موڈیز کے ہاں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، ملک کو کیا معاشی فوائد حاصل ہوں گے؟

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور بیرونی مالیاتی استحکام کو سراہتے ہوئے ملک کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی ایشوئر ریٹنگ Caa3 سے بڑھا کر Caa2 کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے معاشی آؤٹ لک کو مثبت قرار دیا گیا ہے، جو مستقبل میں ریٹنگ میں مزید بہتری کا اشارہ ہے۔

موڈیز کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟

موڈیز انویسٹرز سروس دنیا کی 3 بڑی اور معتبر کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ دیگر 2 بڑی ایجنسیاں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز اور فچ ریٹنگز ہیں۔

موڈیز مختلف ممالک، حکومتوں اور بڑی کمپنیوں کی مالی حالت، قرض چکانے کی صلاحیت، زرمبادلہ کے ذخائر اور سیاسی و معاشی استحکام کا تجزیہ کرتی ہے۔ یہ ایجنسی AAA سے C تک مختلف درجات میں کریڈٹ ریٹنگ فراہم کرتی ہے۔

ریٹنگ کا مقصد کیا ہے؟

دنیا بھر کے سرمایہ کار، عالمی مالیاتی ادارے اور بینک کسی ملک کو قرض دینے یا وہاں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اس کی کریڈٹ ریٹنگ کو اہم معیار کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ریٹنگ میں بہتری کا مطلب کیا ہے؟

معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ Caa3 سے Caa2 ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ملک کے دیوالیہ ہونے یا غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی کے خدشات میں کمی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کر دیا، آؤٹ لک ‘مستحکم’ قرار

ان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری اور دوست ممالک سے مالیاتی تعاون کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی رقوم کی آمد میں بہتری آئی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی مالیاتی اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں وسعت اور خسارے پر قابو پانے کی کوششوں کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

پاکستان کے لیے ممکنہ معاشی فوائد

معاشی ماہر سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کے لیے عالمی منڈیوں سے، خصوصاً یورو بانڈز اور سکوک کے ذریعے، نسبتاً کم شرحِ سود پر قرض حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری میں اضافے اور اسٹاک ایکسچینج میں غیر ملکی سرمایہ آنے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کے استحکام میں مدد مل سکتی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستانی بینکوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) کھلوانا بھی نسبتاً آسان اور کم لاگت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر B3 کردی، یہ حکومتی پالیسیوں پر عالمی اعتماد ہے، وزیراعظم کا خیرمقدم

معاشی تجزیہ کار محمد حمزہ گیلانی کے مطابق موڈیز کی جانب سے ریٹنگ میں بہتری پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی پیش رفت ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے عالمی سطح پر پاکستان کے معاشی امیج کو بہتر بنایا ہے۔ ان کے مطابق اس اپ گریڈیشن سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہونے میں مدد ملے گی۔

تاہم معاشی ماہر جنید خان کے مطابق Caa2 ریٹنگ کے باوجود پاکستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ فوری ڈیفالٹ کا خطرہ کم ہوا ہے، لیکن مستقل معاشی استحکام کے لیے حکومت کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیکس آمدن میں اضافے اور بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی کا سلسلہ برقرار رکھنا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق معاشی اصلاحات جاری رکھتا ہے اور سیاسی و معاشی استحکام برقرار رہتا ہے تو آنے والے مہینوں میں کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری، مثلاً Caa1 یا B3 کی سطح تک پہنچنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp