دیوارِ برلن نے خاندان بانٹ دیا، دیوار گری تو بھی دلوں کی دوریاں باقی رہ گئیں

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بعض دیواریں اینٹوں اور کنکریٹ سے بنتی ہیں، مگر ان کا سایہ نسلوں تک قائم رہتا ہے۔ برلن کی دیوار بھی ایسی ہی ایک دیوار تھی، جس نے صرف ایک شہر کو مشرق اور مغرب میں تقسیم نہیں کیا بلکہ خاندانوں، رشتوں اور زندگیوں کے درمیان بھی ایک ایسی لکیر کھینچ دی جسے مٹنے میں دہائیاں لگ گئیں۔ جرمن شہری ایرش گوئٹنگر کی کہانی اسی تقسیم کی ایک ذاتی تصویر ہے۔

جرمنی دوسری عالمی جنگ کے بعد تقسیم ہوا اور 1949 میں 2 الگ ریاستیں، مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی، وجود میں آئیں۔ گوئٹنگر کے خاندان کا ایک حصہ مغرب میں جبکہ اس کے چچا ہانس کا خاندان مشرقی جرمنی میں جا بسا۔ 1958 میں ہانس روزگار کے لیے مشرقی جرمنی منتقل ہوئے اور ایک پاور اسٹیشن میں کام کرنے لگے۔ وہاں وہ شکار کے شوق کی وجہ سے بھی مشہور ہوئے۔

ابتدائی برسوں میں دونوں جانب رہنے والے رشتہ دار ایک دوسرے سے کسی حد تک مل سکتے تھے، لیکن 1960 کی دہائی میں سفر کی پابندیاں سخت ہوتی گئیں۔ پھر اگست 1961 میں مشرقی جرمنی نے مغربی برلن کے گرد تقریباً 155 کلومیٹر طویل دیوار تعمیر کردی۔ خاردار تاروں، نگرانی کے میناروں اور سخت سرحدی نظام نے خاندانوں کے درمیان رابطہ تقریباً ناممکن بنا دیا۔ 1989 میں دیوار گرنے تک ہزاروں افراد فرار کی کوشش پر قید کیے گئے۔

گوئٹنگر یاد کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کے لیے خط بھیجنا بھی مکمل اطمینان کا ذریعہ نہیں تھا۔ مشرقی جرمنی کی خفیہ پولیس، جسے اسٹازی کہا جاتا تھا، ڈاک کی نگرانی کرتی تھی۔ مغرب سے مشرق جانے والے پارسلوں میں کافی، جینز اور دوسری اشیا بھیجی جاتیں، مگر ہر بار یہ خدشہ رہتا کہ سامان اپنے اصل حقداروں تک پہنچے گا بھی یا نہیں۔

خاندان کی ملاقاتیں بھی کسی خفیہ مشن سے کم نہ تھیں۔ ایک موقع پر گوئٹنگر اور ان کے والد نے مشرقی برلن سے آگے خاندان سے ملنے کا فیصلہ کیا، حالانکہ ان کے پاس اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ رشتہ داروں نے فون پر منصوبہ بنایا اور ایک رشتہ دار انہیں گاڑی میں لینے پہنچا۔ سب جانتے تھے کہ پکڑے جانے کی صورت میں صرف آنے والوں ہی نہیں بلکہ مشرقی جرمنی میں رہنے والے خاندان کو بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تقسیم کی کہانی گوئٹنگر کے خاندان کی اگلی نسل میں بھی جاری رہی۔ 1970 کی دہائی میں ان کی ملاقات یان یون سے ہوئی، جو چین میں پیدا ہوئی تھیں مگر بچپن میں ان کا خاندان چین اور تائیوان کی سیاسی کشمکش کے باعث بچھڑ گیا تھا۔ یوں دونوں نے محسوس کیا کہ ان کی زندگیوں میں ایک عجیب مماثلت ہے: دونوں خاندان سیاست کی کھینچی ہوئی سرحدوں سے بچھڑ چکے تھے۔

1988 میں گوئٹنگر اور ان کی اہلیہ چین گئے اور یان یون نے کئی دہائیوں بعد اپنے آبائی خاندان سے دوبارہ ملاقات کی۔ یوں مغربی برلن، جو خود تقسیم کی علامت تھا، ان کے لیے بچھڑے ہوئے رشتوں کو ملانے کا ذریعہ بھی بن گیا۔

آخرکار نومبر 1989 میں برلن کی دیوار عوامی دباؤ کے سامنے گر گئی۔ خاندان دوبارہ ملنے لگے، مگر گوئٹنگر کے مطابق دیوار گرنے کے باوجود اس کے اثرات ختم نہیں ہوئے۔ مشرقی جرمنی کے کئی لوگوں کو اتحاد کے بعد معاشی مشکلات، روزگار کے نقصان اور یہ احساس بھی رہا کہ مغربی نظام نے مشرقی معاشرے کو اپنے اندر ضم کرلیا، اس کے اداروں اور تجربات کو پوری طرح جگہ نہیں دی۔

آج گوئٹنگر اپنے خاندان سے رابطے میں ہیں اور ان کے بچے بھی مشرقی جرمنی کے رشتہ داروں سے مل چکے ہیں۔ مگر ان کے نزدیک برلن کی اصل دیوار شاید وہ تھی جو لوگوں کے ذہنوں میں بن گئی تھی۔ کنکریٹ کی دیوار تو گر گئی، مگر تقسیم کی یاد، محرومی اور خوف نے ایک طویل عرصے تک اپنا وجود برقرار رکھا۔

یہ کہانی ایک بڑے تاریخی سبق کی طرف اشارہ کرتی ہے: سرحدیں نقشے بدل سکتی ہیں، ریاستیں تقسیم کرسکتی ہیں، مگر انسان کو اپنے خاندان سے ہمیشہ کے لیے جدا کرنا شاید کسی سیاسی فیصلے کی سب سے بھاری قیمت ہوتی ہے۔

بشکریہ: الجزیرہ

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

معروف PUBG کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد کا انتقال کیسے ہوا؟ موت کی وجہ سامنے آگئی

اسحاق ڈار کی برطانوی قومی سلامتی مشیر سے ملاقات، خطے کی سیکیورٹی اور پاک برطانیہ تعاون پر تبادلہ خیال

انڈونیشیا: بدعنوانی کے خلاف ہزاروں افراد پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

بچوں کے لیے فیس بک، انسٹاگرام پر بڑا کریک ڈاؤن، روزانہ صرف 2 گھنٹے استعمال کی اجازت

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ