیں، جبکہ جاری تنازع اپنے چھٹے ماہ کے قریب پہنچ رہا ہے۔
ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں فوجی کارروائی سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں یا نہیں، کہا کہ دونوں طریقے مؤثر ہیں۔ انہوں نے ایران کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے اور اس کی معیشت تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
US President Donald Trump says he is not in a hurry to hold talks with Iran.
Follow: https://t.co/lOWmbBGix6 pic.twitter.com/QNXBShiKhs
— Highlights (@highlightsnews1) August 27, 2026
امریکی صدر نے ایران پر اپنی ہی عوام کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے اور بہت سے مظاہرین کو ہلاک کیا گیا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے سفارتکاری اب بھی ترجیح ہے، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے اور کسی ایسے معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے جس کے تحت تہران جوہری اسلحے کی تیاری سے دستبردار ہو۔
رائٹ نے کہا کہ امریکا سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر ضروری ہوا تو ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے یہ ریمارکس ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے جس میں امریکی صدر نے تہران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے جلدی نہ ہونے کا عندیہ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:کیا ٹرمپ ایران جنگ ہار رہے ہیں؟ 3ماہ بعد نئی بحث چھڑ گئی
ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اس وقت معاشی دباؤ کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز سمیت کسی بھی مقام پر فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔
ایران نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن کی نئی پابندیوں کو ’معاشی دہشتگردی‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی یکطرفہ پابندیوں اور دوسرے ممالک پر ایران کے ساتھ جائز تجارتی تعلقات ختم کرنے کے لیے دباؤ کی مذمت کرے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکا جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اب معاشی دباؤ کے ذریعے وہی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکی پابندیوں کو بے اثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن معاشی دباؤ کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کر سکے گا۔ ان کے بقول ایران ماضی کی طرح آئندہ بھی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرتا رہے گا۔
اس دوران ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے اثرات آبنائے ہرمز میں بھی نمایاں ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں معمولی اضافہ ہوا، تاہم یہ گزشتہ 10 روز کی اوسط سے بدستور کم رہی۔ ایک ٹینکر کو جمعرات کی صبح آبنائے ہرمز میں نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا اور تمام عملہ محفوظ رہا۔
"I'm not in a hurry":Trump says he has "no time schedule" for Iran to return to talks
Read @ANI Story | https://t.co/Rc1Xx45peS#Trump #US #Iran #Talks #WestAsiaConflict pic.twitter.com/3DK8freYKH
— ANI Digital (@ani_digital) August 27, 2026
ادھر ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی کا تہران کا دورہ ایران قطر مشاورت اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے قطری ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بات چیت ایران کے قومی مفادات کے تحفظ میں مدد دے تو اسے پسپائی یا کمزوری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق سفارتکاری بھی مزاحمت کی ایک شکل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے ذریعے ایران کے مفادات اور جنگ کے دوران حاصل ہونے والے اثر و رسوخ کا تحفظ کیا جائے۔
یوں ایک طرف ٹرمپ ایران پر معاشی اور فوجی دباؤ کو مؤثر قرار دیتے ہوئے مذاکرات کے لیے کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار کر رہے ہیں، تو دوسری طرف واشنگٹن سفارتکاری کو ترجیح دینے کا دعویٰ بھی کر رہا ہے۔ تہران نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے، جبکہ قطر کی ثالثی کی کوششیں بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری ہیں۔














