کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘ رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈین اسے ماضی کی طرح آج اور ہمیشہ ’لیک اونٹاریو’ ہی کہیں گے۔
مارک کارنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’لیک اونٹاریو‘ کا نام وینڈٹ زبان کے لفظ سے نکلا ہے، جس کا مفہوم جھیل خوبصورت یا جھیل بڑی ہے بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے اور کینیڈا کے کنفیڈریشن بننے اور امریکا کے اعلانِ آزادی سے بھی پہلے سے رائج ہے۔
کینیڈین وزیراعظم نے اپنے بیان میں امریکی پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ امریکا بدل رہا ہے، اس کے تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاریں اور جغرافیائی نام بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین تاریخ اور حقیقت کو نام دینے کے معاملے میں جانتے ہیں کہ اسے ’لیک اونٹاریو‘ ہی کہا جائے گا۔
— Prime Minister of Canada (@CanadianPM) August 27, 2026
کارنی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس کے تحت امریکی حکومت نے لیک اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھنے کی ہدایت کی۔
یہ جھیل امریکا کی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے درمیان واقع ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اہم جغرافیائی و اقتصادی رابطے کی حیثیت رکھتی ہے۔
امریکی اقدام کا اطلاق امریکی وفاقی حکومت کے استعمال اور سرکاری جغرافیائی ریکارڈز تک ہے، اس لیے کینیڈا یا بین الاقوامی ادارے اس نئے نام کو اپنانے کے پابند نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ جھیل کو اس کے تاریخی نام ’لیک اونٹاریو‘ سے ہی پکارے گی۔

نام کی تبدیلی کا یہ تنازع امریکا اور کینیڈا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور محصولات کے معاملات پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر اضافی ٹیرف کے اقدامات نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: متنازع اینٹی ٹیرف اشتہار: کینیڈین وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے معافی مانگ لی
کارنی کا ردعمل محض ایک جغرافیائی نام کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ اسے کینیڈا کی تاریخی شناخت اور خودمختاری کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
کینیڈین حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کسی بھی نام کا انتخاب کرے، کینیڈا کی جانب سے اس جھیل کا تاریخی نام تبدیل نہیں کیا جائے گا۔














