’آم کے درخت نے بچا لیا‘، نیپال میں قیامت خیز سیلاب کے بیچ 24 سالہ مزدور کی معجزانہ زندگی

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کھدائی کرتے ہوئے اچانک گونجتی آواز، چند لمحوں میں سامنے آتی پانی، کیچڑ اور پتھروں کی خوفناک دیوار، اور پھر ہر طرف موت کا منظر ۔۔۔ نیپال کے 24 سالہ مزدور بیبیک کُمال کے لیے بدھ کا دن زندگی اور موت کے درمیان چند لمحوں کا فیصلہ بن گیا، مگر ایک آم کے درخت نے اسے موت کے منہ سے نکال لیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بیبیک کُمال نیپال کے شہر بیدور میں ایک زیر تعمیر گھر کے باہر تقریباً ڈیڑھ میٹر گہرے گڑھے میں بیت الخلا کے لیے کھدائی کر رہا تھا کہ اچانک اسے ایک عجیب سی سرسراہٹ سنائی دی۔ اوپر موجود اس کے ساتھیوں نے چیخ کر اسے گڑھے سے نکلنے اور بھاگنے کو کہا۔

کمال ابھی گڑھے سے باہر نکلا ہی تھا کہ اس کے ساتھی اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ پڑے۔ وہ بھی پوری قوت سے بھاگا، لیکن چند ہی لمحوں بعد پانی، کیچڑ اور چٹانوں کا ایک خوفناک ریلا زلزلے کی طرح گرجتا ہوا اس کی طرف آیا اور اسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔

کمال نے اسپتال کے بستر پر رائٹرز کو بتایا کہ سیلابی ریلے نے اسے ملبے کے ساتھ بہا دیا، تاہم خوش قسمتی سے وہ ایک آم کے درخت میں پھنس گیا۔

اس نے کہا ’اگر آم کا وہ درخت نہ ہوتا تو میں بھی پانی میں بہہ کر مر جاتا‘۔

کمال درخت سے چمٹ کر اپنی آنکھوں کے سامنے اس گھر کو بھی غائب ہوتا دیکھتا رہا جہاں وہ کام کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد پولیس اہلکار وہاں پہنچے اور اسے درخت سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ سیلاب اور ملبے کی زد میں آنے سے اس کی دائیں ٹانگ زخمی ہوئی، جبکہ ایک بڑا پتھر بھی اسے آ لگا۔

یہ تباہ کن سیلاب نیپال اور چین کے تبت سے متصل سرحدی علاقے میں آیا، جہاں پانی، کیچڑ اور پتھروں کے طوفانی ریلے نے بستیاں، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیا۔ رائٹرز کے مطابق اس وقت کم از کم 95 افراد ہلاک ہوچکے تھے جبکہ سیکڑوں افراد، جن میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، لاپتا تھے۔

اسپتال میں کمال کے ساتھ اس کا بھائی دِنیش بھی موجود تھا۔ دوسری جانب اسی اسپتال میں 11 سالہ ریحانہ لامیچھانے بھی زیر علاج تھی، جو اسکول سے گھر جاتے ہوئے اچانک آنے والے سیلاب میں پھنس گئی تھی۔

ریحانہ نے بتایا کہ سیلابی پانی اچانک اس وقت آیا جب وہ دریا عبور کر رہی تھی۔ اس کے سینے اور ٹانگ پر چوٹیں آئیں، مگر وہ زندہ بچ گئی۔ اس کی زبان پر سب سے زیادہ فکر اپنے دوستوں کی تھی۔ اس نے کہا ’میں محفوظ ہوں، اس پر خوش ہوں، لیکن مجھے نہیں معلوم میرے دوستوں کے ساتھ کیا ہوا‘۔

اس کی والدہ ریٹا نے بتایا کہ بیٹی کے سیلاب میں پھنسنے کی اطلاع ملتے ہی وہ اسے تلاش کرنے کے لیے دوڑ پڑی تھیں اور محفوظ دیکھ کر انہیں سکون ملا۔

نیپال ہر سال مون سون کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی آفات کا سامنا کرتا ہے۔ کمال خود بھی 2015 کے تباہ کن زلزلے سے بچ چکا ہے، جس میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مگر اس بار بھی جب ہر طرف موت اور تباہی تھی، ایک آم کا درخت 24 سالہ مزدور کے لیے زندگی کی آخری امید بن گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ