اے ظہورِ تو شبابِ زندگی
جلوہ ات تعبیرِ خوابِ زندگی
حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تشریف آوری سے زندگی اپنے شباب کو پہنچی اور آپ کا ظہورِ پاک خوابِ زندگی کی تعبیر ہے، کیونکہ آپ ہی مقصودِ کائنات ہیں۔
12 ربیع الاول کی مبارک ساعتیں گزر چکی ہیں۔ عاشقانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور تمام مسلمین کے قلوب حضور گیتی پناہ کی تشریف آوری کے باعث معطر و منور ہیں۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ آپ کی آمد ہی درحقیقت ربِ باری تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان اور عظیم ترین رحمت ہے۔ انہی کے سبب ہمیں خدائے بزرگ و برتر کا تعارف نصیب ہوا۔
فیض ہے رضا احمدِ پاک کا
ورنہ ہم کیا سمجھتے خدا کون ہے
ایک روایت کا مفہوم ہے کہ دو چیزیں ایسی ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔ پہلی یہ کہ نفس کے فریب کتنے ہیں اور دوسری آقا دو جہاں علیہ الصلوۃ والسلام کے مراتب و فضائل کی انتہا کیا ہے۔ اسی لیے تو مرزا غالب نے کہا تھا،
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتم
کاں ذاتِ پاک، مرتبہ دانِ محمد است (صلی اللہ علیہ وسلم)
یعنی میں نے حضورِ نبیِ محترم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعریف و مدح کا معاملہ ربِ باری تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے کیونکہ صرف وہی ذاتِ بابرکات حضورِ نبیِ مکرم کے مرتبہ و فضائل سے کامل آگاہ ہے اور کما حقہ بیان کر سکتی ہے۔ کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی شانِ اقدس کو بندشِ تحریر میں لا سکے۔ گو کہ اہلیانِ علم و محبت اپنے ذوق و شوق کی آبیاری کرتے ہوئے آپ کی شانِ ذیشان بیان کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
میرا ماننا ہے کہ جس طرح قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمام سمندر روشنائی بن جائیں اور زمین کے تمام درخت قلم ہو جائیں، تب بھی کلماتِ الٰہیہ ختم نہیں ہوں گے؛ اس مفہوم کا ایک لطیف پرتو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی شانِ مبارک پر بھی ڈھلتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں اپنا ذکر فرمایا وہاں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ذکرِ خیر بھی ساتھ فرمایا۔
کائنات کی ہر شے بشمولِ ذاتِ باری تعالیٰ اور ملائکہِ مقربین ہر آن درود و سلام کے نذرانے پیش کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کہتے ہیں کہ زمین سے آسمان کی طرف صدا جاتی ہے “لا الہ الا اللہ” اور آسمان سے زمین پر صدا آتی ہے “محمد الرسول اللہ”۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں بھی یہ مسلمہ حقیقت بیان فرما دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذکرِ خیر کو ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا گیا ہے۔
ورفعنا لک ذکرک ہے سایہ تجھ پر
ذکر اونچا ہے تیرا بول ہے بالا تیرا
اسی لیے اللہ رب العزت نے ہر مسلمان پر لازم کر دیا کہ حضورِ پرنور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس میں نہایت عقیدت و احترام اور محبت و خلوص کے ساتھ درود و سلام کے نذرانے پیش کرے۔ یہ درود و سلام حضور کی شان میں اضافے کے لیے نہیں بلکہ ہماری اپنی قسمت کا ستارہ چمکانے کے لیے ہے۔ کیونکہ اس بابرکت عمل کے ذریعے ایک ادنیٰ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کی ہمنوائی کا شرف حاصل کر لیتا ہے۔
شاعرِ دربارِ رسالت حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے شعر کہا تھا
ما ان مدحت محمد ابمقالتی
ولکن مدحت مقالتی بمحمد
صلی اللہ علیہ والہ وسلم
جس کا منظوم ترجمہ حسانِ پاکستان محمد اعظم چشتی مرحوم نے یوں کیا
اعظم میری زبان کہاں اور کہاں وہ ذات
نام اپنا ان کے ذکر سے چمکا رہا ہوں میں
ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر روز بارگاہِ ایزدی میں حضورِ پرنور علیہ الصلاۃ والسلام کی آمد اور اپنے امتی ہونے کی نعمت پر شکر ادا کرے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب ہجرت کے بعد یثرب تشریف لائے، جو آپ کے قدمِ مبارک کی برکت سے مدینہ منورہ بن گیا، تو وہاں کی بچیاں خوشی کا اظہار کرتی ہوئے جس پرمسرت انداز میں نغمہ سرا تھیں، وہ کیا تھا؟
وجب الشکر علینا
ما دعا للہ داع
یعنی حضور ہمارے درمیان تشریف فرما ہوئے ہیں، لہٰذا ہم پر اللہ کا شکر ادا کرنا اس وقت تک واجب ہو گیا ہے جب تک اللہ کو پکارنے والا اسے پکارتا رہے گا۔ اور اتفاق دیکھیے کہ وہ مبارک دن بھی ۱۲ ربیع الاول ہی کا دن تھا!
علامہ اقبال بھی اسی بحرِ عشق میں غوطہ زن ہو کر کہتے ہیں کہ
امی بود کہ ما از اثرِ حکمتِ او
واقف از سر نہانخانہ تقدیر شدیم
یعنی نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت و دانائی کے فیض ہی سے ہم تقدیر کے نہاں خانوں کے رازوں سے واقف ہوئے۔
اور ساتھ ہی ایک جگہ کہتے ہیں کہ کائنات کی کون سی شے ہے جس نے آپ سے فیض حاصل نہیں کیا
تیری نگاہِ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب
اسی کلام میں ایک جگہ علامہ یہ کہہ اٹھے کہ اس دنیا میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے وجودِ مسعود اور تشریف آوری ہی کے طفیل اس کائنات کو رونق اور فروغ ملا ورنہ آپ کی آمد سے قبل تو بس ظلمت ہی ظلمت، ظلم ہی ظلم، جہل ہی جہل، کفر ہی کفر اور خزاں ہی خزاں تھی
عالمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرہِ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب
اور ایک اور مقام پر کہتے ہیں کہ
دل زِ عشقِ او توانا می شود
خاک ہمدوشِ ثریا می شود
یعنی دل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے توانا و مضبوط ہوتے ہیں اور آپ ہی کی نسبتِ پاک سے ایک ادنیٰ ذرہِ خاک ثریا کا ہم دوش ہو جاتا ہے۔
میرا یہ راسخ ایمان ہے کہ حضورِ پرنور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس پیکرِ خاکی میں قدم رنجہ فرمایا۔ اسی باعث انسان کو اشرف المخلوقات اور احسنِ تقویم کا اعلیٰ رتبہ عطا ہوا۔ انسان کی زندگی کا ہر پہلو، یہ زمان و مکان، حتیٰ کہ انسانی جسم کا رواں رواں احسانِ محمدی کے تلے دبا ہوا ہے۔
صدقے جاؤں نصیر اس آقا، اس مولا کی رحمت پر
راہ دکھا کر اس در کی مجھ نر دھن پر احسان کیا
امامِ ربانی شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
” اس بزم کائنات میں جہاں کہیں بھی کوئی کمال نظر آتا ہے وہ سب سیدِ عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کمالات ہی کا عکسِ جمیل ہے اور اس جہان میں جو بھی حسن و جمال بکھرا ہوا ہے وہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام ہی کے حسنِ بے مثال کا ایک ادنی پر تو ہے۔ بس وہی ذات تمام تر خیر و برکت کی اصل اور سرچشمہ ہے۔ ان کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ سب آپ علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے صدقے اور طفیل ہے۔”
(بحوالہ مکتوباتِ امام ربانی، دفتر اول مکتوب نمبر 152)
علامہ اقبال نے بھی کچھ ایسا ہی طرزِ فکر اپنایا۔ تمام اکابرین و عاشقین نے الگ الگ انداز اپنایا لیکن جذبہِ محبت ایک ہی ہے۔ میرا ایک شعر ہے کہ
تیری ہی نسبت سے ہیں انداز جداگانہ
یوں کہنے کو سبھی نے ہی کہی ایک ہی بات
خیر، علامہ اقبال نے اپنے خطبات، بالخصوص “تشکیلِ جدیدِ الٰہیاتِ اسلامیہ” کے پہلے خطبے میں سقراط کے نقطہِ نظر کا رد کرتے ہوئے سائنس کو روحِ قرآن کا مظہر قرار دیا۔ اس کے علاوہ تمام اعلیٰ انسانی و اخلاقی اقدار جن کا شعور دنیا میں جہاں کہیں بھی بیدار ہوتا ہے۔ اقبال اسے نورِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی سے مستعار قرار دیتے ہیں۔ اور اس میں ذرہ برابر شک نہیں۔ سائنس و دیگر علوم، قرآنِ مجید کے مفاہیم، اسرار و رموز کو سمجھنے اور ربِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔
ماضی میں سائنسی و علمی میدانوں میں مسلمانوں نے جو فقید المثال ترقیاں کیں وہ قرآن و حدیث کے احکام پر عمل پیرا ہونے ہی کا نتیجہ تھیں۔ یوں ہی تمام اخلاقی و علمی خوبیوں کی جڑیں تلاش کی جائیں تو ان کا سرچشمہ باغِ محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی نظر آئے گا۔ اقبال نے کہا تھا کہ اس جہانِ رنگ و بو میں جو کچھ بھی ظہور پذیر ہوا ہے یا ہورہا ہے وہ یا تو نورِ مصطفٰی سے منور ہے یا ابھی تک محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تلاش میں یے۔
ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو
آں کہ از خاکش بروید آرزو
یا ز نورِ مصطفٰی اورابہاست
یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفٰی است
آج یہ دیکھ کر شدید دکھ ہوتا ہے کہ مسلمان حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیمات و اسوہِ حسنہ سے ناآشنا اور اپنے آقا و مولا علیہ الصلوۃ والسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا رکھی ہے
از منات و لات و عزّٰی و ہبل
ہر یکے دارد بتے اندر بغل
یعنی ہر ایک نے اپنا ایک الگ بت تراش رکھا ہے۔ کسی کا بت مال و دولت ہے، کسی کا اولاد، کسی کا کاروبار اور کسی کا حکومت و سیاست۔ اسی اثناء میں خدا سے دوری اور اسوہِ نبوی سے بیگانگی ہی ہمارے زوال کا بنیادی سبب بن چکی ہے۔ ہم نے شعارِ اغیار کو اپنا ملجا و ماویٰ بنا لیا ہے حالانکہ مسلمان تو خدا اور رسول کے سوا ہر شے سے بے نیاز ہوتا ہے؛ وہ تو “امتی از ما سوا بیگانہ ای” اور “بر چراغِ مصطفٰی پروانہ ای” کا مجسم پیکر ہوتا ہے۔
مسلمانوں نے علم سے ہاتھ کھینچ لیا (لارڈ میکالے کا وضع کردہ نظامِ تعلیم علم نہیں، بلکہ تعلیم کے نام پر محض کاغذی ڈگری ہے) ہم عمل سے دور ہو گئے اور سب سے بڑھ کر اپنے آقا و مولا کی ذات و تعلیمات سے جدا ہو گئے جو کہ ایک سوچی سمجھی بین الاقوامی سازش کا نتیجہ بھی ہے (جس کے لیے فرنگی جاسوس ہمفرے کے کنفیشنز کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے)۔ لیکن اس سے بھی بڑی بات مسلمانوں کی اپنی نااہلی، کوتاہی اور کاہلی ہے کہ ایک روشن کتاب (قرآن) اور ایک مجسمِ نور مثال (اسوہِ حسنہ) پاس ہونے کے باوجود وہ دنیا میں خوار و زبوں حال ہیں۔
علامہ اقبال نے اس مرض کی تشخیص ایک صدی پہلے ہی کر لی تھی
شب پیشِ خدا بگریستم زار
مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد، نمیدانی کہ ایں قوم
دلی دارند و محبوبی ندارند
اقبال کہتے ہیں کہ میں ایک رات بارگاہِ ایزدی میں خوب زار و قطار رویا اور عرض کی کہ یہ امت آخر کیوں ذلت و رسوائی کا شکار ہے؟ فرماتے ہیں کہ مجھ پر یہ راز آشکار ہوا کہ یہ امت دل تو رکھتی ہے لیکن اب اس کے پاس “محبوب” نہیں رہا۔ یعنی اس نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سچی محبت، اطاعت اور تعلیمات کو فراموش کر دیا ہے۔ یہی درحقیقت مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ ہے۔
تاہم اقبال نے اس زوال کا علاج اور حل بھی پیش کیا کہ محمدِ مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام سے سچی وفا ہی دنیا و مافیہا کی تمام وسعتوں، خشک و تر، حتیٰ کہ لوح و قلم کی تسخیر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ مگر اس کیلیے ایک شرط ہے!
اقبال نے اپنی ایک رباعی میں نقشہ کھینچا کہ وہ مسلمان جو اپنی فقیری میں بھی شہنشاہوں پر بھاری تھا، آج الفتِ الٰہی کے سوز سے خالی ہو چکا ہے۔ لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی ایک نگاہِ کرم اس امتِ زبوں حال کی تقدیر بدل سکتی ہے کیونکہ یہ وہ کیمیا اثر نگاہیں ہیں کہ جس طرف اٹھ جائیں دم میں دم آجائے۔ آپ کی نگاہیں مرجھائے ہوئے وجود میں زندگی کی رمق دوڑا سکتی ہے۔ آپ کی نظرِ التفات سے ہی اس قوم کی مسیحائی ممکن ہے۔ پس یا رسولَ اللہ! اس امتِ پریشان حال پر ایک نظرِ کرم فرما دیجیے
مسلماں آن فقیرے کج کلاہے
رمید از سینہ و سوزِ آہے
دلش نالد! چرا نالد؟ نداند
نگاہے یا رسول اللہ نگاہے!
صلی اللہ علیہ والہ وسلم
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














