پیزا بنائے گا روبوٹ یا انسان؟ مہنگے تجربات کے بعد مشینی پیزا کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پیزا بنانے کے لیے روبوٹ تیار کرنے کا خواب بظاہر جتنا مزیدار تھا، عملی دنیا میں اتنا ہی ’جل گیا‘۔ مہنگی مشینیں، بڑے دعوے اور کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود روبوٹک پیزا بنانے والی کئی کمپنیاں بند ہوچکی ہیں، جبکہ ماہرین اب بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پیزا کے تندور سے انسان واقعی رخصت ہونے والا ہے؟

برطانوی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کے شہر سیئٹل کے موٹو پیزا ریسٹورنٹ میں پیزا بنانے والے 2 روبوٹس بھی اسی ناکام تجربے کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ یہ مشینیں آٹا پہنچانے، ساس اور پنیر لگانے اور پیپرونی چھڑکنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں، لیکن رواں برس مئی میں ان کی سپلائر کمپنی ’پکنک‘ اچانک بند ہوگئی۔ کمپنی کے بند ہوتے ہی تکنیکی معاونت بھی ختم ہوگئی اور تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر مالیت کی مشینیں عملاً بے کار ہوکر رہ گئیں۔

موٹو پیزا کے بانی لی کِنڈل کے لیے یہ تجربہ خاصا مایوس کن تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب دوبارہ کسی ایسی کمپنی کے ساتھ شراکت داری کرنے کے بارے میں سوچنے سے بھی ہچکچا رہے ہیں۔

روبوٹک پیزا انڈسٹری میں پکنک واحد ناکام مثال نہیں۔ ’زومے‘، ’پازی‘ اور ’بیزل اسٹریٹ‘ سمیت کئی کمپنیاں یا تو بند ہوچکی ہیں یا اپنے منصوبے سمیٹ چکی ہیں۔ بظاہر فاسٹ فوڈ کو مشینوں کے ذریعے تیار کرنا آسان دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں پیزا بنانا روبوٹس کے لیے خاصا پیچیدہ ثابت ہوا ہے۔

بینک آف امریکا کی ریسٹورنٹ تجزیہ کار سارا سینیٹور کے مطابق ابھی تک وہ کامیابیاں سامنے نہیں آسکیں جن کی توقع کی جارہی تھی۔ ان کے بقول فوڈ روبوٹس بعض اوقات اجزا غلط جگہ گرا دیتے ہیں، جبکہ انسان حیرت انگیز رفتار اور مہارت سے پیزا تیار کرتے ہیں۔

تاہم ناکامیوں کے باوجود کِنڈل کا حوصلہ نہیں ٹوٹا۔ وہ اب اپنا پیزا روبوٹ تیار کر رہے ہیں، جو تھری ڈی پرنٹر کی طرز پر کام کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تجربہ کامیاب رہا تو 2027 کی گرمیوں تک یہ مشین مکمل طور پر فعال ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:روبوٹ کے ذریعے گردے کی کامیاب سرجری، یہ انسانوں سے بہتر ثابت ہوں گے، ماہرین

دوسری جانب کینیڈین کمپنی ’ایپیٹرونکس‘ نے امریکی ریاست اوہائیو کے کولمبس ایئرپورٹ پر 24 گھنٹے کام کرنے والی روبوٹک پیزا مشین نصب کردی ہے۔ کمپنی کا ہدف مستقبل میں ہر منٹ ایک پیزا تیار کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ساس لگانے کے عمل کو بھی 9.5 سیکنڈ سے کم کرکے تقریباً ڈیڑھ سیکنڈ تک لانے پر کام ہورہا ہے۔

لیکن سوال صرف رفتار کا نہیں، ذائقے اور انسانی لمس کا بھی ہے۔ کچھ ریسٹورنٹ مالکان اب بھی سمجھتے ہیں کہ پیزا صرف کھانا نہیں بلکہ ایک تجربہ ہے، جس میں گاہک اور انسان کے درمیان تعلق بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق روبوٹ شاید پیزا بنانے کے عمل کو تیز اور یکساں ضرور بنا دیں، لیکن مکمل خودکار ریسٹورنٹ کے راستے میں مشینوں کی ناکامی، لاگت اور انسانی رابطے کا فقدان بڑی رکاوٹیں ہیں۔

اس کے باوجود روبوٹک پیزا کے حامی پرعزم ہیں۔ لی کِنڈل کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ایک دن مکمل خودکار پیزا روبوٹ ضرور بنے گا، سوال صرف یہ ہے کہ اسے سب سے پہلے کون کامیاب بناتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ