پاکستان میں موبائل فون اسمبلنگ میں 102 فیصد اضافہ، حقیقی صنعتی ترقی کی علامت ہے؟

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں موبائل فون کی مقامی اسمبلنگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث ملک کی موبائل فون ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کم ہوا ہے۔ جولائی 2026 میں مقامی سطح پر موبائل فون اسمبلنگ میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 102 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد ملک کی موبائل فون طلب کا 97 فیصد حصہ مقامی پیداوار سے پورا کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل کیے گئے موبائل فونز کی تعداد بڑھ کر 3.90 ملین یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ جون میں یہ تعداد 1.93 ملین یونٹس تھی۔ یوں ایک ماہ کے دوران مقامی اسمبلنگ میں قریباً دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید پڑھیں:کیا اگلے بجٹ میں موبائل فون اسمبلنگ یونٹس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا؟

دوسری جانب موبائل فون درآمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ جولائی میں درآمد کیے گئے موبائل فونز کی تعداد کم ہو کر قریباً 1.1 لاکھ یونٹس رہ گئی، جو جون کے مقابلے میں 83 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا مقامی موبائل اسمبلنگ میں اضافہ پاکستان میں موبائل مینوفیکچرنگ کی حقیقی ترقی کی نشاندہی کرتا ہے یا یہ صرف درآمدی دباؤ اور عالمی مارکیٹ کی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے؟

آل پاکستان موبائل فون ایسوسی ایشن کے سربراہ میاں ذیشان کے مطابق مقامی اسمبلنگ میں اضافہ بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم ان اعداد و شمار کو مارکیٹ کے مکمل تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مقامی اسمبلنگ میں اضافہ صرف صارفین کی طلب بڑھنے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ عالمی سطح پر موبائل فون کے اہم کمپوننٹس، خصوصاً میموری اور دیگر پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی اس رجحان کو متاثر کیا ہے۔

میاں ذیشان کے مطابق عالمی مارکیٹ میں کمپوننٹس مہنگے ہونے کے باعث مکمل تیار شدہ موبائل فون درآمد کرنا کمپنیوں کے لیے نسبتاً زیادہ مہنگا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی سطح پر اسمبلنگ ایک زیادہ قابل عمل آپشن بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلنگ میں اضافہ اور مارکیٹ کی حقیقی ترقی کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق اگرچہ پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والے موبائل فونز کی تعداد بڑھی ہے، لیکن صارفین کی حقیقی طلب اور مارکیٹ کی مجموعی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

کیا پاکستان مکمل موبائل مینوفیکچرنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے؟

مقامی اسمبلنگ میں اضافے کے بعد ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں موبائل فون مکمل طور پر خود تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے؟

میاں ذیشان کے مطابق پاکستان میں اس شعبے میں آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم اسمبلنگ سے مکمل مینوفیکچرنگ تک کا سفر مرحلہ وار طے کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت موبائل فون کے کئی اہم کمپوننٹس اب بھی درآمد کیے جاتے ہیں، اس لیے اگلا مرحلہ ان پرزہ جات کی مقامی تیاری کے نظام کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایک واضح اور طویل مدتی کمپوننٹ لوکلائزیشن پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو مستقبل کی سمت واضح نظر آئے اور وہ موبائل فون کے مختلف حصوں کی تیاری میں سرمایہ کاری کر سکیں۔

اسمبلنگ کے بعد اصل چیلنجز کیا ہیں؟

اگرچہ مقامی اسمبلنگ میں اضافہ ہوا ہے، لیکن صنعت کو اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے میاں زیشان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسمبلنگ کا نظام تو قائم ہو گیا ہے، لیکن مکمل مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

ان کے مطابق صنعت کو آگے بڑھانے کے لیے موبائل فون کے پرزہ جات کی مقامی تیاری، ٹیکس پالیسی میں توازن، صارفین کے لیے موبائل فونز کی قیمتوں میں استحکام اور برآمدات کے لیے واضح حکمت عملی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں موبائل فون کی درآمدات میں 40 فیصد سے زائد اضافہ

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان موبائل فون انڈسٹری کو صرف اپنی مقامی مارکیٹ تک محدود رکھے گا تو اس کی ترقی محدود رہے گی۔ ضروری ہے کہ ایسی پالیسی بنائی جائے جس کے ذریعے پاکستان میں تیار یا اسمبل ہونے والے موبائل فونز کو علاقائی اور عالمی مارکیٹوں تک پہنچایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اصل کامیابی کیا ہوگی؟

ماہرین کے مطابق مقامی موبائل فون اسمبلنگ میں اضافہ پاکستان کے لیے ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ اس سے درآمدی بل کم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم طویل مدتی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان صرف موبائل فون اسمبل کرنے سے آگے بڑھ کر موبائل فون کے پرزہ جات کی مقامی تیاری اور برآمدی صلاحیت میں کتنا اضافہ کرتا ہے۔

میاں ذیشان کے مطابق موبائل انڈسٹری کی ترقی کو صرف اس بات سے نہیں پرکھنا چاہیے کہ کتنے فون پاکستان میں اسمبل ہوئے، بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ کتنی ویلیو پاکستان میں پیدا ہوئی، کتنے کمپوننٹس مقامی طور پر تیار ہوئے اور پاکستان کتنی پیداوار عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں