یورپ میں رواں سال شدید گرمی کی مسلسل لہروں نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ انشورنس کے نظام میں ایک بڑا خلا بھی نمایاں کردیا ہے۔ موڈیز کے اندازے کے مطابق گزشتہ موسم گرما میں یورپ میں گرمی کی لہروں سے معاشی پیداوار کو تقریباً 43 ارب یورو کا نقصان ہوا، تاہم ان نقصانات کے مقابلے میں بیمہ کمپنیوں کی جانب سے صرف تقریباً 50 کروڑ یورو کی ادائیگیاں کی گئیں۔
رائٹرز کے مطابق اٹلی کے شہر پادوا میں شدید گرمی کے باعث شام کے وقت کیفے اور ریستورانوں میں ہونے والی روایتی ’اپریتیوو‘ سرگرمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ایک سروے میں شامل 600 سے زائد کاروباروں میں 80 فیصد سے زیادہ نے حالیہ گرمی کی لہر کے دوران کاروباری آمدن میں تقریباً 20 فیصد کمی کی اطلاع دی۔
#WorldBusinessWatch | Europe’s record-breaking summer heat is no longer just a weather story; it is becoming an economic one. A latest analysis by Triodos Bank estimates extreme heat and wildfires could cost the European Union around $208 billion this year, roughly 1% of the… pic.twitter.com/1XkEbfTrRc
— WION (@WIONews) August 16, 2026
ماہرین کے مطابق روایتی کاروباری انشورنس عموماً شدید گرمی سے ہونے والے بالواسطہ نقصانات کا احاطہ نہیں کرتی۔ گرمی کے باعث کارکنوں کی پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے، صارفین کا خرچ گھٹتا ہے، ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے جبکہ فیکٹریوں کے لیے کولنگ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
یورپ میں صرف 28 فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے پاس کاروباری تعطل کی انشورنس موجود ہے، مگر شدید گرمی سے ہونے والے نقصانات اکثر اس کے دائرے میں نہیں آتے۔ ماہرین اب ’پیرامیٹرک انشورنس‘ کو ممکنہ حل قرار دے رہے ہیں، جس میں درجہ حرارت مقررہ حد سے بڑھنے پر خودکار طور پر ادائیگی کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپ میں ایک اور شدید گرمی کی لہر کا خدشہ، برطانیہ اور فرانس میں الرٹ جاری
ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروباروں کو انشورنس کے ساتھ ساتھ کولنگ نظام، کام کی جگہوں میں تبدیلی اور سپلائی چین کو شدید موسم کے لیے تیار کرنے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔













