27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست، سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے وصول کرنے سے انکار کردیا

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس نوعیت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جا سکتی ہیں۔

27 ویں آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کے لیے جسٹس (ر) شبر رضا رضوی کی جانب سے درخواست دائر کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست وصول نہیں کی۔ رجسٹرار آفس کا مؤقف ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ستائیسویں آئینی ترمیم کی گونج: ڈی جی آئی ایس پی آر کا افغانستان کو واضح پیغام

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کا آئین قانون ساز اسمبلی نے تشکیل دیا تھا اور 1973 کے آئین میں سپریم کورٹ کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت قرار دیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے مطابق موجودہ اسمبلی کسی صورت دستور ساز اسمبلی نہیں ہے، جبکہ آئین کے بنیادی خدوخال میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلامی ریاست میں کسی شخص کو تاحیات استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا اور عدلیہ کی آزادی کا براہ راست تعلق ججز کی تعیناتی سے ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے دراصل آئین کو پامال کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے کسی کو 27ویں آئینی ترمیم پر حیرانی اور پریشانی نہیں ہونی چاہیے، ایم کیو ایم پاکستان

درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے اور آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت دیے گئے تاحیات استثنیٰ کو بھی ختم کیا جائے۔ سپریم کورٹ اس سے قبل بھی 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک درخواست وصول کرنے سے انکار کر چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

کیا پاکستان چین سے دور ہوسکتا ہے؟ شبر زیدی کی پرانی ویڈیو کو تجزیہ کاروں نے مسترد کردیا

پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ، اب کیا ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ