کھدائی کرتے ہوئے اچانک گونجتی آواز، چند لمحوں میں سامنے آتی پانی، کیچڑ اور پتھروں کی خوفناک دیوار، اور پھر ہر طرف موت کا منظر ۔۔۔ نیپال کے 24 سالہ مزدور بیبیک کُمال کے لیے بدھ کا دن زندگی اور موت کے درمیان چند لمحوں کا فیصلہ بن گیا، مگر ایک آم کے درخت نے اسے موت کے منہ سے نکال لیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بیبیک کُمال نیپال کے شہر بیدور میں ایک زیر تعمیر گھر کے باہر تقریباً ڈیڑھ میٹر گہرے گڑھے میں بیت الخلا کے لیے کھدائی کر رہا تھا کہ اچانک اسے ایک عجیب سی سرسراہٹ سنائی دی۔ اوپر موجود اس کے ساتھیوں نے چیخ کر اسے گڑھے سے نکلنے اور بھاگنے کو کہا۔
کمال ابھی گڑھے سے باہر نکلا ہی تھا کہ اس کے ساتھی اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ پڑے۔ وہ بھی پوری قوت سے بھاگا، لیکن چند ہی لمحوں بعد پانی، کیچڑ اور چٹانوں کا ایک خوفناک ریلا زلزلے کی طرح گرجتا ہوا اس کی طرف آیا اور اسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔
'Saved by a mango tree': How a Nepali labourer survived deadly flash flood https://t.co/K2vfpH9gYF https://t.co/K2vfpH9gYF
— Reuters (@Reuters) August 26, 2026
کمال نے اسپتال کے بستر پر رائٹرز کو بتایا کہ سیلابی ریلے نے اسے ملبے کے ساتھ بہا دیا، تاہم خوش قسمتی سے وہ ایک آم کے درخت میں پھنس گیا۔
اس نے کہا ’اگر آم کا وہ درخت نہ ہوتا تو میں بھی پانی میں بہہ کر مر جاتا‘۔
کمال درخت سے چمٹ کر اپنی آنکھوں کے سامنے اس گھر کو بھی غائب ہوتا دیکھتا رہا جہاں وہ کام کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد پولیس اہلکار وہاں پہنچے اور اسے درخت سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ سیلاب اور ملبے کی زد میں آنے سے اس کی دائیں ٹانگ زخمی ہوئی، جبکہ ایک بڑا پتھر بھی اسے آ لگا۔
یہ تباہ کن سیلاب نیپال اور چین کے تبت سے متصل سرحدی علاقے میں آیا، جہاں پانی، کیچڑ اور پتھروں کے طوفانی ریلے نے بستیاں، سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیا۔ رائٹرز کے مطابق اس وقت کم از کم 95 افراد ہلاک ہوچکے تھے جبکہ سیکڑوں افراد، جن میں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، لاپتا تھے۔
Devastating Visuals from Flood in Nepal😳 pic.twitter.com/l3kagu6GAS
— Ghar Ke Kalesh (@gharkekalesh) August 26, 2026
اسپتال میں کمال کے ساتھ اس کا بھائی دِنیش بھی موجود تھا۔ دوسری جانب اسی اسپتال میں 11 سالہ ریحانہ لامیچھانے بھی زیر علاج تھی، جو اسکول سے گھر جاتے ہوئے اچانک آنے والے سیلاب میں پھنس گئی تھی۔
ریحانہ نے بتایا کہ سیلابی پانی اچانک اس وقت آیا جب وہ دریا عبور کر رہی تھی۔ اس کے سینے اور ٹانگ پر چوٹیں آئیں، مگر وہ زندہ بچ گئی۔ اس کی زبان پر سب سے زیادہ فکر اپنے دوستوں کی تھی۔ اس نے کہا ’میں محفوظ ہوں، اس پر خوش ہوں، لیکن مجھے نہیں معلوم میرے دوستوں کے ساتھ کیا ہوا‘۔
اس کی والدہ ریٹا نے بتایا کہ بیٹی کے سیلاب میں پھنسنے کی اطلاع ملتے ہی وہ اسے تلاش کرنے کے لیے دوڑ پڑی تھیں اور محفوظ دیکھ کر انہیں سکون ملا۔
🇳🇵 Disaster in Nepal..⚠️🚨
New Released video, captured more than 50 km downstream from the site of the glacier collapse, shows the rapid arrival of the flood wave, obliterating everything in its wake.#Nepal #NepalFlooding #Floods #Rasuwa #flasfloods #NepalFloods… pic.twitter.com/3Ofw8n7OBA
— sustainme.in® (@sustainme_in) August 27, 2026
نیپال ہر سال مون سون کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی آفات کا سامنا کرتا ہے۔ کمال خود بھی 2015 کے تباہ کن زلزلے سے بچ چکا ہے، جس میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مگر اس بار بھی جب ہر طرف موت اور تباہی تھی، ایک آم کا درخت 24 سالہ مزدور کے لیے زندگی کی آخری امید بن گیا۔














