یورپ کو لاحق شدید ترین گرمی کی لہر کے دوران جرمنی میں رواں سال گرما کے موسم میں گرمی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ریکارڈ 15,800 افراد جاں بحق ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی سے یورپی کاروباروں کو اربوں یورو کا نقصان، انشورنس نظام بے بس
جرمنی کے قومی عوامی صحت کے ادارے ‘رابرٹ کوخ انسٹی ٹیوٹ’ نے جمعرات کے روز اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر جانے کے باعث جون کے آخر میں صرف ایک ہفتے کے دوران تقریباً 9,600 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
گرمی کی لہر سے سب سے زیادہ متاثر 75 سال سے زائد عمر کے بزرگ افراد ہوئے۔ جولائی کے آخر سے اگست کے وسط کے درمیان مزید 4,000 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
سابقہ ریکارڈز ٹوٹ گئے
انسٹی ٹیوٹ پچھلے ایک دہائی سے گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کا ڈیٹا جمع کر رہا ہے۔ اس سے قبل سب سے زیادہ 8,900 ہلاکتیں سال 2018 میں ریکارڈ کی گئی تھیں جبکہ سنہ 1994 میں ایک طبی رپورٹ میں 10,000 افراد کی موت کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
موت کی وجوہات
شدید گرمی جہاں براہ راست ہیٹ اسٹروک کا باعث بنتی ہے وہیں یہ پہلے سے موجود دل، پھیپھڑوں اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہوئی۔
مزید پڑھیے: یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، صرف جون میں 12 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ
شدید گرمی اور خشکسالی نے پورے یورپ کو لپیٹ میں لے رکھا ہے جس سے نہ صرف انسانی جانی نقصان ہوا ہے بلکہ جنگلات میں آگ لگنے، فصلیں تباہ ہونے اور اہم دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔













